ٹرمپ کی جنگ کا مستقبل ؟

ٹرمپ کی جنگ کا مستقبل ؟

صدر ٹرمپ نے اپنی اقتصادی جنگ کا اعلان کر کے پوریدنیا کو الجھا دیا ہے ۔وہ ایک عرصے سے اس کے بارے میں بیانات دے رہے تھے اور ہر موقع پر اس کو ابھارتے بھی تھے لیکن عالمی دائرے میں یہ لگتا تھا کہ اصل عمل کے وقت بات چیت کا دروازہ کھولا جائے گا۔عمل کا اعلان ہو گیا اور دروازہ جوں کا توں رہا، نہ کھلا نہ بند ! اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اس جنگ کا مستقبل کیا ہوگا ؟کیا صاف جیت اور ہار ظاہر ہوگی؟جو اشاروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اس سے جیت اور ہار کا مقصد ہی نہیں ہے ! ٹرمپ کو تاریخ میں اپنی جگہ پختہ کرنی ہے ۔ان کو آنے والے دور میں وجود چاہئےاور وہ تبھی ممکن ہے جب امریکی عوام یہ محسوس کریں کہانہوں نے ٹرمپ کے ذریعے کچھ ٹھوس بدلاؤ دیکھا ۔اس کا اثر تو وقت بتائے گا۔ تب تک تاریخ درج ہو چکی ہوگی ۔عالمی اسٹیج پر ایک اقتصادی پہلو تھا جو دنیا میں ہر اختلافکو برطرف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ٹرمپ نے اس کو بھی اختلاف کا ایک ہتھیار بنا لیا ہے ۔یہ سچ ہے کہ آج کی دنیا اقتصادی سلسلے سے ہر نظریہ قائم کرتی ہے۔ دوستی، دشمنی اور رشتے سب اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کے ہاتھ میں اس کی عنان ہوگی وہ ہی سب کو ہانکے گا ! امریکہ نے اپنی دولت سے وہ باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں رکھی ہوئی تھی ۔اب اگر یہ ٹیکس کا ہتھیار لاگو ہوتا ہے تو وہ باغ ڈور کوسنبھالنا آسان نہیں ہوگا۔
ءاس میں دو رائے نہیں کہ ٹرمپ سودے کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہوں گے ۔مقصد ہے امریکہ کو فائدہ پہنچانا ۔اگر وہ سودےسے ہو تو اس کا استعمال ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کس کس دائرے میں سودے کرنے کی گنجائش ہے؟ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے ۔ابھی کسی نتیجے کا اندازہ لگانا نادانی ہوگی ۔حالات جو بھی ابھریں،ایک نقطہ ہر لیڈر کو نظر آئے گا ۔وہ یہ کہاس کی اپنے گھر میں کیا پوزیشن ہے؟کتنی مقبولیت ہے اور کتنا قابو ہے؟ انھیں پر کھڑے ہو کر وہ ٹرمپ کی جنگ میں شامل ہو سکے گا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Apr 4, 10:52 am

بنگلہ دیش کا رویہ

بنگلہ دیش کا رویہ


بنگلہ دیش کے یونس صاحب کا چین دورہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر رشتے کے لئے سمجھا جارہا تھا، لیکن وہاں پر جو زبان یونس صاحب نے بولی اس سے ان کا رویہ صاف ظاہر ہوگیا ۔وہ بنگلہ دیش کی حمایت سے زیادہ ہندوستان کی مخالفت کرنے پر زور دے رہے تھے۔یہ سمجھ آتی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو چین کے لئے اہم دکھانا چاہتے ہیں، لیکن یہ ہندوستان کے خلاف رویہ اختیار کر کے تو ہونے والا نہیں ۔یونس صاحب نوبل ایوارڈ کے حقدار ہو گئے،لیکن سفارتی ماہر بننے سے بہت دور ہیں ۔ہندوستان کی شمال مشرقی صوبوں کو لیکر ان کا جائزہ وہ خود ہی صحیح مانتے ہوں گے ۔بین الاقوامی جانکاری رکھنے والا تو ان سے اتفاق نہیں کر سکتا ۔ہندوستان کا ہر صوبہ اس کا ایک حصہ ہے جو کل ملک کی سہولیات کا حقدار ہے ۔جتنا بڑا ساحل ہندوستانسے وابستہ ہے اتنا تو بنگلہ دیش کا کل رقبہ بھی نہیں ہے ۔اس لئے بنگلہ دیش کو اپنی صفت پر دھیان دینا چاہئے جو بہت مشکل سے بیان کی جاسکتی ہے! یہ بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یونس صاحب کی اپنے گھر میں حالت خستہ ہے ۔اسلامی کٹرپنتھی عناصر ان کی گدی کو ہلا رہے ہیں۔ یونس صاحب کو بدیشی مدد لازمی ہے تاکہ وہ اپنی اہمیت کو برقرار رکھ سکیں ۔چین کے علاوہ کوئی دوسرا مددگار نظر نہیں آرہا۔ پاکستان ہاتھ بڑھانے کو تیار ہے، لیکن وہ انہیں کو حوصلہ دے گا جن سے یونس صاحب بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایک ہندوستان تھا جو توازن رکھنے کی طاقت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ تو پہلے ہی بنگلہ دیش نے فضا خراب کر لی!اس صورت میں بنگلہ دیش کے پاس بہت متبادل نہیں رہتے ! تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Apr 3, 10:39 am

چین سے بہتر تعلقات؟

چین سے بہتر تعلقات؟


صاف ظاہر ہو رہا ہے کہہند چین تعلقات بہتری کی طرف کروٹ لے رہے ہیں۔یہ بہت اچھی بات ہے ۔جس تیزی سے بین الاقوامی حالات تبدیل ہونے کے اشارے دے رہے ہیں، ان کو مد نظر رکھتے ہوئے لازمی ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوس کو مضبوط کرے اور نزدیک خوشگوار فضا کو حوصلہ دے ۔جہاں تک پاکستان کا سوال ہے اس کے ساتھ بہتری کی لگاتار کوششوں کے باوجود تعمیری نتیجہ نہیں دکھتا۔ اس کی بنیادی وجہ ہے پاکستان کا اپنا وجود اور نظریہ ۔اس نے شروع سے ہندوستان کے مخالف خود کو ڈھالا ۔اگر وہ ہندوستان کا مخالف نظر نہیں آئے گا تو اس کاوجود ہی نہیں رہتا۔ سات دہائی گزر گئے اور پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے،جہاں 1947 میں تھا ۔اس لئے اس طرف کوئی فرق پڑنے والا نہیں،لیکن چین کو عالمی فضا کا احساس ہے اور وہ اس میں اہم رول ادا کرنے کی اہمیت سمجھتا ہے ۔اس لئے ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات اس کے لئے اتنے ہی لازمی ہیں جتنے ہندوستان کے لئے ہیں۔ جو اقدام اٹھائے جا رہے ہیں وہ ضروری ہیں۔اس سلسلے میں یہ خیال رکھنا لازمی ہے کہ چین اپنی پرانی فطرت آسانی سے بدلے گا نہیں۔ اس نے ہندوستان کی زمین پر نظر اور نیت رکھی اور آج بھی رکھتا ہے ۔جو بھی بہتری کے لئے قدم لئے جائیں ان کے ساتھ حفاظت اور سلامتی کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کو مضبوط بنانےکیلئے جو تجویزیں سرگرم ہیں وہ جاری رہیں گی، بلکہ ان کو زیادہ تیزی سے لاگو کرنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔چین دوست بن سکتا ہے لیکن قابل اعتبار نہیں بنے گا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Apr 2, 6:53 am

کیا ٹرمپ ضرورت سے زیادہ مسئلے کھڑے کر رہے ہیں ؟

کیا ٹرمپ ضرورت سے زیادہ مسئلے کھڑے کر رہے ہیں ؟

امریکہ کے صدر ڈونالڈٹرمپ دنیا سے ناراض لگتے ہیں۔وہ جہاں ہو سکتا ہے کوئی نہ کوئیمسئلہ کھڑا کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کرتے! یہ سچ ہے کہ ان کو لگتا ہوگا کہ امریکی عوام نے ان کو پچھلی دفعہ صدارت نہ دے کر ان سے نا انصافی کی ۔وہ اس دفعہ ایسا سوچ سکتے ہیں کہ اب لوگوں کو ان کی غلطی محسوس ہوئی، تبھی وہ ٹرمپ کو واپس لائے ہیں ۔اس کے لئے وہ اپنے لوگوں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے لئے کیا کمال کر سکتے ہیں!امریکہ کو دوبارہ مہان بنانے کا نعرہ اسی مقصد سے ابھارا گیا ۔سوال یہ اٹھا ہے کہ کیا ٹرمپ نے ضرورت سے زیادہ مسئلے کھڑے کر لئے ہیں ؟ہر مدعے کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بدیشی پالیسی میں جو ہنگامہ مچا وہ تو سمجھ آتا ہے،لیکن ملک کے اندر جو اتھل پتھل کی جارہی ہے، اس کا نتیجہ تصور کرنا آسان نہیں ۔طلباء کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بدیشی طلباء بھلے محض تعلیم کے ارادے سے وہاں موجود ہوں، لیکن ان اداروں کی سرگرمیوں میں شرکت فطری ہے ۔یہی امریکی اداروں کو ان کا درجہ اور بین الاقوامی رتبہ دیتی ہے ۔اگر اس پر پابندی لگے گی یا نشانہ بنایا جائے گا، تو اس کا اثر خراب ہونا فطریہے ۔اس کے علاوہ سرکاری ملازمین میں بھاری پھیر بدل اور لوگوں کو نوکری سے بےدخل کرنا بنیادی طور سے ملک اور سماج کے اقتصادی پہلو پر گہرا اثر ڈالے گا ۔یہ امریکہ کے اندرونی فضا کے لئے اچھا کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ چند ایسے لوگ ہوں جو ملک کی خفیہ اور اہم جانکاری رکھتے ہوں۔ اب اگر وہ بے روزگار ہوں گے تو غیر قانونی پہلو ابھرنے حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہئے ۔بیانات کے لئے سرکاری خرچ میں کمی لانے کی بات بہت اچھی لگتی ہے لیکن بے لگام کاروائی بہتری کی جگہ نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ اگر ٹرمپ اپنی تجویزوں میں کامیاب نہیں ہوتے اور بیچ میں چھوڑ دیتے ہیں تو وہ جس عظمت کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ بدنامی میں تبدیل ہو سکتی ہے! نوین


Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Apr 1, 7:31 am

نوراتری تیوہار میں بھکتی

نوراتری تیوہار میں بھکتی

آج چیت کے نوراترے شروع ہو گئے ہیں۔شکتی کی پوجا کرتے ہوئے بھکت پرارتھنا کرتا ہے کہ وہ اس زندگی کے دوران انسانیت سے وقت بسر کرے اور ہر پل آدی شکتی کی کرپا کو قبول کرتے ہوئے گزارے ۔اس کے لئے بنیادی طور پر یقین اول ہے۔کسی بھی عقیدے کا وجود وشواس ہوتا ہے اور اس کے بغیر عقیدہ بے معنی سا لگتا ہے ۔نوراتری کا تیوہار ہمارے وجود کو اہمیت دیتا ہے اور اس کو زندگی جینے کا سبق پڑھاتا ہے۔کیا ہم نے عقیدہ مضبوط کرتے ہوئے یقین کو بھی مضبوطی دی ہے ؟ اس کاجواب ہر بھکت کو خود دینا ہوگا ۔رسمیں بہت ہیں ۔شور بہت ہے ۔بھیڑ بہت ہے ۔جشن بہت ہیں۔ ان سب کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کے طریقے بھی بہت ہیں ۔صرف اپنے اندر کی شکتی کا جائزہ لینے کا کوئی سلسلہ نہیں ! ہم اپنے تیوہاروں کو اپنی برتری دکھانے کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں ۔اس سے اپنی آتما اور اپنی بھکتی کو طاقت دینے کا پہلو نظر انداز ہونے لگا ہے۔ تیوہار میں رسموں کا شور ہے، لیکن جذبات خاموش ہیں ۔یہ نہ بھکت کے لئے اچھا ہے نہ تیوہار کے لئے ۔دوسروں پر پابندیاں، اپنی طاقت کی نمائش اور زبردستی کا رسوخ ہندوتو کے اصولوں کے برعکس ہے ۔یہ ہماری تہذیب کے خاکے میں نہیں آتا ۔پھر بھی ہم اس کو ہندوستانیت کا لباس پہنا کر ہندوتو کا نام دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔نوراتروں کا تیوہار آتما کو پرماتما کے نزدیک لیکر جانے کا موقع ہے ۔اس کو بے معنی چیزوں میں کھو دینا نادانی ہوگی ۔نومی کے روز بھگوان رام کا جنم دن منایا جائے گا - اگر اس سے پہلے ہم مریادہ کا سبق نہ سیکھ سکے تو اس روز کیسے جشن کا حصہ ہو سکیں گے؟اپ سب کو نوراتری مبارک ہو ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Mar 29, 9:20 am

مذہب، حب الوطنی اور ہندوستانیت

مذہب، حب الوطنی اور ہندوستانیت

ایسا ظاہر ہونے لگا ہے کہ مذہب ہی حب الوطنی کا ثبوت دیتا ہے!یہ بنیادی سوچ غلط ہے اور اسعکسکو حوصلہ دینا درست نہیں!نہ عوام کے لئے نہ ملک کے لئے!اس میں دو رائے نہیں کہ مذہب ہماری تہذیب کی بنیاد ہے ۔اکثریت تہذیبوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے،لیکن وقت کے ساتھ تاریخ نئے پہلو جوڑ دیتی ہے جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ان سب کو بھی شامل کر کے ہی حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔یہ ٹھیک ہے کہ سیاسی طور سے مذہب کا مدعا اہم ہے اور اس کے ذریعے فائدہ بھی دیکھا گیا ہے،لیکن فائدہ کب نقصان میں تبدیل ہونے لگے، اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ یہ بھیبالکل ٹھوس ہے کہ اچھا بھکت اچھا شہری ہوسکتا ہے ۔دیش بھکتی کو پربھو بھکتی کا پہلا قدم مانا جانا چاہئے ۔سوال تب اٹھتا ہے جب کہ بھکتی اور پربھو کی ترجمانی کو لیکر اختلاف کھڑا ہونے لگے ۔پھر نتیجہ یہ ہونے لگتا ہے کہ ایک مذہب اور ایک بھکتی کا انداز ہی جائز مانا جاتا ہے اور دوسرے غداری کی دہلیز پر کھڑے کئے جانے لگتے ہیں۔یہ بالکل غلط سوچ ہے اور کوئی مذہب ،کوئی سوچ، کوئی تہذیب اور نہ کوئی یقین اس کی اجازت دیتا ہے!یہ نہایت لازمی ہے کہ مذہب کی شرکت پر نظر رکھی جائے اور اس کو اتنا حوصلہ دیا جائے جتنا وہ ملک کے فائدے کے لئے ہو ! کیا عالمی لیڈر ایسا غور کرنے کوتیار ہیں ؟عام انسان کو تو ضرور کرنا چاہئے ! نوین


Editor Name: نوین Updated: Friday, Mar 28, 1:42 pm

دہلی سرکار سے امیدیں

دہلی سرکار سے امیدیں

بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی سرکار نے اپنا بجٹ پیش کیا اور عوام کی امیدوں کو نیا حوصلہ دیا۔ امیدیں تو سابق’آپ‘سرکار سے بھی تھیں جس کو عوام نے بار بار اقتدار دیا ۔یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ کوئی کام نہیں ہوا، لیکن جو امیدیں بنتی ہیں وہ پوری نہ ہوں تو مایوسی ہونا فطری ہے ۔ابنئی بھاجپاسرکار سے بھی بہت سی امیدیں اٹھ رہی ہیں ۔تبھی تو عوام نے آپ سرکار کو ردکرکے بھاجپاکو اقتدار دیا ۔بجٹ حرف آخر نہیں کہا جاسکتا، لیکن اس سے سرکار کے ارادوں کا اشارہ ضرور ملتا ہے ۔یہ بھی ظاہر ہے کہ بھاجپا کے ارادے اچھے ہیں اور وہ ان سب تجویزوں کو حقیقت کی شکل دینا چاہتی ہے ۔یہ آپ سے نا انصافی ہو گی اگر آپ سرکار کی تجویزوں کو ٹھیک نہ کہا جائے ۔وہ بھی درست تھیں، لیکن آپ نے یہ باتکئی بار کہی کہ مرکز کی دخل اندازی نے اس کو اپنا کام کرنے نہیں دیا!یہ تو بھاجپا اور آپ ہی جانتے ہیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ!اتنا ضرور ہےکہ اب بھاجپا کے پاس ایسا کوئی بہانہ نہیں ہو گا۔دونوں سطح پربھاجپااقتدارمیںہےاور یکساں پالیسی رکھتی ہے۔کیا اب دہلی کے لوگوں کی امیدیں پوری ہوں گی؟بھاجپاکو یاد رکھنا ہوگا کہ اب بھی اگر خامی رہی تو عوام بے زار ہو سکتے ہیں ۔اس کا اثر وسیع دائرے پر ہونا ممکن ہے۔ کون سی امید کیسے پوری کرنی ہے، یہ سرکار جانتی ہے۔لازمی یہ ہے کہ کوشش ابھر کر ظاہر ہونی چاہئے ۔بہانے اثردار نہیں ہوں گے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Mar 27, 9:30 am

دہلی سرکار سے امیدیں

دہلی سرکار سے امیدیں

بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی سرکار نے اپنا بجٹ پیش کیا اور عوام کی امیدوں کو نیا حوصلہ دیا۔ امیدیں تو سابق’آپ‘سرکار سے بھی تھیں جس کو عوام نے بار بار اقتدار دیا ۔یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ کوئی کام نہیں ہوا، لیکن جو امیدیں بنتی ہیں وہ پوری نہ ہوں تو مایوسی ہونا فطری ہے ۔ابنئی بھاجپاسرکار سے بھی بہت سی امیدیں اٹھ رہی ہیں ۔تبھی تو عوام نے آپ سرکار کو ردکرکے بھاجپاکو اقتدار دیا ۔بجٹ حرف آخر نہیں کہا جاسکتا، لیکن اس سے سرکار کے ارادوں کا اشارہ ضرور ملتا ہے ۔یہ بھی ظاہر ہے کہ بھاجپا کے ارادے اچھے ہیں اور وہ ان سب تجویزوں کو حقیقت کی شکل دینا چاہتی ہے ۔یہ آپ سے نا انصافی ہو گی اگر آپ سرکار کی تجویزوں کو ٹھیک نہ کہا جائے ۔وہ بھی درست تھیں، لیکن آپ نے یہ باتکئی بار کہی کہ مرکز کی دخل اندازی نے اس کو اپنا کام کرنے نہیں دیا!یہ تو بھاجپا اور آپ ہی جانتے ہیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ!اتنا ضرور ہےکہ اب بھاجپا کے پاس ایسا کوئی بہانہ نہیں ہو گا۔دونوں سطح پربھاجپااقتدارمیںہےاور یکساں پالیسی رکھتی ہے۔کیا اب دہلی کے لوگوں کی امیدیں پوری ہوں گی؟بھاجپاکو یاد رکھنا ہوگا کہ اب بھی اگر خامی رہی تو عوام بے زار ہو سکتے ہیں ۔اس کا اثر وسیع دائرے پر ہونا ممکن ہے۔ کون سی امید کیسے پوری کرنی ہے، یہ سرکار جانتی ہے۔لازمی یہ ہے کہ کوشش ابھر کر ظاہر ہونی چاہئے ۔بہانے اثردار نہیں ہوں گے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Mar 27, 9:30 am

امریکہ میں سکیورٹی پر فحش غلطی

امریکہ میں سکیورٹی پر فحش غلطی


ٹرمپ انتظامیہبڑی تبدیلیاں عمل میں لارہا ہے لیکن اس کے دوران اگر غلطی ہو تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟یہ ٹھیک ہے کہ غلطی کہیں اور کسی سے ہو سکتی ہے ۔جب تک یہ طے ہے کہ غلطی ہی تھی تب تک درستی بھی ہو سکے گی ۔مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے اگر عمل غلطی نہ ہو کر کسی دوسرے ارادے سے کیا گیا ہو!امریکہ میں حالیہ معاملہ تو غلطی ہی ظاہر ہوتا ہے۔صرف ایک پہلو ہے جو قابل غور ہے اور وہ یہ کہ کیا امریکہ اپنے خاص انداز میں یورپ کو پیغام دے رہا تھا؟ کیا ٹرمپ انتظامیہ ایک غلطی کے ذریعے یورپ کے لیڈروں کو خبردار کرنا چاہتا تھا کہ وہ کس رخ پر گامزن ہیں ؟اس سے آئندہ کے لئے بات چیت میں یورپ کو ہوشیار رہنا ہوگا ورنہ انجام مشکل پیدا کر سکتا ہے ۔یہ کوئی چھپی بات نہیں کہ ٹرمپ اپنے دوسرے دور کی بنیاد اس پر قائم کئے ہوئے ہے کہ دنیا نے امریکہ کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے ۔اب وہ نہیں ہوگا اور باقی ملکوں کو اسکی بھرپائی کرنی ہوگی ۔اس نظریئے سے یہ فحش غلطی امریکہ کے لئے بات چیت میں سہولت دے سکتی ہے ۔ان سب پہلوؤں کے باوجود یہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ تکنیکی ترقی بہت آرام دے رہی ہے لیکن وہ پیچیدگیاں بھی پیدا کرتی ہے جو حل کرنی آسان نہیں ہوتیں ۔وقت بتائے گا کہ ٹرمپ انتظامیہکس پلڑے میں تھا؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Mar 26, 9:27 am

مذاق اور مخالفت

مذاق اور مخالفت


مہاراشٹر میں مذاق کے مدعے کو لیکر جو مسئلہ پیداہواہےوہ حیران کن نہیں،لیکن دُکھ دایک ضرور ہے ۔ہماری تہذیب میں مذاق کا اپنا درجہ رہا ہے ۔قدیم دور میں راجہ مہاراجہ اپنے دربار کے اندر مذاق کرنے والے خاص لوگ رکھتے تھے جو بڑے سادے انداز میں زندگی کی حقیقت بیان کرتے تھے ۔اس کے لئے اکثر راجہ یا حکمراں کو بھی نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن اس کو ہلکے نظریئے کے ساتھ قبول کیا جاتا تھا۔ ایسے حکمران بھی تھے جو مذاق کو برداشت نہیں کرتے تھے اور سزا دیتے تھے ۔وہ حاکم تاریخ میں مقبول نہیں مانے گئے ۔آج کیوں وہ ماحول بنایا جارہا ہے جس میں مذاق کو جرم دیکھا جانے لگا ہے ؟ اس سے صرف ایک نقطہ ابھرتا ہے اور وہ یہکہ وہ جو حکومت کے ذمہ دار ہیں، کمزر ہیں اور اسی وجہ سے سرکاری طاقت استعمال کرکے اپنا نظریہ جائز قرار دینا چاہتے ہیں۔یہ جمہوریت کے لئے اچھی بات نہیں! تاناشاہی کے اندر یہ عام بات ہوتی ہے لیکن جہاں انسانی حقوق وزن رکھتے ہوں وہاں ایسا ماحول تصور سے باہر ہے ۔یہ اپنی جگہ درست ہے کہ مذاق کا معنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی کو بھی کچھ کہنے کی اجازت ہے!یہ غیر مہذب ہے !لیکن کیا مہذب ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ کون کرے؟ یہی جمہوریت کی پیچیدگیاں ہیں جن میں سے حقیقت کو ابھارنا لازمی ہوتا ہے۔ بلڈوزر چلانا موت کی سزا دینے کی طرح ہو سکتا ہے ۔بعد میں اس کی بھرپائی کرنی مشکل ہوتی ہے ۔اس لئے سزا دینے سے پہلے مکمل غور لازمی ہے اور درستی کی گنجایش بھی ضروری ہوتی ہے - یہی اچھے حاکم کی نشانی مانی جاتی ہے۔ نوین
Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Mar 25, 10:24 am

سنیتا ولیمز کا سواگت اور انکا نظریہ

سنیتا ولیمز کا سواگت اور انکا نظریہ


ہند نسل کی سنیتا ولیمس کا واپس زمین پر لوٹنا پرماتما اور سائنس کے معجزے سے کم نہیں! دونوں کی کرپا سے ہی یہ ممکن ہوا ۔اتنی دیر خلاء میں رہنے کے بعد مکمل طور سے لوٹنا کوئی معمولی بات نہیں ۔ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے قدرت کا کوئی مقصد ہوگا۔ہماری تہذیب اور وشواس ایسا ہی سندیش دیتے ہیں ۔سنیتا ولیمس نے خلاء سے جب زمین کو دیکھا تو انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ساری دنیا ایک ہے ۔الگ الگ ملک اور الگ الگ سرحدیں ہم نے تیار کی ہیں ۔اس نے تو انسان بھیجا تھا ہم نے علیحدگی کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔آج اس مدعے پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔سنیتا ولیمس کو جو خلاء میں احساس ہوا وہ ہر انسان کو اپنے آس پاس کرنا ہوگا اور ہو بھی سکتا ہے ۔صرف جو بےمعنی کی دیواریں کھڑی کی ہیں ان کے اوپر سے جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ایسا نہیں کہ علیحدگی کا کوئی وجود نہیں!وہ اپنی جگہ ضروری ہے لیکن اس کو کس حد تک ابھرنا ہے، یہ سوچنا بھی لازمی ہے۔ کیا سنیتا ولیمس کی سوچ کو ہم روز مرہ زندگی میں ڈھال سکتے ہیں ؟اس کا اول فرض سیاسی اور مذہبی لیڈروں پر آتا ہے ۔انھیں دو دائروں نے جتنا انسان کو بانٹا ہے، شاید کسی دوسرے نے نہیں کیا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Mar 24, 10:29 am

پاکستان کا بلوچستان مسئلہ

پاکستان کا بلوچستان مسئلہ

پاکستان کا سرکاری اور فوجی دائرہ بلوچستان کو ایک مسئلہ ماننا چاہتے ہیں جس کا حل وہ زور زبردستی کے ساتھ نکالنے کا دعویٰبھی کرتے ہیں ۔ظاہر ہےکہ یہ دائرہ اصلیت کو دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے اس کو اپنی خامی اور کمزوری سے روبروہ ہونا پڑتا ہے ۔پاکستان نے شروع سے اپنا وجود ایک ایسی سوچ پر قائم کی جس کو اکثریت نے قبول نہیں کیا ۔ہندوستان سے مسلمانوں کو الگ ملک دینے کی بات اکثریت مسلمانوں کو بے معنی لگتی تھی اور آج بھی لگتی ہے۔ اسی طرح کشمیر پر حق کا بےمعنی پرچم اٹھایا گیا جس کو کشمیر نے اور دنیا نے قبول نہیں کیا ۔جو حصہ زور زبردستی اور دھوکے سے لیا گیا، وہ آج تک تکلیف برداشت کر رہا ہے اور بےزار ہے۔ اسی طرح بلوچستان کو بھی ساتھ شامل کرنے کی سازش کی گئی ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا انجام دردناک اور دُکھدایک ہوا ۔اپنی کمزوری کو پوشیدہ رکھنے کے لئے پاکستانی حاکموں نے اس علاقے کو چین کے حوالے کر دیا ۔نقاب یہ پہنایا گیا کہ علاقے کی ترقی ہو گی، جب کہ علاقہ چینی ملکیت کی طرح ابھرنے لگا ۔پاکستانی قانون کا وجود بھی بےمعنی نظر آتا ہے ۔اس صورت میں جو تشدد کی راہ ابھری وہ حیران کن نہیں کہی جائے گی۔پاکستانی حکومت نے اپنے لوگوں کی بہتری نہیںکہ تو وہ بلوچ عوام کی بہتری کیسے کر سکتے تھے ؟عوام کا غصہ کیا شکل احتیار کرے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔پاکستان ہندوستان کو بھی اس کا حمایتی نہیں مان سکتا۔وہ ہندوستان کو مسلمانوں کے خلاف مانتا ہے، پھر بلوچستان کا حمایتی کیسے ہوسکتا ہے؟ہندوستان انسانیت اور انسانی حقوق کے حق میں ہے اور یہ پاکستان کی سرکار اپنے شہریوں کو مہیا نہیں کرواتی تو دوسروں کے لئے کیا امید کی جاسکتی ہے ؟ہندوستان کے لوگ صرف ہمدردی کا اظہار کر سکتے ہیں اور درد کا احساس کرتے ہیں ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Mar 21, 10:43 am

کسانوں کے مسئلےسیاست کی بلی

کسانوں کے مسئلےسیاست کی بلی


کوئی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ کسانوں کےمسئلےہیں جن پر غور اور حل لازمی ہے،لیکن یہ سب سیاست کی بلی چڑھ رہے ہیں۔ پہلے کسانوں نے احتجاج کیا تو وہ ایک عرصے تک چلنے کے بعد ختم ہو گیا ۔چناؤ اور لگاتار احتجاج نے اس کا وزن گنوا دیا ۔چناؤ کے بعد نتائج نے کسانوں کو اپنے اندر غور کرنے پر مجبور کیا ۔تب بھی معاملہ ابھارا جاسکتا تھا اگر کسان بنیادی طور سے اپنے مدعوں پر قائم رہتے ۔ایسا لگتا ہے کہ وہ سیاست میں الجھ گئے اور اپنا نصب العین کھو بیٹھے۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کوئی بھی احتجاج بغیر بات چیت کے بے معنی ہو جاتا ہے۔کسانوں نے اس طرف دھیان نہیں دیا۔ شاید وہ سیاست کا نقاب پہن کر اپنی لڑائی آسان بنانا چاہتے تھے ۔لڑائی بھی ختم ہو گئی اور حاصل کچھ نہیں ہوا ۔پنجاب سرکار کسانوں کو حوصلہ دے رہی تھی یا نہیں، یہ تو وہ دونوں ہی جانتے ہیں !اب پنجاب سرکار ان سے دوری بنا رہی ہے۔ چناؤ میں آپ کو فائدہ ہونا تو دور کی بات ہے، نقصان ضرور ہو گیا ۔شاید وہ وہی ماحول پنجاب میں پیدا نہیں ہونے دینا چاہتی!اس سارے تماشے میں کسان اور زراعت کو نقصان ہوا۔ اب بھی وقت ہے کہ کسان اور سرکار صحیح انداز سے بات چیت شروع کریں اورمسئلہحل کرنے کی طرف دھیان دیں نہ کی سیاست کے داؤ پیچ پر ! کیا ایسا ممکن ہوگا؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Mar 20, 9:15 am

ناگپور میں تشدد

ناگپور میں تشدد


ناگپور میں جو تشدد ہوئی وہ کسی بھی صورت سے قبول نہیں کی جاسکتی۔جو بھی جذباتی نقطے پیش کئے جائیں،وہ اس طرح کے حالات کی اجازت نہیں دیتے ۔اس میں بہت سوجھ بوجھ کی ضرورت نہیںکہ یہ سیاسی معاملہ ہے اور اسی مقصد سے انجام دیا جارہا ہے ۔بحث اس پر ہوسکتی ہے کہ کس نظریئے سے اور کون اس کا اصل سازش کروانے والا ہے ؟یہ بھی بالکل سچ ہے کہ اس کی اصلیت کبھی بھی ظاہر نہیں ہوگی ۔بھلے کتنے قانون لاگو ہوں یا حفاظتی قدم لئے جائیں، سازش کی جڑیں اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ ان کو نکالنا ممکن ہی نہیں ہوتا ۔یہ بھی سچ ہے کہ جن پر نکالنے کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہی، اکثر،اس کے رچنے والے ہوتے ہیں۔کسی ایک پارٹی کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نادانی ہوگی اور حقیقت سے آنکھ چرانا ہوگا ۔سیاست کے داؤ پیچ ہر پارٹی اور واقعہ میں یکساں ہوتے ہیں ۔صرف نام اور نظریے بدلتے ہیں ۔بنیادی چیز جو ہمیشہ رہتی ہے، وہ ہے عام انسان کو نقصان اور تکلیف!حیرانی کی بات یہ ہے کہ سیاست اسی عام آدمی کے نام پر کھیلی جاتی ہے اور وہی اس کا شکار بنتا ہے! کیا اس سے بڑی ستم ظریفی ہو سکتی ہے ؟چاہے ناگپور ہو یا کوئی دوسری جگہ، ایسی سازشیں ملک اور عوام کے لئے دردناک ہیں ۔ان کو بند کرنے اور روکنے کے لئے عوام کو ہی سرگرم ہونا چاہئے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Mar 19, 9:11 am

پنجاب پر سخت نظر لازمی

پنجاب پر سخت نظر لازمی

پنجاب سے جو اشارے آرہے ہیں وہ اچھے نہیں!ایک عرصے سے خالصتان کے حمایتی تناؤ اور تشدد کو حوصلہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔صوبے کا سیاسی ماحول اس میں سہولت دیتا لگتا ہے ۔اس کے لیے ایک پارٹی کو قصوروار قرار دینا نادانی ہوگی۔سبھی سیاسی پارٹیاں اس چنگاری کو ہوا دےرہی ہیں۔ بھلے ہی ظاہری طور پر ایساکرنے کا سلسلہ نہ ہو! اکالی دل میں اختلاف اس تصویر کو زیادہ پیچیدہ بنانے میں مددگار ہے ۔آپ سرکار کی اندرونی خامیاں انتظامیہکو مشکل بناتی ہیں۔کانگریس میں علاقائی لیڈر کی کمی نے پارٹی کے مختلف دعویداروں کو امیدیں دی ہیں ۔بھا جپا اس موقع میں ہے کہ جب سب پارٹیاں اپنے اندرونی پریشانیوں میں الجھی ہوں گی تو عوام کے لئے بھا جپا ہی واحد متبادل ہو گا ۔لیکن اس کے لئے کوئی ٹھوس چہرہ ابھر کر نہیں آیا ۔ان سب کے ساتھ بدیشوں میں تبدیلی نے ہندوستان کے اندر خالصتانی عناصر کو سرگرم کرنے کی وجہ دے دی ہے۔تبھی تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ امرتسر کے مندر میں بم پھینکنے والے کو زندہ پکڑا نہیں گیا ۔اس سے گہری سازشوں کا اشارہ مل سکتا تھا ۔صوبے اور مرکز کے خفیہ دائرے کو تیزی اور ہوشیاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔حالات فوراً سنبھالے نہ گئے تو فضا بگڑتی جائے گی جو ملک کے لئےنقصان دایک ہو سکتا ہے ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Mar 18, 10:32 am

پردھان منتری جی کا نظریہ

پردھان منتری جی کا نظریہ


پردھان منتری مودی جی نے حال میں ایک بدیشی انٹرویو کے ذریعے مختلف مدعوں پر اپنا نظریہ پیش کیا ۔یہ پوری دنیا کے لوگوں کے لئے حاصل ہوگا اور ہندوستان کی سوچ کو بین الاقوامی اسٹیج پر نمایاں طریقے سے بیان کرے گا۔ اول نکتہ یہ ہے کہ اس سے مودی جی کی عالمی اہمیت کا احساس کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے محض ہندوستان پر خیالات نہیں دیئے،بلکہ دنیا کے بیشتر مدعوں پر اپنی رائے دی جو عالمی دائرے میں وزن رکھتی ہے ۔اگر دنیا کے لوگ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ہندوستان کا رہنما کیا رائے رکھتا ہے تو یہ اپنےآپ میں بڑی بات ہے ۔وہ دور بھی تھا جب ہندوستان کی رائے محض ا س کے پڑوس تک دیکھی جاتی تھی اور وہ بھی کوئی دوسرا ملک وزن ڈالتا تھا ۔اب بدلاؤ صاف نظر آتا ہے ۔ہندوستان کی سرکار کیا رویہ اختیار کر رہی ہے اور کس سے کیا کہتی ہے، اثردار ہوتا ہے ۔اس سے حالات اور اثر رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اگر ہندوستان کو یہ درجہ حاصل ہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہند خود عالمی مرکز بن کر مدعوں کو ترتیب دے گا ۔یہ ایک رات میں نہیں ہوتا ۔برسوں کا سلسلہ اس کے پیچھے ہوتا ہے، لیکن اس کو کیسے ابھارنا ہے، وہ رہنمائی کی قابلیت ظاہر کرتی ہے ۔اگر ہندوستان کا پردھان منتری ایسا رتبہ قائم کر سکا ہےکہ اس کی سوچ بین الاقوامی اسٹیج پر لازمی ہو تو اہل ہند کے لئے فخر کی بات ہے ۔اس کو مضبوطی دینے کیلئےضروری ہے ملک کے اندر ترقی کو تیز کرنا تاکی طاقت زیادہ ہو ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Mar 17, 10:32 am

تامل ناڈو اور مرکز کے بیچ ٹکراؤ

تامل ناڈو اور مرکز کے بیچ ٹکراؤ

زبان کو لیکر تامل ناڈو سرکار اور مرکز کے بیچ ٹکراؤ کوئی نیا نہیں ۔جو شکل اب اختیار ہوتی نظر آرہی ہے وہ کسی بھی انداز سے صحیح نہیں مانی جاسکتی۔اس میں دو رائے نہیں کہ زبان کو زبردستی لاگو کرنے سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ قومی زبان کی اہمیت ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہدونوں طرف سیاست کھیلی جارہی ہے ۔سب اپنا اپنا داؤ حب الوطنی کے نقاب میں بیان کر رہے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ داؤ عوام کے نام پر چلے جاتے ہیں اور سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے ۔جو عام لوگ روز مرہ زندگی کی پریشانیوں سے لڑ رہے ہیں ۔ان کو کیا فرق پڑتا ہے کہکون سی زبان میں اس کی ترجمانی کی جارہی ہے ؟وہ تو اس زبان کو پہچانیں گے جس میں ان کا حل بیان ہو! وہ کسی بھی زبان میں ہوتا نہیں۔ تامل ناڈو سرکار نے بجٹ میں روپئےکا نشان بدل کر یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ وہ ہندی کو رد کر سکتے ہیں ۔اس سے محض ایک نشان کی بات نہیں بلکہ ملک کے اتحاد اور یکتا کا سوال پیدا ہو سکتا ہے!کیا یہ تامل سوچ کے مطابق ہوگا ؟نہیں! ظاہر ہے کہ سیاست کو اس حد تک لےجانا چاہئے جہاں تک اس کا فائدہ ہو نہ کہ نقصان ہونے لگے ۔مرکز کو بھی بہت سوجھ بوجھ سے رویہ اختیار کرنا ہوگا ۔صرف اپنا مدعا رکھنے کے لئے زور لگانا کوئی سمجھداری نہیں کہلائے گی۔ سیاست کے لئے بہت مدعے ہیں۔ ملک کی ایکتا سے کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Mar 15, 9:23 am

ہولی کا تیوہار اور ہماری تہذیب

ہولی کا تیوہار اور ہماری تہذیب

آج ہولی کا تیوہار بہت دھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔کل ہولیکا جلائی گئی اور آج رنگ کھیل کر بھکتی کا جشن منایا جاتا ہے ۔ہولی ہماری تہذیب کا انمول بیان ہے ۔اس کے ذریعے ہندوستانیت کی جو تصویر ابھر کر آتی ہے وہ قابل غور ہی نہیں،بلکہ روزانہ زندگی میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ہولی رنگوں کا تیوہار ہے۔ رنگ کی خوبصورتی تب ابھرتی ہے جب اس میں الگ الگ رنگ شامل ہوں ۔ایک ہی رنگ دل پر وہ اثر نہیں چھوڑتا جو مختلف رنگ ملا کر چھوڑتے ہیں ۔یہی ہولی ہے اور یہی ہندوستان کی بنیاد ہے۔مختلف زبانیں، مختلف ذائقے، مختلف لباس، مختلف تیوہار، مختلف ناچ گانے اور مختلف رسمیں ۔یہ سب مل کر ہندوستانیت کو وجود دیتے ہیں جس کو کل دنیا حیرانی سے دیکھتی ہے ۔اس گلدستے کو برقرار اور ہرا بھرا رکھنا ہی حب الوطنی کی اعلیٰ مثال ہے ۔اس میں ہر ہندوستانی کا یوگدان ہے اور اہمیت ہے! کوئی برتر یا کمتر نہیں ۔ہولی کو مناتے ہیں ان الفاظ کا آنند لیتے ہوئے۔
ورنداون میں بھرے پچکاری
اودھ میں اُڑائے گلال
کہیں راس کرے مراری
کہیں مریادہ کا رکھے خیال
کہیں ہولیکا کی اڑا دے چنری
اور پرہلاد کو لیتا سنبھال
ہر رنگ میں تیری کاریگری
وقت کا ہر پل تیرا کمال
نوین


Editor Name: نوین Updated: Thursday, Mar 13, 9:19 am

پردھان منتری ماریشس میں

پردھان منتری ماریشس میں


پردھان منتری نریندرمودی ماریشس گئے تھے۔وہاں کے قومی دن پر وہ مہمان خصوصی تھے ۔یہ ہندوستان کے لئے احترام اور پیار کا ثبوت ہے جو ماریشس کے لوگوں نے ظاہر کیا۔ ہندوستان اور ماریشس کا رشتہ قدیم دور سے ہے ۔اس کی بنیاد تہذیبی اور مذہبی پہلوؤں میں مضبوطی سے قائم رہی ہے ۔جو رشتہ تاریخ کا حصہ رہا ہے وہ، آج موجودہ حالات میں زیادہ اہمیت اختیار کرتا ہے ۔ماریشس صرف ہند کے پڑوس میں ہی نہیں بلکہ علاقے کی سلامتی کا اہم حصہبھی ہے ۔ماریشس نے ہندوستان کو ہمیت دیتے ہوئے علاقائی توازن کو قائم رکھا اور پالیسی عمل دی ۔اس سے صرف اس کے اور ہندوستان کے لئے ہی نہیں، بلکہ پورے علاقے کے لئے سلامتی اور حفاظت کا سلسلہ قائم رکھنے میں مدد ملی ۔یہ تناؤ اور پیچیدگیوں کو قابو میں رکھنے کے سلسلے میں بہت اثردار رہا ہے ۔ماریشس نے خیال رکھا کہ ایسے عناصر کو حوصلہ نہ ملے جو ہندوستان کے خلاف سوچ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مودی جی کا وہاں قومی دن پر موجود ہونا جائز ہی نہیں، بلکہ رشتے کو بلندی پر لیجانے کے لئے مدد دے گا ۔ہند۔ ماریشس رشتہ دنیا کے دوسرے ملکوں کو اشارہ دیتا ہے کہ ہند ساگر میں تناؤ سے پرہیز کریں ۔یہ عالمی تجارت اور بیوپار کے لئے بھی فائدے مند ہے ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Mar 12, 10:26 am

ٹرمپ اور امریکی سفارت

ٹرمپ اور امریکی سفارت

صدر ٹرمپ نے امریکی انتظامیہ کو ہی نہیں، بلکہ اس کی سفارت کی سوچ کو بھی جھٹکا دیا ہے ۔یہ ماننا پڑے گا کہ اس سے پہلے کسی سیاستدان نے ایسا زلزلہ کس دوسرے ملک میں نہیں دیا تھا ۔اگرکمیونسٹ ملکوں میں مارکس سوچ کا لاگو ہونا اتھل پتھل کہا جائے تو شاید کوئی یکسانیت نظر آسکے، لیکن وہاں مکمل انداز تبدیل کر دیا گیا تھا۔ امریکہ میں بنیادی جمہوریت کو قائم رکھتے ہوئے یہ جھٹکے دیئے جارہے ہیں ۔اس کا اثر کیا ہوگا، تصور کرنا آسان نہیں! اتنا ضرور ہے کہ سفارتی دائرے میں امریکہ کے لئے پریشانی پیدا ہو سکتی ہے ۔اس میں دو رائے نہیں کہ امریکی رسوخ بے شمار ہے لیکن اس رسوخ کے لئے پردے کے پیچھے بہت کچھ کیا جاتا ہے ۔اگر وہ سب ختم ہوگا تو رسوخ بھی کم ہو گا! گھر میں اپنی مقبولیت کو ٹھوس وجود دینے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ ہر حد پار کرنے کو تیار ہے ۔کیا وہ مقبولیت قائمرہ سکے گی۔ اگر بدیشی اسٹیج پر امریکہ اپنا رہنمائی کا رول کھو دے گا؟ یہ وقت بتائے گا۔ صرف مشکل یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جس جن کے سہارے ٹرمپ نیا مستقبل لکھ رہے ہیں، اس کو بوتل میں واپس بند کرنا مشکل ہو جائے!کیا ٹرمپ اور امریکہ اس پہلو پر دھیان دے رہے ہیں ؟کیا ایلون مسک کا رسوخ قابو میں رہ سکے گا ؟ دنیا کے ساتھ امریکہ کو غور کرنا ہے ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Mar 11, 7:36 am

امریکہ کے ساتھ تجارتی سودے

امریکہ کے ساتھ تجارتی سودے


یہ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے زیر اثر امریکی انتظامیہ جارتی سودوں میں کوئی ڈھیل نہیں دے گی ۔پہلے بھی وہ بیان جو مرضی دے لیکن عمل اسی سوچ کے مطابق کرتی ہے جو اس کا بنیادی رویہ رہا ہے ۔ہندوستان کو اپنے اندر تبدیلیاں کرنی ہوں گی ۔کی بھی جارہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی۔یہاں دھیان اس پہلو کا رکھنا ضروری ہے کہ جو بھی تبدیلیاں کی جائیں ان کو ایک حد تک رکھنا لازمی ہے ۔جمہوریت میں ایک شخص ہمیشہ نہیں رہتا ۔ایسا نہ ہو کہ جب امریکہ میں سیاسی تبدیلی ہو تو اس کا نقصان ہندوستان کو بھگتنا پڑے!جمہوریت میں اندرونی سیاست کا اثر بدیشی دائرے میں جھلک جاتا ہے۔ بہت نمایاں نہ ہو، لیکن کہیں سائے رہتے ہیں ۔اس لئے بہت ہی ضروری ہے کہ سودوں میں ایسانکتہنہ ہو جو ہندوستان کے لئے مستقبل میں تکلیف کی وجہ بن سکے!سرکار کو فوراً فائدوں کو مستقبل کی فضا کے ساتھ تول مول کر کے فیصلے لینے ہوں گے ۔مودی ٹرمپ کے ذاتی رشتے سے ایسا بہت مشکل نہیں ہونا چاہئے پھر بھی احتیاط رکھنی بہت ہی لازمی ہے ۔عالمی اسٹیج پر اقتصادی مدعے اس قدر حاوی ہیں کہ ان کو الگ رکھنا ممکن نہیں۔ نوین
Editor Name: نوین Updated: Monday, Mar 10, 10:11 am

عورت اور ترقی

عورت اور ترقی
کل بین الاقوامی عورتوں کا دن منایا گیا تھا۔اقوام متحدہ نے اس کو اہمیت دے کر عورتوں کی زندگی پر توجہ دینے کی کوشش کی ہے۔ یہبہت ہی قابل تعریف قدم ہے اور اس کو پورے جوش کے ساتھ عمل میں لاناچاہئے۔ صرف ضرورت اس نقطے کی ہے کہ ہم کن عورتوں کو اہمیت دیتے ہیں ؟اخبار، صحافت، سوشل میڈیا اور تجویزوں میں ایسا لگتا ہے کہ کل زندگی عورتوں کےلئے ہی تیار کی جارہی ہے ۔جن باتوں کو ابھارا جاتا ہے ان میں سے نصف بھی حقیقت ہوں تو اب تک دنیا میں کوئی عورت پریشان نہیں رہنی چاہئے ۔ایسا ہے نہیں! کیونکہ باقی سب تیوہاروں کی طرح ہم عورتوں کے دن کو بھی تیوہار کی طرح مناتے ہیں اور رسمیں نبھاتے ہیں ۔بیانات، تصویریںاور مثالیں بھرپور ہوتی ہیں، لیکن بہت سی تصویریں دھند میں ہی گم رہ جاتی ہیں۔ ہندوستان میں عورتوں کے درجے میں دو الگ الگ دائرے کھڑے ہیں ۔ایک وہ جو جدیدیت کا حصہ ہوکر زندگی کی ہر حد توڑ رہی ہیں اور دوسرا وہ جو ان سب کو ایک خواب کی طرح دیکھتی ہیں لیکن حقیقت بہت فرق ہوتی ہے ۔ان خواب دیکھنے والوں کا ذکر نام ماتر ہوتا ہے اور وہ بھی تحریکوں میں یا فلموں میں! اصلیت جوں کی توں رہتی ہے ۔یہ سچ ہے کہ تبدیلی کے لیے وقت لازمی ہے ۔کتنی زندگیاں اس وقت کے انتظار میں ختم ہو گئیں، کیا ان پر دھیان دینے کا خیال کیا گیا ؟ا س کے لئے ہم سب ذمہ دار ہیں جو ذریعہ رکھتے ہوئے بھی اس کو نظر انداز کرتے ہیں ۔کچھ لوگ ہیں جو ٹھوس تبدیلی لا رہے ہیں - ان کو بھی ابھارنے کی ضرورت ہے۔یہ امید ہے کہاگلے برس عورت دن کا تیوہار زیادہ حقیقی تصویر پیش کرے گا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Mar 8, 10:59 am

روحانیت نظر اندز کا نتیجہ

روحانیت نظر اندز کا نتیجہ


صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے اکثریت ممالک میں عوام کے اندر ایک عجیب سی بے زاری ظاہر ہوتی ہے ۔وجہ مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اثر بہت ملتا جلتا نظر آتا ہے۔حکومت کے خلاف احتجاج، عوامی اثاثوں کی تباہی، جماعتی تشدد اور بے معنی حملوں سے ماحول کو تناؤ سے بھرنا ۔یہ سب زیاداتر ملکوں میں ہو رہا ہے۔کرنے والے اس میں طاقت کی نمائش مانتے ہیں اور نشانہ بننے والے پاگل پن کا اثر۔اس نظریے سے دیکھا جائے تو بنیادی طور سے زندگی دشوار ہو جاتی ہے۔ اس کے لئے الزام بھی دیئے جاتے ہیں لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس مدعے میں روحانیت کا نظر انداز ہونا۔روحانیت ختم نہیں ہو سکتی، لیکن اس کو نظر انداز ضرور کیا جاتا ہے۔روز مرہ کی زندگی پر اس قدر مادیت حاوی ہے کہروحانیت کے لیے گنجائش ہی نہیں رہ جاتی ہے۔زندگی کا ہر پہلو دولت اور مادی اشیاء سے دیکھا جاتا ہے۔ پیمائش کا معیار ہی ایک رہ گیا ہے۔ ایسا نہیں کہ دولت غلط ہے! وہ لازمی ہے اور اس کے لئے جدوجہد ہر طریقے سے جائز ہے۔مشکل تب آتی ہے جب دولت کے لئے روح کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلے لئے جاتے ہیں۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ چاہے مذہبی جشن ہو، سماجی موقع ہو یا پھر ذاتی ہجوم سارا سلسلہ مادیت کی فہرست کو بیان کرنے اور اس سے کامیابی کا پرچم بلند کرنے میں ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پارلیمنٹ ہو، قانون ہو، سیاست ہو یا مذہب ہو،ہر جگہ انسان نمایاں ہے اور بھگوان محض دکھاوے کے لئے ہوتا ہے ۔اس کی طرف چنتا کے ساتھ ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لئے ہماری ذمہ داری ہے۔ نوین
Editor Name: نوین Updated: Thursday, Dec 12, 10:37 am

اب اسرائیل رُکنے کو تیار نہیں !

اب اسرائیل رُکنے کو تیار نہیں !


حالیہ حملے جو اسرائیل نے شام پرکئے ان سے ظاہر ہے کہ اسرائیل اب رکنے کو تیار نہیں ہے ۔بشارالاسد کی حکومت کی رخصتی کے بعد نئی سرکار کو پوری طرح بیٹھنے کا وقت بھی نہیں دیا گیا اور شام کی سمندری جنگی قوت پر تباہ کن کاروائی کی گئی۔ ظاہر ہے کہ اسرائیل کوئی پہلو چھوڑنا نہیں چاہتا جس سے آنے والے حکمرانوں کو غلط فہمی ہو کہ وہ اسرائیل سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔یوں بھی شام میں نئے حاکم اسرائیل سے کسی طرح کی ہمدردی رکھنے کا سوال ہی نہیں رکھتے۔صرف چہرے بدلے ہیں۔ ارادے جوں کے توں ہیں۔ بلکہ کوئی بڑی بات نہیں ہوگی اگر نئے حاکم زیادہ سخت رویہ اختیار کریں اور تشدد کو زیادہ بڑھاوا دیں !اس لئے جو طاقت ان سے لی جاسکتی ہے وہ جائز مانی جاتی ہے۔شام کی فضا میں ایران کو نقصان ہے اور یہ اسرائیل ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ ایران کو نقصان سے کسی دوسرے کا فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ان حالات میں کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہئے ۔اگرمشرق وسطیٰمیں تناؤ بڑھے اور روز مرہ زندگی مشکل ہوتی دکھے!اسلامی ملکوں کو تعمیری سوچ اختیار کرکے ماحول کوسنبھالنے کی طرف قدم لینا چاہئے۔تناؤ سے کل علاقے کے ساتھ دنیا پر اثر پڑے گا ۔اقتصادی حالات پہلے ہی بہت پر امید نہیں۔کوئی بھی نقطہ زیادہ پیچیدگیاں پیدا کرنے میں رول ادا کر سکتا ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Dec 11, 10:30 am

بچوں سے کھلواڑ نہایت گھٹیا سوچ

بچوں سے کھلواڑ نہایت گھٹیا سوچ

پھر سے دہلی کےا سکولوں کو دھمکیاں بھیج کر بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کیجارہی ہے ۔ہو سکتا ہے کہٹھوس کچھ نہ ہو اور یہ شرارت کا حصہ ہو، لیکن جو بھی اس طرح کی سوچ استعمال کرتا ہے وہ نہایت گھٹیا پن کا ثبوت دیتا ہے۔ کوئی بھی مدعا یا جذبہ اس درندگی کی اجازت نہیں دیتا۔ہو سکتا ہے کہ بچوں کو نشانہ بنا کر کوئی حیوان عوام میں تناؤ پیدا کرنے کی کوشش میں ہو! سرکار کے خلاف ماحول پیدا کرنے کی سازش ہو! جو بھی مقصد ہے، اس کے لئے بچوں کو تنگ کرنا اور ان کی حفاظت کے ساتھ مذاق کرنا کسی طرح سے انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ وہ دماغی طور سے بیمار انسان ہوگا اور اس کے ساتھ کسی طرح کی رعایت کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔یہ بھی چنتا کی بات ہےکہ اب تک جتنے بھی اس طرح کی دھمکیاں آئی ہیں، ان کاحل کوئی بھی نہیں ہوسکا۔وہ سنگین تھیں یا مذاق، یہ الگ بات ہے ۔جو بھی اس کے لئےذمہ دار ہو،اس کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔اس کو مثال کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ کوئی دوسرا اس طرح کی حماقت نہ کر سکے ۔پولیس اور خفیہ اداروں کو یکساں ہو کر کارروائی کرنی لازمی ہے ۔اس معاملے کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Dec 10, 10:40 am

چین سے تعلقات

چین سے تعلقات


صاف ظاہر ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔سرحدپر سلسلہ سنبھلرہا ہے تو ظاہر ہے کہدوسرے دائروں میں غور کیا جائے گا۔جب بھی چین کے ساتھ بہتر رشتے ہوتے ہیں اقتصادی پہلو ابھر کر آتا ہے۔ تجارت اور بیوپار میں نئے دروازے کھلنے لگتے ہیں جن سے ملک کے اندرونی پیداوار پر اثر پڑتا ہے۔ یہ کوئی چھپی بات نہیں اور کسی کو حیرانی بھی نہیں ہوگی۔اس لئے جب تعلقات کا کارواں بڑھ رہا ہے تو ابھی دھیان رکھنا ہوگا کہ آگے چل کر مشکل پیدا نہ ہو۔ چبن کی ضرورت ہے کہ اس کے کارخانے کام کرتے رہیں۔یہ مغرب کے ممالک رکھتے تھے ۔اب سیاست اور مندی دونوں نے اس کو بہت دھیما کر دیا ہے۔کووڈ نے باقی کسر پوری کر دی۔چین کو ہندوستان کی ضرورت ہے تاکہاس کی اقتصادی گاڑی چلتی رہے۔ ہندستان کو بھی چینی سامان سے فائدہ ہے، لیکن خیال رکھنا ہوگا کہ ہندوستانی صنعت اور چھوٹے پیداوار والے نقصان میں نہ آئیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بیوپار کے بہانے چین دوسرے شعبوں میں اپنا رسوخ بڑھانےکی کوشش کرتا ہے۔اس کا دھیان بھی رکھنا لازمی ہے۔پڑوس کے ساتھ اچھے اور پر امن رشتہ ملک کے لئے فائدے کا نسخہ ہے۔صرف اپنے گھر کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ہندوستان کو اپنی سفارتی مہارت کو استعمال کرنا ہوگا اور بین الاقوامی دائرے کو بھی شامل کرنا پڑ سکتا ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Dec 9, 10:37 am

شام کے حالات کا علاقے پر اثر ہوگا !

شام کے حالات کا علاقے پر اثر ہوگا !

شام میں جس انداز سے باغی عناصر بڑھ رہے ہیں اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیںکہجلد ہی شام کی فضا میں تبدیلی آسکتی ہے جس کا اثر پورے علاقے پر پڑ سکتا ہے۔ یہ کوئی چھپی بات نہیں کہ شام کے حکمراں اسد ایران اور روس کی مدد سے اپنا گھر بچا رہے تھے ۔اب کیا وجہ ہے کہ ان دونوں نے اپنی حمایت کم کر لی ہے؟ ورنہ باغی اس قدر آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ ممکن ہے کہ روس یوکرین جنگ میں الجھاہوا ہے اور وہ اس وقت زیادہ بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا ہو۔ ایران اپنی الجھنوں میں غرق ہے کیونکہاسرائیل نے اس کا علاقائیرتبہ سوال بنا دیا ۔وہ بھی اپنے گھر کوسنبھال رہا ہے ۔ظاہر ہے کہ شام کو توجہ مشکل ہوگی۔ اس صورت میں یورپ میں شیعہ رسوخ گھٹ سکتا ہے۔ اسد کے باغی سنی ہمدردی ظاہر کر سکتے ہیں۔ پہلے ہی لبنان میں شکست دکھ رہی ہے ۔ایران نے جوابی کاروائی کی،لیکن اس کا اثر وہ نہیں ہوا جو ہونا چاہئے تھا۔ ظاہر ہے کہ ایران کا اپنا رسوخ کمزور نظر آرہا ہے۔ اس سے امریکہ اور اسرائیل کو طاقت حاصل ہو سکتی ہے۔ عراق نے شیعہ اہمیت کو وہ درجہ نہیں دیا جو ایران چاہتا تھا۔ اس فضا میں شام کے حالات شیعہ سوچ کے لئے بھاری نقصان کا اشارہ ہو سکتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس سے اسرائیل کا پڑوس بھی اس کے لئے مفید نظر آسکتا ہے۔ان سب کے ساتھ کھاڑی کے ملکوں کے لئے اپنا اثر بڑھانا اور اسلامی دائرے پر رہنمائی رکھنا اور اس کاترجمان ہونا زیادہ ٹھوس نظر آرہا ہے ۔ نوین


Editor Name: نوین Updated: Friday, Dec 6, 10:49 am

مہاراشٹر میں بھا جپا سرکار

مہاراشٹر میں بھا جپا سرکار


یوں تو مہاراشٹر میں مہایوتی سرکار بنا رہی ہے، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ بھا جپاکی سرکار ممبئی میں اقتدارسنبھال رہی ہے ۔اس میں دو رائے نہیں کہ دیویندر پھڈنویس مکھیہ منتری ہونے کا حق رکھتے ہیں اور اگر کوئی یہ سوچ بھی رہا تھا کہ وہ اس کو روک سکے گا، تو اس سے بڑی نادانی نہیں۔ پھڈنویس نے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ مہاراشٹر میں نئے چانکیہ کا عہدہ لینے کو تیار ہیں۔جو معجزہ اس چناؤ میں کیا گیا وہ پھڈنویس کی مہارت کا ثبوت ہے۔شنڈے کے لئے اپنے نئےعکس کوقبول کرنا آسان نہیں ہوگا، لیکن ان کو اس کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل بھی نہیں ہے۔اگر وہ بھاجپاکے مطابق راہ اختیار نہیں کریں گے تو وہ اقتدار سے باہر بھی ہو سکتے ہیں ۔یہ پھڈنویس کی سوجھ بوجھ تھی کہ انہوں نے کچھ برسوں کے لئے شنڈے کو باگ ڈور دے کر اصل راستہ خود طے کرتے رہے۔ تبھی آج بھاجپاسرکار بنا سکی ہے اور شنڈے کو حمایت دینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ۔اجیت پوار بہت ہوشیاری سے قدم کے رہے ہیں۔وہ کسی طرح کی بحث پیدا نہیں ہونے دیتے اور اپنا وجود بھی بنا کر رکھتے ہیں۔اندازاً چھ دفعہ اجیت پوار صوبے میں ڈپٹی مکھیہ منتری کے عہدے پر کام کرتے رہے۔وہ اس کے ماہر مانے جانے لگے ہیں ۔ پھڈنویس کےسامنے بہت مشکلیں ہیں، لیکن سب سے زیادہ پیچیدہ ہوگی گٹھ بندھن کو صافعکس کے ساتھ چلانا۔ شنڈے خود اگر ان کا کہنا مان بھی لیں، تو ان کے پارٹی ممبران کو جوڑ کر رکھنا جدوجہد کا سلسلہ ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں کے لئے اقتدار سے کچھ حاصل کرنا سیاست کا بنیادی حصہ ہو، ان کے لئے حاشیے پر کھڑا رہنا مشکل ہو سکتا ہے ۔اندرونی سیاست بھلے جو بھی موڑ لے، امید کی جاسکتی ہے کہ پھڈنویس حکومت کو کمزور نہیں ہونے دیںگے ۔ یہ ان کی قابلیت اور مہارت کا سوال ہے ۔یوں بھی ان کا سفر ابھی لمبا ہے اور وہ مستقبل میں بڑے داؤ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Dec 5, 10:27 am

بادل صاحب مذہب کا سیاسی ہتھیار تیز کر رہے ہیں!

بادل صاحب مذہب کا سیاسی ہتھیار تیز کر رہے ہیں!

دربار صاحب میں اپنی غلطیوں کے لئے سزا بھگتتے ہوئے سردار سکھبیر سنگھ بادل صاحب اپنی پارٹی کے لئے مذہب کو سیاسی جنگ میں ہتھیار کی طرح تیز کر رہے ہیں۔اپنی حکومت کے دوران غلطیوں کی سزا بھگتتے ہوئے جو نظارہ پیش کیا جارہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پنجاب کے اگلے چناؤ میں اکالی دل سکھ پنتھ کو اپنا سب سے اول اور اثردار مدعا بنا رہا ہے ۔یہ کوئی نئی بات نہیں ۔بنیادی طور سے اکالی دل کا مقصد ہی تھا کہ وہ سکھوں کے لئے ایک آواز کی طرح ابھرے۔ ایسا ہوا بھی۔آزادی کے بعد پنجابی صوبہ پر احتجاج کرکے یہ مہر زیادہ پکی ہو گئی۔پھر اکالی دل نے مرکز کے ساتھ دوستی کا سلسلہ شروع کیا ۔ظاہر ہے کہ اس کا مقصد تھا صوبے سے باہر رسوخ بڑھانا۔ شاید یہ ہوا بھی، لیکن پنجاب کے اندر اثر گھٹ گیا۔ یوں بھی پرکاش سنگھ بادل بزرگ ہو گئے اور سکھبیر جی میں وہ اثر نہیں آیا جو اس حالات کو سنبھالنے کے لئے چاہئے تھا ۔اب تصویر کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ظاہر ہے کہ بادل صاحب پنتھ کو پیغام دے رہے ہیں کہ پنتھ ان کے لئے اول ہے۔ وہ بڑے سے بڑے لیڈر کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتا ہے ۔بادل خود اس کےآگے سر جھکا کر سزا قبول کر رہے ہیں۔ ایسا سوچا جارہا ہے کہ اس سے سکھ جماعت ایک ساتھ اکالی دل کو حیات دے گی اور اسے اقتدار میں لائے گی ۔یہ تو وقت بتائے گا۔ ایک پہلو اور سمجھا جاسکتا ہے۔سکھ ووٹ پر اپنا قابو مضبوط کرکے بادل صاحب بھا جپا سےبہتر سودا کر سکیں گے۔ان کو لگتا ہے کہ بھا جپا کو مستقبل میں پنجاب کے اندر سکھ ووٹ کی ضرورت پڑے گی۔ اس وقت اکالی دل اپنی اہمیت کو ابھار سکےگا۔ابھی تو پہلا قدم لیا گیا ہے۔آگےکیا داؤ ہوں گے، ان سے تصویر صاف ہوتی جائے گی ! نوین


Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Dec 4, 10:44 am

ہندوستان کا پڑوس خود اور ہند کو پریشانی میں غرق کی!

ہندوستان کا پڑوس خود اور ہند کو پریشانی میں غرق کی!


یہ بھی ستم ظریفی کی بات ہے کہ ہندوستان سے الگ ہونے والے علاقے آج اس قدر پریشانی میں غرق ہیں کہ اس سے وہ خود تو مشکلیں جھیل ہی رہے ہیں، ساتھ میں ہندوستان کے لئے بھی پریشانی کا عالم پیدا کرتے ہیں ۔حیرانی ہے کہ اس وقت ان علاقوں کی علیحدگی کا پرچم بلند کرنے والے بار بار یه دعویٰکرتے تھے کہ وہ ہندوستان سے الگ اس لئے ہونا چاہتے ہیں کیونکہ یہاںان کےلئے حفاظت اور انصاف نہیں ہوگا ۔وہ لوگ تو تاریخ میں دفن ہو گئے،لیکن لاکھوں لوگوں کی زندگیاں جہنم بنا گئے تھے۔آج انہیں کے وارث ہندوستان کی طرف آسلگاتے ہیں تاکہ کسی طرح کی راحت مل سکے۔بنگلہ دیش سے کتنے لوگ ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے یہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔وہاں پر مسلمان ہی محفوظ نہیں تو دوسرے عقیدے والوں کی بات ہی نہیں کی جاسکتی۔ اقتصادی فضا قرضوں اور مہربانیوں پر نربھر ہے ۔سیاست کی بنیادی جڑیں کھوکھلی ہوگئی ہیں۔فوج سب کچھ کرتی ہے سوائے سرحد کی نگہبانی کے۔عوام لاچار اور بے سہارا محسوس کرتے ہیں ۔پہلا موقع ملے تو وہ ہندوستان کی طرف رخ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔بنگلہ دیش مین جو اشارے مل رہے ہیں، ان سے وہی عناصر وہاں سرگرم ہیں جنہوں نے پاکستان کی یہ حالت بنا دی ۔ظاہر ہے کہ مستقبل بہت پرُ امیدنہیں لگتا۔ اس حال میں ہندوستان کو اپنا توازن سوجھ بوجھ سے قائم رکھنا ہوگا ۔اس کے لئے سیاسی دائرہ اور عوام دونوں کو مل کر قدم لینے ہوں گے۔ نوین


Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Dec 3, 10:29 am

اجمیر میں غلط سوچ کو روکنا لازمی

اجمیر میں غلط سوچ کو روکنا لازمی

اجمیرکے اندر کسی خود مقرر ہندوتو کے ترجمان نے درگاہ شریف کو لیکر جو تنازعہ کھڑا کیا ہے وہ بے معنی ہے اور اس کو روکنا لازمی ہے۔ بھا جپاکے اعلی لیڈران کو اس طرف فوراً توجہ دینی چاہئے ۔اس طرح کے مدعوں کو اٹھا کر یہ عناصر عوام، پارٹی اور ملک کو تکلیف دے رہے ہیں۔ خواجہچشتی کی درگاہ مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے لئے مقدس ہے ۔ اگر اس طرح کی بحث ابھرنے دی گئیتو یہ ایک فرقے میں ہی نہیں، بلکہ پورے ملک میں تناؤ کی وجہ بن سکتی ہے ۔بحث پیدا کرنے کے لئے لاکھوں مدعے ہیں۔ سیاست کے لئے ہزاروں بہانے ہیں پھر عوام کو پریشان کرنے سے کیا حاصل ہوگا ؟کچھ لوگوں کی سوچ ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے مذہب کے ٹھیکیدار بن جائیں ۔یہ ان کا خیال ہے،لیکن اس کے لئے مذہب اور اس کے ماننے وولوں کو بلی نہیں چڑھایا جانا چاہئے ۔جو اتحاد اور آپسی پن اجمیر سے ملتا ہے وہ بہت کم مذہبی مرکزوں سے پیدا ہوتے دیکھا گیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ صرف ملک کے اندر ہی نہیں، بلکہ بدیشوں میں بھی اجمیر شریف کا نور پھیلا ہوا ہے ۔دور دور سے لوگ یہاں آتے ہیں تاکہ من کو سکون حاصل ہو، جو ہوتا بھی ہے!اگر راجستھان کی سیاست اس غلط سوچ کو حوصلہ دے رہی ہے تو وہ گناہ کرنے کے برابر ہے ۔اس کے لئے کل صوبے کو بھرپائی کرنی پڑ سکتی ہے۔ ابھی بھی معاملہسنبھل سکتا ہے اگر بھا جپا سخت رویہ اختیار کرکے یہ راجہسے زیادہ وفادار ترجمانوں کو خاموش رہنے کی ہدایت دے ! نوین


Editor Name: نوین Updated: Friday, Nov 29, 11:01 am

کانگریس کو فوراً علاج کرنا ہوگا

کانگریس کو فوراً علاج کرنا ہوگا

کوئی سیاسی طور سے جو بھی نظریہ رکھتا ہو، اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ کانگریس ہندوستان کی سیاسی اور جمہوری سلسلے کی بنیاد ہے۔ جو اصول اس نے قائم کئے انہیں کو آگے بڑھا کر ملک ترقی کرتا آیا ہے،لیکن وقت کے ساتھ کمزوری آنی کوئی حیرانی کی بات نہیں ۔جس دور میں کانگریس نے پرچم لہرایا تھا، تب اور اب میں زمین آسمان کا فرق آگیا ہے ۔یہ ٹھیک ہے کہ بنیادی اصول تبدیل نہیں ہوتے، لیکن ان کو جدیدیت کے ڈھانچے میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ یہی کانگریس کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کا یہ معنی نہیںکہ وہ اپنی بنیادی مدعوں سے دور ہو، لیکن کم از کم ان کو نئے وقت کے مطابق ترجمہ تو دے سکتی ہے!اس کے بغیر پارٹی اپنا وجود کھوتی جائے گی۔دو صوبوں میں پارٹی نے امید کے برعکس چناؤ نتیجے دیکھے۔ہریانہ میں تو کامیابی طے تھی لیکن ہار دیکھنی پڑی ۔یہ حالات اور زمینی اصلیت سے انجان ہونا ثابت کرتا ہے۔ مہاراشٹر میں بھی جو دُر دَشا ہوئی وہ امید سے بہت الگ تھی ۔یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا۔تبھی بھا جپا لگاتار اقتدار میں آتی رہی ہے۔کانگریس کا وجود صرف بھا جپامخالف نہیں، بلکہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے بھی ہے۔ پارٹی لیڈرشپ کو علاج پر پورا دھیان دینا ہوگا ورنہ پارٹی لا علاج شکل اختیار کر لے گی ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Nov 28, 11:58 am

بنگلہ دیش میں ہند مخالف سازش کے اشارے

بنگلہ دیش میں ہند مخالف سازش کے اشارے

ایسا لگنے لگا ہےکہ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے خلاف سازش کو ہوا دینے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ۔یہ بنگلہ دیش رہنما یونس صاحب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو قابو میں لاکر رد کریں ۔اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہئے کہ بنگلہ دیش میں تبدیلی کے بعد آئے سیاسی کھلاڑی خود کو جائز ثابت کرنے کے لئے شیخ حسینہ کے ساتھ ہندوستان کو نشانہ بنا رہےہیں۔یہ آسان ہے اور جذباتی طور سے اثردار بھی ہونے کی امید کی جارہی ہے،لیکن اس سے جو نقصان بنگلہ دیش کے عوام اور اقتصادی دائرے کو ہوگا، اس کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا ۔شاید دھیان دیا جا رہا ہے اور اس کو درہم برہم کرنا سازش کا حصہ ہے۔ اگر بنگلہ دیش اقتصادی طور پر تکلیف میں آتا ہے تو وہ نئے مددگار تلاش کرے گا۔اس صورت میں وہ ایسے عناصر ہوں گے جو اسلامی کٹرپنتھی کی راہ چلنے کی ہدایت دیں گے ۔وہ پاکستان سے حوصلہ حاصل کریں گے، تو یہ فطریہوگا ۔اس کے ذریعے پاکستان کا رسوخ تو بڑھے گا۔ ساتھ میں چین کو اپنا تماشہ کرنے کی جگہ مل جائے گی ۔ان سب کو زیادہ اثردار بنانے کے لئے ہند کو بنگلہ دیش میں بدنام اور کمزور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکون کے سنت کو گرفتار کر کے بنگلہ دیشی طلباء جو انتہا پسندی کی سوچ سے بڑھ رہے ہیں، کی کوشش ہے کہ ہندوستان سے ٹکراؤ ہو تاکہ وہاں ہندوستان کے خلاف جذبات بھڑکے۔ اگر یونس صاحب اس کو روکیں گے نہیں تو بین الاقوامی اسٹیج پر بنگلہ دیش کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگا۔ ہندوؤں کو نشانہ بنانے کا مقصد ہی ہندوستان کو بھڑکانا ہے ۔ہندوستان کو اپنی سفارتی مہارت کا ثبوت دینا ہوگا تاکہدنیا کو صاف پیغام جائے کہ ہندوستان کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہیں کر سکتا۔ نوین


Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Nov 27, 10:33 am

دستور کی اہمیت اور سیاست

دستور کی اہمیت اور سیاست

ملک نے یوم دستور منایا اور بہت جوش کا منظر سامنے آیا۔اس میں دو رائے نہیں کہ کسی بھی ملک کے لئے دستور یا آئین اس کے وجود کی پہچان ہے۔وہاں ہر شہری اسی کے سہارے ایک طے شدہ زندگی بسر کرتا ہے ۔حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ اکثریت لوگوں نے کبھی آئین کو پڑھا نہ دیکھا ہوتا ہے۔صرف اسکول اور چرچا میں ہی اس کا ذکر ہوتے سنتے ہیں اور اس سے واقف رہتے ہیں۔ باریکیاں تو محض ان لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں جو اس سے پیشہور طور پر وابستہ ہوتے ہیں ۔پھر بھی کل ملک اور اس کا ڈھانچہ اسی پر قائم رہتا ہے۔ دستور پر بحث فطری ہے کیونکہ یہ حق بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے ۔اس کو صرف سیاسی داؤ پیچ کا حصہ بنانا ہلکی سوچ کا اشارہ ہے ۔یہ کہنا مناسب نہیں کہ اپوزیشن کو بحث نہیں کرنی چاہئے ۔اگر ایسا رویہ ہوگا تو وہ دستور کی بنیاد کے برعکس ہوگا۔دستور عوام کو حکومت پر یقین کرنے کی وجہ ہے ۔اس کو کمزور کرنے سے وہ یقین بھی کمزور ہوسکتا ہے۔ پارٹی کوئی بھی ہو، اگر دستور پر پابند ہے تو وہ ملک کا مفاد برقرار رکھتی ہے۔کیا دستور کے مطابق ہے اور کیا نہیں، یہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ وہ اس پر حرف آخر ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ دستور کو لیکر اسکول سے ہی بچوں کو علم حاصل کرایا جائے ۔اس کو تعلیم میں کہیں شامل کر کے روزمرہ کیزندگی سے جوڑنا لازمی ہے ۔اس سے دستور کا بہانہ بنا کر سیاسی داؤ پیچ کام ہونے میں مدد مل سکتی ہے ۔جس ملک میں دستور کے 75 برس کا جشن منایا جارہا ہو، وہ پائیدار اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے ۔اس کے لئے ان لوگوں کا شکرگزار ہونا لازمی ہے جنہوں نے اس کا وجود تیار کیا ۔اس کے ساتھ ان سب لیڈروں اور پارٹیوں کو بھی مبارک باد جنہوں نے اس کی حفاظت کرتے ہوئے ملک کے کارواں کو آگے بڑھایا ۔قانون اپنی جگہ ہے لیکن جو مدعا انسانوں سے جڑا ہو اور ان کے لئے بناہو، اس کی ترجمانی میں انسانیت اور روحانیت دونوں شریک ہونے ضروری ہیں ۔یہ آج کے ترجمانوں کا فرض ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Nov 26, 11:10 am

کون جیتا کون ہارا ؟

کون جیتا کون ہارا ؟


مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے چناؤ نتائج آنے کے بعد سبھی اہم سیاسی پارٹیوں میں ایک ہلچل سی مچگئی ۔ان نتیجوں نے صرف دو صوبوں میں فیصلہ نہیں دیا،بلکہ بہت سی سیاسی وراثتوں کو بھی جھٹکا دیا ہے ۔تبدیلی ہو رہی ہے اور آگے بھی ہونے کے اشارے ہیں۔ مہاراشٹر میں بھاجپا مکمل قابو میں ہے ۔کہنے کو گٹھ بندھن ہے، لیکن ہوگا وہ جو بھا جپاچاہےگی۔بھا جپا کے اندر بھی پھڈنویس کا درجہ اور مہارت اس سطح پر لگنے لگی ہے جس پر ایک وقت پرمود مہاجن کی ہوا کرتی تھی۔ شاید آج پھڈنویس کاہی بھا جپاکے لئے مہاراشٹر میں پرمود مہاجن کی جگہ لے رہے ہیں اور وہی رول ادا کرنے کے اشارے دیتے ہیں ۔فرق یہ ہے کہ پرمود مہاجن شو سینا اور ٹھاکرے خاندان کے بہت قریب تھے۔مستقبل میں کیا ہوا چلے، اس کاکہنا مشکل ہے۔ایکناتھ شنڈے نے بالا صاحب کی جانشینی اپنے نام لکھ لی ہے ۔اگر شو سینا کی تاریخ لکھی جائے تو شنڈے اہم جگہ رکھیں گے۔ اجیت پوار نے برسوں سے مہاراشٹر کے بھیشم پتامہ شرد پوار کی وراثت پر اپنا ٹھپا لگا لیا ہے۔حلحالانکہ ان کیبیٹی سپریہ سولے اس کی دعویدار تھیں اور شرد پوار اس کے لئے آشیرواد بھی دیتے تھے،لیکن عوام نے ان کو رد کر دیا۔کانگریس کو صوبے میں اپنے بنیادی وجود پر چنتا ہونی چاہئے۔وہ کسی بھی پلڑے میں کوئی وزن نہیں دکھا رہی۔راج ٹھاکرے کو بھی سیاست سے توبہ کرنے پر سوچنا ہوگا۔مہاراشٹر صرف ایک صوبہ نہیں،بلکہہندوستان کی اقتصادی پہچان ہے۔ وہاں جو بھی حکومت کرتا ہے اس کا خاص درجہ قبول کیا جاتا ہے۔بالا صاحب صرف مہاراشٹر میں اپنا وجود رکھ کر بھی کل ہند میں اہمیت قائم کئےہوئے تھے۔ وہ اب ان کے خاندان سے باہر جاتی نظر آرہی ہے۔شرد پوار کے بغیر صوبے میں مرکز کی طاقت بڑھے گی اور علاقائی پارٹیوں کو سوچنا پڑے گا۔جھارکھنڈ میں سورین خاندان نے اپنا قابو قائم رکھا ہے۔حالانکہدرار پڑی، لیکن وہ لوگوں نے قبول نہیں کی ۔اس سے شاید بھاجپاکو نقصان ہوا ہے۔قبائلی آبادی میں مرکزی مدعے اثردار نہیں ہوئے ۔صوبے کی رہنمائیکے آگے مرکزی وجود کمزور نظر آیا۔لوگوں کو اپنی جڑوں کو لیکر جو چنتا ہے وہ دوسرے پہلوؤں سے زیادہ لگتی ہے۔ یہی قبائلی اثر دکھائی دیتا ہے۔بھاجپاکی قبائلی لیڈرشپ خود سے زیادہ مرکز پر نربھر ہے۔ ظاہر ہے کی اثر ادھورا رہا۔ہار جیت فطریہے لیکن ایک بات کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ کہ ہندوستان کی جمہوریت طاقتور اور مضبوط ہے ۔یہ عوام کی جیت ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Nov 25, 10:23 am

پاکستان کی بگڑتی حالت

پاکستان کی بگڑتی حالت


پاکستان میں کوئی بھی بہتری کی طرف سوچنے کو بھی تیار نہیں لگتا۔یہ انتظامیہ اور لیڈروں کے لئے ہے!عوام روز بروز پریشانی میں غرق ہوتے جارہے ہیں اور سرکار اپنے داؤ پیچ کی مہارت دکھانے میں لگی ہے۔کبھی عمران خان صاحب پر الزامات کا سلسلہ تو کبھی ان کی بیوی پر نشانہ! مسئلہ قائم رکھا جاتا ہے صرف نام اور چہرے تبدیل کر دیئے جاتے ہیں ۔مہنگائی آسمان کو بھی پار کر رہی ہے۔اشیاء ضروریہ کی کمی زندگی کو اجیرنبنا رہی ہے۔بے روزگاری جرم کو حوصلہ دینے لگے ہے۔سیاست اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ سیاستداں اس میں کھو رہے ہیں ۔سڑک پر عام آدمی سمجھ نہیں پاتا کہ وہ مستقبل کا خواب بھی دیکھے یا حال مین ہی مایوسی کو گلے لگا لے۔بدیشی رشتے لگاتار ڈولتے جارہے ہیں ۔جو کل تک دوست تھے، وہ بھی عوام کو دشمن لگتے ہیں ۔اس فضا میں مذہبی تشدد میں اضافہ تکلیف کوکئی گنا بڑھا رہا ہے۔ شیعہ آبادی کو بار بار نشانہ بنا کر علیحدگی کی دیوار کھڑی کی جارہی ہے ۔ظاہر ہے کہ اقتدار میں لوگ اس کوہونے دیتے ہیں تاکہ ان باتوں سے اصل مسئلےپوشیدہ رہ جاتے ہیں اور بے معنی کے مدعوں کو ہوا دی جاتی ہے ۔اس ماحول میں بھی پاکستان کشمیر اور ہند پر نشانہ لگائے تو حیرانی ضرور ہوتی ہے۔اپنا گھر جل رہا ہے اور دہائی پڑوس کے گھر میں جل رہے دیئے کو دیکھ کر دی جاتی ہے!
یہ ہے پاکستان کا حال ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Nov 23, 10:33 am

امریکی انصاف پر یقین

امریکی انصاف پر یقین

امریکہ کی کچہری نے اڈانی صنعت کے مالکوں کو مجرم قرار دیا ہے۔امریکہ میں عوام سے پیسہ جمع کرنے اور اس کے ناجائز استعمال کو لیکر یہ مقدمہ ہوا جس میں اڈانی صنعتکار اور ان سے وابستہ لوگوں کو مجرم مانتے ہوئے گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔امریکی انصاف کو لیکر عالمی طور سے ایک خاص یقین رہا ہے ۔مانا جاتا ہے کہوہاں انصاف صرف حقیقت پر ہوتا ہے نہ کہدوسرے نقطوں پر ۔اب بھی یہ ہوگا، لیکن سوالات ضرور اٹھیں گے اور اٹھ رہے ہیں ۔اصلیت کیا ہے یہ تو وقت اور قانون بتائے گا ۔فوری طور پر ہندوستان میں اقتصادی نقصان ضرور ہو گیا ہے۔ایک عرصے سے دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ میں چند لوگ ہندوستان کے مخالف رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کو اس بات سے رنج ہے کہ ہندوستان تیزی سے بین الاقوامی دائرے میں اثر قائم کرنے لگا ہے۔اس کا اشارہ تب ظاہر ہوا جب یوکرین جنگ کے دوران امریکہ نے پابندیاں لاگو کیں لیکن ہندوستان روس کے ساتھ اپنا رشتہ اور رابطہ جوں کا توں رکھے رہا۔تیل اور دوسری اشیاء کو لیکر بیوپار بھی قایم رہا۔اس پہلو نے امریکہ میں کھلبلی مچا دی اور تب سے ایک مہم شروع ہے جس میں ہندوستان کے خلاف کوئی نہ کوئی سلسلہ ابھرتا رہا ہے ۔ اڈانی گروپ کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا، لیکن وہ اس وار سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھرے ۔اب پھر تیر چلا ہے۔قصور کس کا ہے ؟ یہ بعد میں معلوم چلے گا۔ابھی کروڑوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے ہر وہ عام ہندوستانی نے اٹھایا ہےظاہر ہے کہ ہندوستان کے لوگوں میں ایک بے زاری اور تناؤ پھیلایا جا رہا ہے۔سرکار سے یقین ہٹانے کی سازش ہے۔ اصل جرم اور مجرم وقت کے ساتھ ظاہر ہوں گے،لیکن سزا عوام کو مل رہی ہے۔یہ سیدھا وار ہے ہندوستان کی بنیادی ترقی پر۔ امریکی انصاف کو لیکر سوالات ضرور پیدا ہو رہے ہیں کہ یہ تماشہ کیوں ؟کیا ہندوستان اتنا خطرہ پیدا کرنے لگا ہے کہ اس کے عوام کو سزا دینے کے لئے امریکی انصاف کو سوالات کے گھیرے میں لانا ضروری تھا؟اس کا جواب طے کرے گاکہ کیا ہو رہا ہے؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Nov 22, 10:44 am

امریکی انصاف پر یقین

امریکی انصاف پر یقین

امریکہ کی کچہری نے اڈانی صنعت کے مالکوں کو مجرم قرار دیا ہے۔امریکہ میں عوام سے پیسہ جمع کرنے اور اس کے ناجائز استعمال کو لیکر یہ مقدمہ ہوا جس میں اڈانی صنعتکار اور ان سے وابستہ لوگوں کو مجرم مانتے ہوئے گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔امریکی انصاف کو لیکر عالمی طور سے ایک خاص یقین رہا ہے ۔مانا جاتا ہے کہوہاں انصاف صرف حقیقت پر ہوتا ہے نہ کہدوسرے نقطوں پر ۔اب بھی یہ ہوگا، لیکن سوالات ضرور اٹھیں گے اور اٹھ رہے ہیں ۔اصلیت کیا ہے یہ تو وقت اور قانون بتائے گا ۔فوری طور پر ہندوستان میں اقتصادی نقصان ضرور ہو گیا ہے۔ایک عرصے سے دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ میں چند لوگ ہندوستان کے مخالف رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کو اس بات سے رنج ہے کہ ہندوستان تیزی سے بین الاقوامی دائرے میں اثر قائم کرنے لگا ہے۔اس کا اشارہ تب ظاہر ہوا جب یوکرین جنگ کے دوران امریکہ نے پابندیاں لاگو کیں لیکن ہندوستان روس کے ساتھ اپنا رشتہ اور رابطہ جوں کا توں رکھے رہا۔تیل اور دوسری اشیاء کو لیکر بیوپار بھی قایم رہا۔اس پہلو نے امریکہ میں کھلبلی مچا دی اور تب سے ایک مہم شروع ہے جس میں ہندوستان کے خلاف کوئی نہ کوئی سلسلہ ابھرتا رہا ہے ۔ اڈانی گروپ کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا، لیکن وہ اس وار سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھرے ۔اب پھر تیر چلا ہے۔قصور کس کا ہے ؟ یہ بعد میں معلوم چلے گا۔ابھی کروڑوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے ہر وہ عام ہندوستانی نے اٹھایا ہےظاہر ہے کہ ہندوستان کے لوگوں میں ایک بے زاری اور تناؤ پھیلایا جا رہا ہے۔سرکار سے یقین ہٹانے کی سازش ہے۔ اصل جرم اور مجرم وقت کے ساتھ ظاہر ہوں گے،لیکن سزا عوام کو مل رہی ہے۔یہ سیدھا وار ہے ہندوستان کی بنیادی ترقی پر۔ امریکی انصاف کو لیکر سوالات ضرور پیدا ہو رہے ہیں کہ یہ تماشہ کیوں ؟کیا ہندوستان اتنا خطرہ پیدا کرنے لگا ہے کہ اس کے عوام کو سزا دینے کے لئے امریکی انصاف کو سوالات کے گھیرے میں لانا ضروری تھا؟اس کا جواب طے کرے گاکہ کیا ہو رہا ہے؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Nov 22, 10:44 am

پردھان منتری کا بدیش دورہ

پردھان منتری کا بدیش دورہ

پردھان منتری مودی کا بدیش دورہ ملک کے لئے اہم اور فائدے مند ثابت ہوگا ۔برازیل میں جی 20 کے ملکوں کے رہنماؤں کی بیٹھک میں حصہ لینے سے ہند کا بین الاقوامی رتبہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہندوستان نے جو جنگ کے خلاف تجویز رکھی تھی وہ بنیادی بیان میں شامل نہیں ہوئی،لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کا نظریہ عالمی اسٹیج پر اثردار ہے تبھی وہ بیان بازی سے ہٹ کر دیکھا جاتا ہے۔یوں بھی اس بیان سے کچھ ملکوں کو پریشانی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اس کو بحث نہ پیدا کرنے کے ارادے سے باہر رکھا گیا ۔یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔جس طرح سے مودی جی کے عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں ہوئیں اور جو گرم جوشی ظاہر کیگئی، وہ لمبے رشتے کے لئے ٹھوس وزن ہے۔گویانہ اور بارباڈوس کے دورے نے ہندوستان کو ان ملکوں سے جوڑا جن سے ایک عرصے سے دوری تھی۔ جمہوری ماحول میں جتنے ممالک حمایتی ہوں اس کا اثر کسی نہ کسی پہلو سے سامنے آتا ہی ہے۔ان ملکوں نے مودی جی کو اعزاز دیکر ہندوستان کو عزت دی۔ ہندوستان اقوام متحدہ میں اہم رول ادا کرنے کی تیاری میں ہے۔اس کے لئے یہ رشتے وزن دار ہوں گے ۔سفارتی سلسلہ لگاتار آگے بڑھانا ضروری ہے ۔لیڈر کی ذاتی شخصیت اس میں بڑا رول ادا کرتی ہے ۔مودی جی نے جو ذاتی تعلقات قائم کئے ہیں وہ ہندوستان کے وقار کو بڑھاوا دینے میں مددگار ہوں گے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Nov 21, 10:24 am

منی پور کو نظر انداز نہ کریں!

منی پور کو نظر انداز نہ کریں!


کیوں ایسا لگتا ہے کہ سرکار منی پور پر دھیان دینا نہیں چاہتی ؟ہو سکتا ہے کہ یہ تصویر صحیح نہ ہو، لیکن جو ظاہر ہو رہا ہےوہ برطرف تو نہیں کیا جاسکتا۔ایک عرصہ ہوگیا کہمنی پور تناؤ میں غرق ہے۔تشدد اور فساد روز مرہ زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ فوج بھی بہت کامیاب نہیں معلوم ہوتی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ مرکز سے کسی نے بھی کوئی ٹھوس تجویز یا وجہ ظاہر نہیں کی۔اپوزیشن شور ضرور مچا رہی ہے، لیکن کارروائی کے لئے کوئی نقطہ پیش نہیں کرتی ۔اقتدار والے اپنا راگ الاپ رہے ہیں، لیکن مسئلہجوں کا توں ہے۔کیا صوبے میں بنیادی سرکاری ڈھانچہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ٹھیک ہےکہ بھا جپا نے سرکار بنائی ہے اور اس کے لئے اسے علاقائی پارٹی سے حمایت بھی حاصل ہے، لیکن وہ اب ڈول رہی ہے ۔لگاتار تشددنے عوام کو سلامتی کے بنیادی سوال پر فکر مند بنا دیا ہے۔پولیس اور فوج نظر آتے ہیں، لیکن امن غائب ہے۔ہر کچھ دیر بعد کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو صوبے کی جڑوں کو کھوکھلا بنا دیتا ہے- اس کو روکنا لازمی ہے۔ایسا نہ ہو کہ ایک سیاسی داؤ کھیلتے کھیلتے دوسرے داؤ ہار جانے پڑیں! مرکزی سرکار کو فوراً ٹھوس قدم لینے ہوں گے ۔سوال صرف منی پور اکیلے کا نہیں،بلکہ سارے علاقے کا ہے۔جان بوجھ کر انتہا پسندی کے لئے دروازے کھلے چھوڑے جا رہے ہیں ۔ اس سے بھاری نقصان ہوگا۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Nov 20, 10:30 am

کیا دہلی کا مستقبل ہے یا نہیں ؟

کیا دہلی کا مستقبل ہے یا نہیں ؟


ایک دور تھا جب دہلی میں سردی کے مہینے جنّت کی طرح مانے جاتے تھے ۔ساری دنیا ان مہینوں میں یہاں آتی اور اس عظیم شہر کا لطف اٹھاتی تھی۔آج وہی مہینے شہر کو دوزخ بنا رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہمہینوں کا قصور ہے۔ قصوروار تو ہم خود ہیں لیکن قبول کہاں کرتے ہیں۔ آلودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ زندگی دشوار ہو رہی ہے ۔بزرگوں اور بچوں کے لئے بیماری کی وجہ ہے اور نو جوانوں کے لئے بڑھتے برسوں میں مشکلوں کا فرمان ہے۔یہ کیسے ہوا؟بہت برس پہلے یہ عالم نہیں تھا ۔دہلی تب بھی بھیڑ سے بھری تھی لیکن اتنی گندگی نہیں تھی۔ترقی ہوتی تھی، لیکن اس کا فائدہ محسوس ہوتا تھا نہ کہ نقصان۔سردی میں سیاحت کی سرگرمی تیز تھی، جشنوں کا سلسلہ تھا اور پھولوں سے شہر مہکتا تھا۔اب یہ سب ہوتا ہے لیکن مجبوری میں کیا جاتا ہے۔ آلودگی ایک رات یا ایک مہینے یا ایک برس میں نہیں بڑھی ۔اس کے لئے مسلسل سلسلہ ہوتا آیا ہے۔ لگاتار پریشانی بڑھ رہی تھی اور کچھ کیا نہیں جاتا تھا۔وقتی مشکل سمجھ کر بیانات اور دکھاوے کے قدم ہوتے تھے۔ پھر سب بھلا دیا جاتا۔اب فضا یہ ہے کہ سارا سال ہوا تکلیف دایک ہے اور پھر بھی کچھ نہیں ہورہا۔ یعنی موسم جیسا بھی ہو، ہم اپنی جگہ جوں کے توں ہیں۔ دہلی کا مستقبل چنتا کا مدعا نہیں رہا، بلکہ اس کے وجود کا مسئلہ بن رہا ہے۔کیا دہلی کا مستقبل ہے بھی ؟ملک کی راجدھانی رہے گی، لیکن باقی اہمیت کیسے قائمرہ سکے گی؟اقتصادی پہلو سے کمزوری فطری ہے۔تاریخ کی حفاظت تبھی ہوگی اگر حال محفوظ رہے گا۔باغ باغیچے ہوں گے،لیکن ان میں جائے گا کون؟اگر زندگی دشوار ہو گی تو اس میں جشن، رشتے، تیوہار اور دُکھ کیسے ظاہر ہوں گے؟ اگر یہ گھٹ جائیں گے تو ان سے وابستہ لاکھوں لوگوں کے روزگار بھی ختم ہونے لگیں گے۔ یہی شہر کی بربادی کے اشارے ہوتے ہیں۔ ابھی بھی ٹھوس قدم لئے جاسکتے ہیں۔سیاست کو برطرف کر کے شہر اور عوام کو اول رکھ کر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔صرف ان مہینوں کے لئے نہیں، بلکہمکمل برس کو مد نظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی لازمی ہے۔اگر سیاست اس کےلئے تیار نہیں ہوگی تو بہتر ہوگا کہدہلی کو جمہوری نظام سے الگ کرکے ایک نظامی سلسلے کی ذمہ داری میں لیا جائے۔وہ ہر طے شدہ مدد کے بعد جائزہ دے اور کامیابی ثابت کرے ورنہ برطرف ہو!اس کے لئے سپریم کورٹ نگرانی کر سکتی ہے! کیا کوئی غور کرے گا ؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Nov 19, 11:03 am

پنجاب میں اکالی سیاست

پنجاب میں اکالی سیاست


شرومنی اکالی دل کے پردھان کے عہدے سے استعفیٰ دے کر سکھبیر بادل صاحب نے پنجاب کی سیاست میں مدھانی مار دی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اکال تخت کا ان کو تنخیا قرار دینا ایک وجہ بنی،لیکن محض اس ایک پہلو کو لیکر یہ قدم ماننا مشکل ہوتا ہے۔ بادل خاندان نے پنجاب کی سکھ سیاست پر مکمل قابو رکھا ہوا ہے۔ایک عرصے سے ان کےبغیر پنجاب ہی نہیں، ملک میں سکھ سیاست کا تصور کرنا مشکل تھا ۔حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ وہاں سے الگ ہوئے لیڈروں نے اپنے دَل بنائے اور سیاست کو پیچیدہ بنایا۔وقت کے ساتھ پنجاب میں بھی اکالی دل نے مرکزی پارٹیوں سے ہاتھ ملا کر اپنا اثر مرکز میں پیدا کرنا چاہا ۔اس میں کتنی کامیابی ملی، کہنا مشکل ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو اکالی دل نے پنجاب میں بھی اپنا وجود گھٹتے دیکھا ہے۔جب سے آپ نے صوبے میں بڑھت حاصل کی، تب سے اکالی دل کو لگنے لگا کہ وہ پھر اپنا کھویا ہوا دور واپس لاسکتا ہے۔ لیکندل کے اندرونی اختلافات نے سلسلے کو الجھا دیا۔اسی کو صاف کرنے کے ارادے سے سکھبیر بادل صاحب نے یہ قدم لیا ہو گا۔ایسا سوچنا کہ سکھبیر بادل پارٹی سے برطرف ہو جائیں گے، نادانی ہوگی۔حال ہی میں گردوارہ پربندھک کمیٹی کے ہوئے چناؤ نے صاف کردیا کہ بادل خاندان کا قابو مکمل ہے۔اس لئے باقیسب پہلو ایک طے شدہ پروگرام کا حصہ ہو سکتے ہیں ۔یہ ممکن ہے کہ سکھبیر بادل کو رسمی سزا دے کر پربندھک کمیٹی ان کو بحال کر دے ۔اس سے وہ ذمہ داریاں نبھا سکیں گے اور ممکن ہے کہ زیادہ طاقتور ہو کر ابھریں۔دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ سکھبیر بادل کچھ وقت کے لئے سرگرم سیاست سے الگ ہونے کی تصویر پیش کریں تاکہ ان کو یہ احساس ہو کہپارٹی میں کون وفادار ہے اور کون مخالف۔تیسرا یہ بھی کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی، اگر اکالی دل ایک آواز میں سکھبیر بادل کے استعفے کورد کرے اور ان کو پارٹی کی رہنمائی کے لئے زور دے۔ان سب نقطوں کی بنیاد ایک ہے اور وہ ہے گردواروں پر رسوخ۔وہ بادل خاندان کا ہے تو پھر سیاست سے الگ ہونے کی ضرورت کیا ہے؟سب بخوبی جانتے ہیں کہاکالی دل کی طاقت گردواروں پر رسوخ اور قبضے سے آتی ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Nov 18, 11:05 am

چناوی بحث کی تصویر

چناوی بحث کی تصویر

چناؤ کے دوران بحث کی جو تصویر ابھرتی ہے اس سے ملک کی حالت کا اشارہ ضرور ملتا ہے۔ ہندوستان میں زیادہتر بحث پارٹیوں کی نا اہلیت اور عوام کو گمراہ کرنے کو لیکر دکھائی دیتی ہے۔ ہر پارٹی دوسری کو عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مفاد کومقدم رکھنے کا الزام دیتی ہے۔ جو اقتدار سے باہر ہیں ان پر گزشتہ دور میں خود غرضی کا الزام لگایا جاتا ہے اور جو اقتدار میں ہیں ان پر موقع پرست اور گمراہی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کہیں بھی ملک کی اقتصادی ترقی یا بہتری کا ذکر نہیں ہوتا۔ایسا مانا جاتا ہے کہ وہ ہو رہی ہے اور آگے کو گامزن ہے ۔نہ اقتدار والے ڈھول پیٹتے ہیں اور نہ اپوزیشن والے دہائی دیتے ہیں۔یہ اس بات کا اشارہ مانا جانا چاہئے کہ ہندوستان بہتری کی راہ پر بڑھ رہا ہے ۔اس کے انداز میں سوچ کا نفاق ہو سکتا ہے،لیکن بنیادی بہتری سب قبول کر رہے ہیں۔کچھ برسوں سے یہ ضرور نظر آنے لگا کہ بہت سی مشکلوں کے لئے تاریخ سے سابق پارٹی کو ذمہ دار دیا جاتا ہے۔ تقریروں کے لئے یہ جوش پیدا کرتا ہے لیکن اس میں وزن نہیں مانا جاسکتا۔گزرے ہوئے دور میں کس نے کیا فیصلہ کیوں لیا، اس کی بیانی کوئی نہیں سکتا ۔اس لئے یہ محض بیانات تک ہی دیکھا جانا چاہئے۔بدیشوں مین یہ تصویر غور میںآتی ہے۔ اس سے اقتصادی نظریہ بنایا جاتا ہے۔اس پہلو سے ہندوستان کو فخر ہونا چاہئے کہ وہ پایئیدار قدموں سے بڑھ رہا ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Nov 16, 10:46 am

بڑھتی روزمرہ تشدد کی وجہ روحانیت کی کمی

بڑھتی روزمرہ تشدد کی وجہ روحانیت کی کمی

روزانہ زندگی میں تشدد کا اضافہ نہ صرف چنتا کی بات ہے،بلکہ انسانی سوچ کے لئے بحران کی وجہ ظاہر ہونی چاہئے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو لیکر زندگی اور موت کا منظر پیدا کیا جانے لگا ہے۔ وجہ الگ الگ ہو سکتی ہیں، لیکن رد عمل یکساں ہونے کا سلسلہ بنتا جا رہا ہے۔مریض ٹھیک نہیں ہوا تو ڈاکٹر پر حملہ، ڈاکٹر اگر مریض سے ناخوش ہے تو اس کو تشدد کا نشانہ بنانا، سڑک پر راستہ نہ ملا تو بندوق اور چھرے چل جاتے ہیں۔ ہوٹل میںکھانا لانے میں تاخیر ہو تو بوال کھڑا کیا جاتا ہے، کھانا کھانے کے بعد بل ادائیگی کو لیکر بات کم، مار پیٹ زیادہ ہونے لگی ہے۔ا سکول میں بچے کی پڑھائی سے ناخوش والد ٹیچروں کو غصہ اور طاقت سے دھمکی دیتا ہے۔ اگر اسکول میں انتظامیہ سے ملازم مطمئن نہیں تو توڑ پھوڑ اور دنگا سےحل نکالاجانے لگا ہے ۔اس طرح فہرست اتنی لمبی ہے کہ اس کو ایک جگہ پر درج کرنا آسان نہیں۔ ان سب کے علاوہ بات کوئی نہیں ہوتی اور تشدد ہونے لگتی ہے۔اچھے گھروں کے لوگ، بااثر رتبے والے اور سماج میں عزت کا دعویٰ کرنے والے ایسا رویہ اختیار کرنے لگے ہیں اور اس کو معمول کے طور پرقبول کیا جانے لگا ہے۔یہ ایک ملک یا تہذیب کا مسئلہ نہیں،بلکہ کل انسانیت کی پریشانی ہونی چاہئے۔ہر ملک اس کو محسوس کر رہا ہے۔ہم، ہندوستان میں زیادہ چنتا کرتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں عقیدہ اور تہذیب تحمل کا سبق دیتی ہیں۔پھر بھی حالات نازک شکل لے رہے ہیں تو تکلیف کا مدعا ہے۔ مشکل یہ ہے کہزندگی میں خلوص برطرف کرکے دکھاوا اول بنا دیا گیا۔ ہر دائرے میں یہ بہت بڑھ چڑھ کر ہونے لگا ہے۔ مذہب بہت مقبول ہیں، لیکن روحانیت تنہا ہو رہی ہے۔رشتوں کے دعویدار بے شمار ہیں، لیکن نبھانے والا تنہا ملتا ہے۔تیوہار شان اور شوکت سے منائے جاتے ہیں،لیکن ان کے ساتھ وابستہ جذبات بھلا دیئے گئے ہیں۔ دولت حاصل کرنا زندگی کا اہم پہلو ہے، لیکن اس کا استعمال کرنا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔دان دینا زندگی کے لئے ضروری ہے،لیکن اس کو صحیح جگہ پہنچانا اہم نہیں رہا۔ پڑوسی سے جان پہچان ہونی ضروری ہے لیکن اسکے دکھ سکھ میں شریک ہونا ضروری نہیں رہا۔آدمی اور عورت میں جسمانی تعلقات فطری ہیں، لیکن ان کے ساتھ کسی پاک رشتے کو جوڑنا غیر ضروری ہو گیا ہے۔ ہر موڑ پر دکھاوا ہے، ہر قدم پر مقصد ہے اور ہر مشکل کے لئے تشدد حل ہے!یہ آج کا نچوڑ بن گیا اور ہم سب اس کو عام بات مان کر جی رہے ہیں۔ پھر جب روزانہ تشدد کے منظر ابھررہے ہیں تو حیران کیوں ہوتے ہیں ؟ نوین
Editor Name: نوین Updated: Thursday, Nov 14, 11:33 am

خالصتانی سازش کو جڑ سے اکھاڑنا لازمی

خالصتانی سازش کو جڑ سے اکھاڑنا لازمی

امریکہ میں بیٹھ کر خالصتانی انتہا پسند جو سازش کر رہے ہیں وہ ہندوستان اور پوری دنیا میں رہ رہے ہند نسل کے لوگوں کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے ۔اس کو جڑ سے اکھاڑنا لازمی ہے۔ بار بار پنو امریکی زمین سے ہندوستان کو دھمکی دے رہا ہے۔کبھی ہندوستان کے سفارتکاروں کو، کبھی ہندوستان کے ہوائی دائرے کو اور اب ہند وستان میں مندروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حال ہی میں کہا گیا کہ ایودھیا کے رام مندر کو تباہ کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسا بیان دے کر اصلیت میں کارواائی کا ارادہ نہیں،لیکن اس سے بہت زیادہ سنگین نتیجہ پیدا کرنے کا مقصد ہے ۔ہندوؤں کے جذبات سے کھیلا جا رہا ہے۔جو مندر برسوں کے بعد وجود میں آیا اور کتنے لوگوں نے قربانیاں دیں تاکہ اس کو قائم کیا جاسکے، اس کو تباہ کرنے کی بات غصہ پیدا کرے گی ہی ۔یہی خالصتانی انتہا پسند چاہتے ہیں۔ وہ ہندو سکھ نفاق کی آگ لگانے کی کوشش میں ہیں ۔یہ صرف ہندوستان کے اندر کے لئے نہیں، بلکہ پوریدنیا میں رہ رہے ہند نسل کےلوگوں کو بانٹنے کے ارادے سے ہے۔یہ خالصتانی انتہا پسند اس کوشش میں ہیں کہ ہندوستان، سکھ دشمنی ابھرے اور وہ علیحدگی کا راستہ اختیار کریں ۔وہ اپنا گندہ کام معصوم لوگوں سے کروانے کی سازش کر رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کیوں ایسا ہونے دے رہی ہے؟ یہ وہی بتا سکتی ہے ۔اس کا نقصان اس کو بھی بھگتنا پڑے گا۔بدیش میں جو ہو رہا ہے وہ بدیشی سنبھال لیں گے، ہم کو اپنا گھر بچانا ہے۔ہندو سکھوں کو پہلے بھی لڑانے کی سازشیں کیگئی ہیں۔ وہ سب ہندو سکھوں نے مل کر ہی ناکام کی ہیں۔ اب بھی ایسا کرنا لازمی ہے ۔سرکاریں اپنا کام کریں گی۔ عوام کو اپنا دائرہ مضبوط بنانا ہوگا۔ نوین


Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Nov 13, 10:22 am

بنگلہ دیش میں یونس صاحب کوغور کرنا لازمی

بنگلہ دیش میں یونس صاحب کو غور کرنا لازمی

بنگلہ دیش کے حالات درست ہونے سے ابھی بہت دور ہیں۔خبریں اپنی جگہ ہیں، لیکن زندگی اپنی جگہ ! جس طرح کے اشارے مل رہے ہیں ان سے عالمی دائرے میں چنتا ہو گی ہی۔ ہندوستان کے لئے تو مسئلہسنگین ہے، لیکن اس کے باوجود ہندوستان بہتری کے لئے امید قائم رکھے ہوئے ہے۔اس امید کی بنیاد ہے یونس صاحب۔ جناب محمد یونس بنگلہ دیش سرکار کی پہچان ہیں اور وہی دنیا میں اسکا چہرہ ہیں ۔یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنا وجود با اثر انداز سے ظاہر کریں۔صرف بدیش دورے اور امریکی سرکار سے ملاقات یہ فرض پورا نہیں کرتے۔اس کے لئے ملک کے اندر ٹھوس تبدیلی لانی ضروری ہے۔جذباتی اقدامات سمجھ آتے ہیں لیکن جذباتسے تو ملک نہیں چلے گا۔ اس کے لئے عالمی برادری کو ہاتھ بڑھانا ہوگا۔وہ تبھی ہوگا جب ہاتھ یونس صاحب کا ہو۔اگر طلباء لیڈر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ یونس صاحب کو مکھوٹا بنا کر اپنا مفاد حاصل کرتے رہیں گے تو یہ بہت دیر نہیں ہو سکے گا۔یونس صاحب کو ملک کے نظام میں توازن قائم کرنا ہوگا۔وہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ مجیب صاحب کی وجہ سے بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ ان کو تاریخ سے خارج کرنا نادانی ہے۔طلباء لیڈر اچھے ہو سکتے ہیں، لیکن ان کو عالمی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے سوچ قائم کرنی ہوگی ۔موجودہ ماحول میں ایسا لگ رہا ہے کہ بنگلہ دیش دوسرا افغانستان بننے کی راہ پر ہے۔وہاں کتنے لیڈر بدلے یہ گنتی بھی مشکل ہے۔اپنی شخصیت کو ملک کے مفاد کے لئے لاگو کرنا یونس صاحب کا فرض ہے۔تاریخ کو بدلنے سے بہتر ہے کہ مستقبل پر دھیان دیا جائے ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Nov 12, 11:25 am

چناؤ میں اب بھی تحفے اہم

چناؤ میں اب بھی تحفے اہم

ہم جدیدیت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن جمہوریت میں آج بھی اول دھیان تحفوں کو ہی دیا جاتا ہے ۔ایسا مانا جانے لگا ہے کہ لوگ بہت سمجھدار ہو گئے ہیں اور وہ اپنا بھلا برا بخوبی پہچان کر فیصلہ لیتے ہیں۔وہ بھلا برا کہاں تک کتنا اثر چھوڑتا ہے یہ کس کو دیکھنے کا وقت ہے ؟فوری طور سے کیا حاصل ہوگا اور اس سے ابھی کتنا فائدہ ہے۔ اسی پر ساری رائے قائم ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور لیڈر اس کو اچھی طرح سمجھ کر اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔عوام کو ملتا ہے لیکن مستقبل کا دھیان نہیں رکھا جاتا۔کیا وعدہ ہو رہا ہے، اور کیا یہ پورا ہوگا۔ اسی سے ووٹ دی جاتی ہے ۔وہ کب تک وفا ہوگا اور کیسے کیا جائے گا، اس پر سوچنا ضروری نہیں ہوتا۔نتیجہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔زیادہتر تجویزیں پارٹیاں اپنے خاص لوگوں کو فائدہ دینے کے ساتھ مکمل مان لیتی ہیں۔ اعداد و شمار کے لئے سب جائز دکھتا ہے ۔اصل لوگوں کو کتنا فائدہ ہوا یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تحفوں کی سیاست کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں،لیکن عمل میں وہی لائی جاتی ہیں!ظاہر ہے کہ سیاست کی بنیاد پختہ نہیں ہوتی۔عوام کو اس پر غور کرنا چاہئے۔آج جو وعدے کئے جارہے ہیں۔ وہ کل پورے کہاں سے ہوں گے؟اگر سرکار بدل گئیتو ان وعدوں کا کیا ہوگا؟تب زندگی کہاں ہوگی؟ ان پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے تحفہ سیاست کو رد کرتے ہوئے ٹھوس عمل پر ووٹ دینا زیادہفائدہ مند ہوگا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Nov 11, 11:16 am

فرقہ وارانہ فساد کیوں بڑھ رہے ہیں ؟

فرقہ وارانہ فساد کیوں بڑھ رہے ہیں ؟

پہلے فرقہ وارانہ تشدد اور فساد ہندوستان اور جنوب ایشیا میں زیادہ سنے جاتے تھے، لیکن اب وہ یورپ اور امریکی ملکوں میں بھی عام ہوتے جا رہے ہیں ۔اس کی وجہ تو ہوگی!یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ کسی بھی تشدد کے پیچھے اقتصادی پہلو ضرور ہوتا ہے۔جہاں اقتصادی دائرہ مضبوط ہو، وہاں تشدد خود بخود پیچھے دھکیل دی جاتی ہے ۔اسی لئے یہ مانا جاتا تھا کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں یہ مسلہ قائم رہتا ہے،لیکن اب وہ پہلو تو لاگو نہیں رہا ! اب تو ترقی یافتہ ملکوں میں فرقہ وارنہتشددبڑھ رہےہیں۔چاہے یوروپ ہو یا امریکی ممالک دونوں میں روزانہ واقعات ظاہر ہوتے ہیں۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ اقتصادی مشکل نہ ہونا مسئلہ بن رہا ہے؟ان ملکوں میں بنیادی ضروریات حاصل ہوتی ہیں۔غریبی اپنی جگہہے،لیکن بھوک سے لوگ نہیں مرتے۔جب پیٹ بھرا ہو اور زندگی مین کوئی مقصد نہ ہو تو تشدد کی طرف دھیان جاتا ہے۔اس کے ذریعے لوگ مقصد بنا لیتے ہیں۔ اپنے مذہب اور فرقے کے محافظ ہونے کا ذمہ اپنے کندھوں پر خود اختیارلئے ہیں اور اس کی ترجمانی بھی کرنے لگتے ہیں۔وہی ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔دوسرا پہلو جو ممکن ہو سکتا ہے، وہ ہے بڑی امیدیں اور ان کو پورا نا کر پانا۔ پھر اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ایسا راستہ اپنایاجاتا ہے جس میں بہادری اور ہمت ظاہر ہو۔ اس سے فائدہ یا نقصان نہیں سوچا جاتا۔ صرف ذاتی ساکھ کی کامیابی کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔اس صورت میں جو ہالینڈ میں ہوا وہ حیرانی کی بات نہیں۔علاقائی فرقے جو برسوں سے اتحاد سے وقت گزارتے تھے ۔ اب دشمنی کا عالم پیش کر رہے ہیں۔یہودی جماعت کے خلاف رویہ بے بنیاد ہے، لیکن خود کو خاص اور بڑا ثابت کرنے کے لئے ایسا غلط راستہ لیا جاتا ہے۔ چاہے فرانس ہو یا کوئی اور ملک، عوام کو احساس کرنا ہوگاکہ وہ ذاتی زندگی کو سیاست کے گروی رکھ کر کچھ حاصل نہیں کریں گے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Nov 9, 11:34 am

کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ

کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ

ابھی تو گاؤں بسنے کی تجویز بنی ہے اور پہلے ہی نظم و نسق کامسئلہ کھڑا ہونے لگا !کشمیر اسمبلی میں جو ہنگامہ ہوا وہ کسی طرح سے بھی جائز نہیں مانا جاسکتا۔سیاست میں بہت کچھ کرنے کو اجازت ہوتی ہے لیکن اس میں کردار اور اصول کےپہلو قابل غور ضرور ہوتے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ انھیں دونوں نقطوں کو اول رد کر دیاجاتا ہے تاکہ سیاسی مہارت ظاہر ہو!یہ دکھ کی بات ہے کہ سیاست کو بڑھانے کے لئے انسانیت سے سودا کرنے کی نوبت آگئی ہے ۔جو سلسلہ انسانیت کی مثال دینے کا ذریعہ ہونا چاہئے وہی اس کو کمزور کرنے کا طریقہ بنایا گیا ہے۔کشمیر میں ایک عرصے کے بعد جمہوری منظر ابھر کر آیا ہے۔اس کے ٹھیکیداروں کو کچھ تو خیال رکھنا ہی ہوگا۔ذاتی نظریہ بہت اہم ہوتا ہے، لیکن ذاتی کردار کو نظر انداز تو نہیں کیا جانا چاہئے ۔مدعا جو بھی ہو ، اس کے لئے حمایت یا مخالفت کتنی بھی ہو، ہر جذبے کو ظاہر کرنے کی ایک مریادہ ہوتی ہے ۔اس کو پار کرنا مدعے کو کمتر کرنا بن جاتا ہے۔کشمیر کے لوگ اپنے وجود کو اہمیت دیتے ہیں، لیکن وہ وجود قابل مثال ہونا لازمی ہے۔اسمبلی کے اندر جو منظر بنا وہ اس کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے ۔یہ عوام کے یقین سے نا انصافی ہوگی ۔سیاسی لیڈروں کو اپنی پارٹی کے لوگوں کو مثال قائم کرنے پر پابند رکھنا ضروری ہے۔کشمیر کے لوگ انتہا پسندی کو رد کرکے جمہوریت پر یقین کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ یقین کمزور نہیں پڑنے دیا جانا چاہئے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Nov 8, 11:29 am

ٹرمپ کی جیت اور اسلامی ممالک ؟

ٹرمپ کی جیت اور اسلامی ممالک ؟


ٹرمپ امریکہ کے صدر بن گئے ہیں۔ آخر تک نتائج کو لیکر تناؤ کا عالم تھا، لیکن مکمل جیت سے ٹرمپ نے اس کو ختم کر دیا۔صدر ٹرمپ کے پہلے دور سے چند نقطےنے بین الاقوامی سیاست کو جھنجوڑ دیا تھا۔ظاہر ہے کہوہ سب پھر سے چنتا میں گھر گئے ہیں۔ان سب کے ساتھ ٹرمپ صدارت کو اسلامی ملکوں میں کیسے دیکھا جارہا ہے۔ یہ بھی عالمی دائرے پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کسی سے چھپا نہیں کہ ٹرمپ نے اسلامی ملکوں کو بہت حوصلہ نہیں دکھایا تھا۔ اسرائیل کی راجدھانی کو لیکر جو بحث بھاری وہ خود اپنے آپ میں پیغام بنگئی تھی۔اس وقت اسرائیل حماس جنگ نے اسلامی ملکوں میں نئےپہلو ابھرنے کا سلسلہ بنایا ہے، لیکن وہ زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل کو زیادہ مضبوطی دینے پر تیزی دکھائے۔ایسا ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ایران کے ساتھ پہلے بھی مسئلےتھے۔اب وہ نئے رنگوں میں رنگے جاسکتے ہیں ۔ عراق امریکہ کے لئے جو فائدہ دینے کی امید بنا رہا تھا وہ ہوئی نہیں۔ظاہر ہے کہ وہاں بھی ٹرمپ انتظامیہ بہت ہمدردی نہیں دکھائے گی۔ ترکی اردوگان کی رہنمائی میں امریکہ سے دوری بنائے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور کھاڑی کے ممالک امریکی سوچ کو قائم رکھتے ہوئے اپنے وجود کو مضبوط بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان سب کے بیچ ہے مصر۔وہاں اسلامی سوچ اور مغربی رویہ تول مول کر قائم رکھنے کی کوشش ہے۔اس صورت میں اگر ٹرمپ انتظامیہ کوئی نیا فلسطین کے خلاف قدم تجویز کرتا ہے تو اس کا اثر ان سب ملکوں پر پڑنا لازمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے اسلامی ممالک امریکہ سے فاصلہ بناتے ہیں تو وہ کون سا رخ اختیار کریں گے؟کیا وہ روس سے نزدیکی کرنا چاہیں گے؟کیا وہ چین کو دوست بنالیں گے؟کیا وہ اپنے آپ میں ایک گٹ بن کر ابھرنے کی کوشش کریں گے؟ان سب کے علاوہ ایک متبادل اور ہے۔وہ ہے ہندوستان!ہند اسلامی ملکوں کے لئے ایک ٹھوس مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ سب اس سوچ کو بڑھاوا نہیں دیں گے،لیکن اکثریت اس کو حمایت دینے سے پرہیز نہیں کریں گے۔کیا یہ ایک نیا منظر ٹرمپ صدارت پیدا کر سکتی ہے؟اس کا اثر کل دنیا پر بھی پر سکتا ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Nov 7, 11:16 am

امریکی صدر کے چناؤ میں دلچسپی

امریکی صدر کے چناؤ میں دلچسپی


امریکہ کے صدارتی چناؤ صرف وہاں کے لوگوں کے لئے دلچسپی نہیں پیدا کرتا بلکہ عالمی سطح پر بھی دھیان سے دیکھا جاتا ہے۔حالانکہ کچھ برسوں سے ایک روایت سی بن گئی ہے کہ امریکہ کے بین الاقوامی اثر کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیئے جانے کے خلاف رویہ ۔یہ کسی حد تک صحیح بھی مانا جا سکتا ہے ۔اس کے باوجود عالمی اسٹیج پر امریکہ کو لیکر ایک خاص دلچسپی قائم ہے اور رہے گی۔ تبھی اس کے صدر کے چناؤ کو لیکر چاروں طرف چرچا ہے۔یہ قابل غور ہے کہ جو مثال امریکی چناؤ دیا کرتے تھے، وہ اب نظر نہیں آتی۔ جس طرح کا ماحول اب دیکھنے کو ملتا ہے، وہ جمہوری معیار میں بہت اچھا نہیں کہا جائے گا۔ ان سب باتوں کے ساتھ وہاں کا صدر ایک خاص رتبہ رکھتا ہے جس کی حمایت کسی بھی عالمی لیڈر کے لئے فخر کی بات مانی جاتی ہے ۔اب چناوی نتائج میں تاخیر بھی ہوتی ہے اور تناؤ بھی ابھرتا ہے ۔یہ سب پہلے نہیں ہوتا تھا۔بنیادی طور سے جن اصولوں کو لیکر امریکی سیاست دنیا کے سامنے آتی تھی وہ سب دُھند میں کھو گئے ہیں ۔اب صرف خواہشیں اور انکو پورا کرنا اول ہو گیا ہے! ایسا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ابھی ہوئے چناؤ کے مکمل نتیجے آنے میں چند روز لگ سکتے ہیں ۔اس کے بعد ہی اصل تصویر ظاہر ہوگی ۔تب تک دنیا اپنے اندازے اور امیدیں الگ الگ طریقے سے ظاہر کرےگی ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Nov 6, 11:35 am

رشتوں کے تیوہار، تیوہار میں رشتے ؟

رشتوں کے تیوہار، تیوہار میں رشتے ؟


تیوہار ختم ہو گئے اور زندگی اپنی رفتار سے گامزن ہے۔سیاست بھی اپنی چال بے ڈھنگی سے چلتی جاتی ہے ۔ان سب میں انسان اپنے رشتوں کو لیکر پریشان ہوتا آیا ہے۔جو بھی کہا جائے انسانی زندگی رشتوں پر ہی قائم ہے ۔یہی بنیاد ہیں اور یہی مقصد بھی۔ان کی ترجمانی الگ الگ ہو سکتی ہے،لیکن اصل وجود جوں کا توں رہتا ہے ۔آج انسان تیزی سے آگے بڑھنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن رشتوں کی بنیاد بہت پیچھے رہتی جا رہی ہے ۔اس پر چند الفاظ پیش کر رہا ہوں۔ہو سکتا ہے کہ کہیںآپ کو کوئی جھلک دکھائی دے !
رشتوں سے تیوہار ہوتے ہیں،
تیوہاروں میں رشتے کھو رہے ہیں!
ہر تیوہار ایک رشتے پر قائم ہے
ہر خوشی جذب دل سے دائم ہے
تیوہار کی بنیاد عقیدت پہ ہے
اس میں جشن خدا کی رحمت سے ہے
رشتہ تو انسان کا خالق سے بھی ہے
زندگی میں رونق اسی کے کرم سے ہے
کیوں آج تیوہار میں رشتے غایب ہیں
جذبہ کھو گیا بس دکھاوا صاحب ہے
چمکتے رواجوں نے منظر سجا دیا ہے
ہر موقع کو ایک سودا بنا دیا ہے
تیوہاروں کی تعداد بڑھتی آئی ہے
جذبات کی شرکت سکڑتیگئی ہے
ہر مذہب اپنے تیوہار کا دعویدار ہے
رسمیں پابند ہیں روحانیت یتیم لاچار ہے
رشتوں میں خلوص کا بھاری قحط ہے
تبھی تیوہاروں میں بھی پوشیدہ ہے
تیوہار ابھارتا انسان کا بھگوان سے ناطہ ہے
اسی کو آدمی تجارت میں الجھاتا ہے
رشتہ وہ جو دل سے دل جوڑتا ہے
تیوہار سے وہی مضبوط بنتا ہے
رسموں کی چمک اب تیوہار کا وجود ہے
خلوص دفن اور جذبہ تنگ و محدود ہے
جب تیوہار کا یہ عالم ہو گیا ہے
پھر رشتوں کا تیوہار کیسا
اور تیوہار میں رشتہ کیسا ؟
نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Nov 5, 10:49 am

خالصتانی انتہا پسندی کو حوصلہ

خالصتانی انتہا پسندی کو حوصلہ

حیرانی کی بات ہے کہ بین الاقوامی اسٹیج پر خالصتانی انتہا پسندی کو حوصلہ دیا جا رہا ہے ۔قابل غور مدعا یہ ہے کہ جو بھی تشدد اور تناؤ پیدا کیا جارہا ہے، وہ ہندوستان کے باہر ہے ۔اس کا نشانہ ہندوستان کی سرکار ہے، لیکن کارروائی میلوں دور ہوتی ہے ۔اس کا نقصان وہاں کے لوگوں کو ہو رہا ہے ۔چاہے کینیڈا ہو، امریکہ ہو یا برطانیہ ہو۔ سب جگہ تکلیف وہاں کے رہنے والوں کوہوتی ہے۔ یہاں نسل اور مذہب کا بھی بہت فرق نہیں پڑتا ۔نظم و نسق بگڑتا ہے تو اس کا اثر سب کو محسوس ہوتا ہے ۔پھر بھی ان ملکوں کی سرکاریں ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہیہیں ۔کیوں ؟کیا ان کو خالصتان سے اتنا پیار ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پریشان کرنے کے لئے راضی ہیں ؟یا پھر کوئی دوسری وجہ ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ کہیں ہندوستان کی ترقی نے بہت سے لوگوں کو چنتا میں ڈال دیا ہے۔ وہ اسے برداشت نہیں کر پارہے ۔اس کو بگڑنے کے لئے وہ اپنے گھر میں آگ لگانے کو تیار ہیں تاکہ تپش ہندوستان کو پہنچے!لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ خالصتان کا زہر پہلے انہیں ملکوں کو تباہ کر رہا ہے جہاں ان کو حوصلہ مل رہا ہے ۔ووٹوں کے لئے جو تماشے ہو رہے ہیں وہ ان کو بڑھاوا دینے والوں کے لئے سب سے مہنگے پڑیں گے اور پڑ بھی رہے ہیں ۔ہو سکتا ہےکہ اس کے جھنڈے کو ہوا دینے والے سیاستداں انتہا پسندی ووٹوں کو حاصل کر لیں،لیکن وہ اپنے لوگوں کے پر امن اور انسانیت پسند سوچ کی حمایت کھو رہی ہیں ۔یہ کینیڈا میں تو بہت ابھر کر آرہا ہے ۔امریکہ اور برطانیہ میں بھی اس کا اثر ظاہر ہوگا ہی!وقت بتائے گا کہ خالصتان کا یہ تیر کون سے نشانے کو زیادہ گھائل کرے گا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Nov 4, 11:25 am

امریکہ کے صدارتی چناؤ میں ہندوستان

امریکہ کے صدارتی چناؤ میں ہندوستان

کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ کے صدارتی چناؤ میں ہندوستان کا خاص درجہ ہے۔ شاید ہی کسی دوسرے ملک کو اتنا وجود ملا ہے جتنا کی ہندوستان کو دیا جارہا ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ وہاں پر رہ رہے ہند نسل کی آبادی کا اثر ہے ۔یہ لوگ کامیاب ہی نہیں،بلکہ سماج پر گہرا اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ایک دور تھا جب ہند نسل کے لوگ دب کر بدیشوں میں رہتے تھے۔ اس کی وجہ تھی ان کے گھر کے اندرونی حالات- اب وہ دور گزر گیا ۔یہ سب ایک رات میں نہیں ہوا ۔برسوں سے محنت ہوتی رہی اور ہندوستان نے اپنا بین الاقوامی رتبہ بلند کیا جس سے اس سے وابستہ لوگوں کو فخر ہو، چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں رہ رہے ہوں ۔اس کے لئے سب گزشتہ لیڈروں کے یوگدان کو قبول کرنا لازمی ہے ۔ان سب کی سوچ کے ساتھ ہی ہندوستان آج عالمی برادری میں رسوخ ظاہر کر رہا ہے ۔امریکہ کے صدارتی چناؤ میں ہندوستان کا ذکر ظاہر کر رہا ہے کہ وہاں کے لیڈر اس کی اہمیت کو پہچان کر اپنی سوچ پیش کر رہے ہیں۔دیوالی کا جشن اور ہند کے رواجوں کو زندگی کا حصہ ظاہر کرنا اس کا ثبوت ہے۔ اس فضا کی بنیادی وجہ ہے بدیشوں میں رہنے والے ہند نسل کے لوگوں کا اپنی جڑوں سے جڑنا اور ان کی طاقت کو قبول کرنا۔چاہے تیوہار ہوں، رواج ہوں، سیاسی بحث ہو، یا بین الاقوامی نظریہ ہو ۔ان سب کے ساتھ وابستہ رہنے سے ان لوگوں کو بدیشوں میں بھی ہندوستان کی عظمت کا پرچم لہرانے میں مدد دی ۔یہی ہندوستان کی تہذیب کا اثر کہا جاسکتا ہے ۔مودی سرکار نے اس سلسلے کو مضبوطی دی اور حوصلہ دیا۔ نوین
Editor Name: نوین Updated: Monday, Nov 4, 11:26 am

دیوالی مبارک ہو

دیوالی مبارک ہو


دیوالی کا تیوہار پوری دنیا میں جوشو خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ جہاں ہندوستانی نسل کے لوگ ہیں وہاں اس کا جشن خود بخود ابھر کر آتا ہے ۔اب تو غیر ہندوستانی بھی اس کا لطف لینے لگے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے پیچھے مقصد سیاسی یا ذاتی مفاد ہوتا ہے ۔وجہ جو بھی ہو، تیوہار تو مقبول ہے اور اس کےلئے دلچسپی بھی ظاہر ہے۔ دیوالی بھگوان رام کے بنواس کے بعد ایودھیا لوٹنے اور لکشمی پوجا کی اہمیت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں رام کی ایودھیا بھی سیاست میں الجھ گئی، لیکن لکشمی پوجا اپنی جگہ برقرار ہے۔ شاید آج کا انسان لکشمی جی پر اس قدر نربھر ہے کہ وہی ہر پہلوکا معیار مان کر دیکھی جاتی ہے۔ دولت کوئی غلط بات نہیں ۔اس کے لیے جدوجہد کرنی اپنے آپ میں تپسیا ہے،لیکن اس کے لئے باقی ہر پہلو کو رد کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔یہ محض بحث کا موضوع رہ گیا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہدولت سے رتبہ، دولت سے شرافت، دولت سے عزت، دولت سے ہر کرم کو جائز بنا لیا جاتا ہے۔پھر لکشمی پوجا سے ہی دیوالی کی پہچان رہ جانی حیرانی کی بات نہیں۔قابل غور بات ہے کہ اگر دولت کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے تو وہ دوسرے کی زندگی میں بھی دیکھی جانی چاہئے! ایسا ہوتا نہیں۔جس روز انسان دولت کی اہمیت کو اپنے ساتھ دوسرے کی زندگی میں قبول کرنے لگے گا، اس روز سے لکشمی پوجا کا آنند ہی نیا محسوس کیا جائے گا۔کیا اس دیوالی اس کی کوشش کی جاسکتی ہے؟اگر ہم دولت کا وجود دوسرے کے نظریئے سے نہیں سمجھ سکتے تو اصلیت میں ہم اس کو اپنی زندگی میں بھی نہیں سمجھتے ہیں! اس دیوالی ماں لکشمی سے پرارتھناہے کہ وہ ہم کو اس کی اہمیت کا معنی صحیح نظریئے سے سمجھنے کی شکتی دے۔ وہ دیوالی کی اصل خوشی اور چمک پیدا کرے گی۔!
سب کو دیوالی مبارک ہو ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Oct 30, 10:49 am

تامل سیاسی اسٹیج پر نیا ہیرو

تامل سیاسی اسٹیج پر نیا ہیرو

فلمی دنیاکے مقبول اور مشہور نائک وجے تامل سیاسی اسٹیج پر نئے ہیرو کی طرح ابھر رہے ہیں ۔اندازاً 8 ماہ پہلے نئی پارٹی کا اعلان کر کے انہوں نے ظاہر کیا تھا کہ وہ سیاسی اسٹیج پر نیا دور لانے کو تیار ہیں۔یہ پوچھا جا رہا ہے کہ پہلے ہی جہاں فلمی اثر بھر پور ہے وہاں ایک نیا دعویدار کیا نئی کہانی رقم کرے گا؟ اس میں دو رائے نہیں کہ تامل سیاست میں فلموں کا اثر بے شمار ہے ۔اس کا مقابلہ کسی دوسرے پہلو سے کرنا نادانی ہو گی۔ لیکن یہ سوچنا کہ وہاں نئے کھلاڑیوں کے لئے جگہ نہیں، نا سمجھی کہی جاسکتی ہے۔ اول نقطہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی دائرے میں جو بھی کردار ہیں وہ فلموں سے وابستہ ہیں لیکن سیدھا جوڑے نہیں ہوئے ۔ڈی ایم کے میں کروناندھی جی کے بعد ان کےنام سے فلمی اثر جڑا ہے ۔جے للیتا کے بعد ان کی پارٹی میں وہ شہرت رکھنے والا ہے نہیں۔ کانگریس کے پاس بھی اپنا خاص وجود نظر نہیں آتا ۔بھا جپا کے لئے تو پیر جمانے کی کوشش ہی چل رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی سیدھا فلمی پردے سے سیاسی اسٹیج پر آئے گا، اس کا اثر ضرور ہوگا۔ دوسرا نقطہ ہے جے للیتا کی پارٹی میں دراریں۔پارٹی بھاجپا کے ساتھ مل کر ہی کچھ ٹھوس نہیں دکھا سکی۔ششی کلا کے آنے سے نئیامید نظر آنے لگی، لیکن جلد ہی وہ غائب بھی ہوگئی ۔یعنی اے آئی اے ڈی ایم کے کا تامل سیاست میں وجود کمزور ہوتا نظر آتا ہے۔ اس کی جگہ لینے والا کوئی نظر نہیں آرہا تھا ۔اب وجے اس کے دعویدار بن سکتے ہیں۔ تیسرا نقطہ ہے مرکز اس نئیپارٹی کو کیسے دیکھتا ہے؟کیا بھا جپا نئے چہرے سے جڑ کر اپنی پہچان بنانے کی کوشش کرے گی؟اے آئی اے ڈی ایم کے کو لیکر جو امیدیں بنی تھیں وہ سب غرق ہوگئی ہیں۔اگربھاجپا وجے کو ساتھی بنانا چاہے گی تو اس سے دونوں کو طاقت کی امید ہے۔یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا تاملا ویتری کزغم کے پیچھے مرکز کا آشیرواد تو نہیں؟ اصلیت وقت ظاہر کرے گا، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تامل سیاسی اسٹیج پر نیا ہیرو آگیا ہے! نوین
Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Oct 29, 11:27 am

دہلی سیاسی داؤ پیچ میں پھنسی ہے

دہلی سیاسی داؤ پیچ میں پھنسی ہے

جمہوریت میں سیاست کے ذریے عوام کو بہتر مواقع حاصل ہونے کی راہ مانا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی یہ راہ اس قدر الجھ جاتی ہے کہ منزل تو کیا دِشا بھی کھو جاتی ہے ۔دہلی اسی طرح کی سیاسی الجھن میں پھنسیہے ۔کہنے کو آپ سرکار کے پاس مکمل اکثریت ہے، اور اس کو اس کا استعمال کرتے ہوئے ٹھوس فیصلے لینے چاہئیں۔ ان کا اثر بھی ظاہر ہونا لازمی ہے ۔اگر ناکامی ہے تو وہ بھی سامنے آئے گی،لیکن مرکز اور صوبے کی سرکاروں کے درمیان جو کشمکش بنی ہوئی ہے اس نے فیصلے لینے تو دور کی بات ہے، تجویزیں بھی نہیں آنے دیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ والے دعویٰکرتے ہیں کہ وہ ٹھوس کام کرنا چاہتے ہیں،لیکن مرکز اپنی پارٹی کے ذریعے رکاوٹ بنا ہے۔ وہ کچھ ہونے نہیں دیتا۔ مرکز کا دعویٰہے کہ آپ سرکار من مانی کرتی ہے اور بھرشٹاچار میں الجھی عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ کون صحیح ہے کون غلط؟ یہ فیصلہ بڑا مشکل ہے۔ شاید ہوگا بھی نہیں۔اگر چناؤ میں آپ جیتتی ہے تو وہ ڈھول پیٹتے ہیں کہ لوگ ان کوصحیح مانتے ہیں۔ اگر وہ ہارتے ہیں تو بھا جپاکہتی ہے کہ ان کا دعویٰ درست ہے۔پریشانی یہ ہے کہ عوام کے مسئلے جوں کے توں ہیں۔ان کا کوئی ولی وارث نہیں ! کبھی پانی کی کمی ہے،کبھی بجلی کا مسئلہہے، کبھی آلودگی سے دم گھٹتا ہے اور کبھی بنیادی سہولیات کاغذ پر رہتی ہیں اور زندگی کے لئے خواب ہی بن کر ظاہر ہوتی ہیں۔دہلی کس کے دروازے پر دستک دے ؟کس کی ماں کو ماسی کہے؟کیا کوئی لیڈر ہے جو اس کا جواب دے گا؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Oct 28, 11:24 am

کامن ویلتھ کھیلوں میں تبدیلی

کامن ویلتھ کھیلوں میں تبدیلی

حال ہی میں کامن ویلتھ کھیلوں کو لیکر چند تبدیلیاں کی گئیہیں ۔بنیادی طور سے وہ کھیل ردکئےگئے جن میں ہندوستان اور کچھ ترقی پذیر ممالک اعزاز حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان تبدیلیوں کو ہندوستان کے خلاف سازش ماننا نادانی ہوگی۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ ہندوستان کی طرف سے کوئی اعتراض بھی ظاہر نہیں کیا گیا ۔ یہاں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس صورت میں ان کھیلوں کا مستقبل کیا رہ جائے گا ؟اس میں دو رائے نہیں کہ کھیل عالمی بھائی چارے کو بڑھاوا دینے میں مدد دیتے ہیں ،لیکن ان کی بنیاد تو اقتصادی پہلو سے وابستہ ہے۔ان کے ذریعے میزبان ملک اقتصادی فائدہ اٹھاتا ہے جو صرف کھیل دائرے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ مختلف شعبوں سے جڑ سکتا ہے ۔اقتصادی پہلو سے ہندوستان کی شرکت بہت اہم ہے ۔بغیر ہندوستان کی موجودگی کے بہت سے مدعے بے معنی ہو سکتے ہیں ۔اسی لئے ان کھیلوں میں دلچسپی گھٹ رہی ہے۔اس نقطے کا ایک رخ اور بھی دیکھنا ضروری ہے۔کیا ان کھیلوں کو کمزور ظاہر کرنے سے برطانیہ کی کمزوری ظاہر ہو گی؟بین الاقوامی اسٹیج پر برطانیہ کا سفارتی اثر گھٹ رہا ہے اور اس کا پہلا نتیجہ ہے کھیلوں کو غیر اہم تصویر دینا ۔ اس کا تعلق مہارانی کی موت سے بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا رتبہ الگ تھا اور ان کے لئے بین الاقوامی عزت بے پناہ تھی۔اب چارلز کا وہ اثر ہونا ممکن نہیں ۔یہ بھی ان کھیلوں سے جھلک ملتی ہے۔ کیا یہ عالمی سیاست کا اشارہ ہے؟وقت بتائےگا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Oct 26, 11:45 am

ترقی کی رفتار اہم

ترقی کی رفتار اہم

اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا ترقی نہیں کر رہی ۔ترقی ہو رہی ہے اور ہر دائرہ اس میں حصے دار ہے۔پھر بھی اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ دائرے بہت پچھڑے رہ گئے ہیں۔ اسی وجہ سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی پہچان بنی ۔ظاہری طور پر یہ صحیح ہے، لیکن اس سے ایسا ماننا کہ وہ ملک ترقی نہیں کر رہے، نادانی ہوگی۔ ترقی ہو رہی ہے ۔لازمی ہے اس کی رفتار پر غور کرنا ۔اگر ترقی ضرورتوں سے دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے تو اس کاوجود ختم ہو جاتا ہے یا گھٹ جاتا ہے۔ ضرورتیں انسان خود طے کرتا ہے اور وہی اس کے نظریئے کو وجود دیتی ہیں ۔ہندوستان میں بڑا دائرہ ہے جن کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں ۔وہ غریبی میں مانے جاتے ہیں ۔ایسا نہیں کہ لوگوں نے ترقی کا سواد نہیں لیا! لیا ہے لیکن ان کے آس پاس جو ہو رہا ہے وہ بہت زیادہ آگے ظاہر ہوتا ہے۔آج کے وقت میں ضرورت ہے ایسی تجویزوں کی جن سے ترقی کو انسانی امیدوں سے جوڑ کر رکھا جاسکے ۔یہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن لگتا ہے ۔اسی کو ثابت کرنے کے لئے سیاست کا کھیل ہوتا ہے۔کیا ہم اپنی تہذیب اور یقین کے ذریعے اپنی امیدوں کو ٹھوس سطح پر نہیں رکھ سکتے؟ اگر ایسی تجویزیں تیار کی جائیں جو عوام کی امیدوں کو قائم رکھتے ہوئے جدیدیت کی راہ پر گامزن ہوں تو شاید فضا خود بخود بہتر ہو سکے گی ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Friday, Oct 25, 11:45 am

سونے اور چاندی میں تیزی

سونے اور چاندی میں تیزی


جس طرح سے سونا اور چاندی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، ان سے ایک بات ذہنمیں ضرور آتی ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان میں لوگوں کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہے ۔یہ سچ ہے کہیہ دولت چند لوگوں کے دائرے میں محدود ہے، لیکن ہے تو ہندوستان کا حصہ ہی!ایک طرف شور مچتا ہے کہ بے روزگاری کا مسئلہعوام کو پریشان کئے ہے اور دوسری طرف سونے چاندی کی فروخت کے میلے لگتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہدولت کن کے پاس ہے، یا کہاں ہے ؟سوال یہ ہونا چاہئےکہ اس کا استعمال کیسے ہو رہا ہے؟دولت ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب بازار میں کشمکش ہوتی ہے تو سونا چاندی تیزی پکڑتے ہیں۔لوگوں کو لگتا ہے کہ ان میں سرمایہ لگانے سے پیسہمحفوظ رہے گا اور جب ضرورت ہوگی اس کو فوراً استعمال کے لائق بنا لیا جاتا ہے۔ زیادہتر تو وقت کے ساتھ کچھ منافع بھی ملتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اس دولت سے خریدا جاتا ہے جو سرکاری دائرے سے باہر رکھا جائے۔یعنی اس کو کالا پیسہ کہا جاتا ہے۔اس سے جو بھی حاصل ہو وہی اچھا لگتا ہے،لیکن اس کا استعمالبھی غیر سرکاری دائرے میں ہوتا ہے۔وہ عوام میں گھومتا تو ہے ،لیکن اس کا فائدہ چھوٹے دائرے میں ہی رہتا ہے۔یہ ملک کے مفاد میں نہیں ۔پیسہ کیسا ہے اور کہاں لگایا جارہا ہے، یہمسئلہاپنی جگہ ہے۔ اتنا تو طے ہے کہ ہندوستان میں پیسہ ہے اور بہت تعداد میں ہے۔یہ ملک کی اقتصادی پہچان کا ایک پہلو ہے جو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیا اس کا سہرہ کوئی لینا چاہے گا؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Oct 24, 11:36 am

ہندوستان عالمی اسٹیج پر

ہندوستان عالمی اسٹیج پر

روس میں ہو رہے برکس شکھر سمیلن میں پردھان منتری مودی جی کی شرکت اپنے آپ میں اہم ہے،کیونکہ اس کے ذریعے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی جھلک ملتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانکا عالمی اسٹیج پر کیا رتبہ ہے ۔ایرانی صدر سے ملاقات، روسی صدر کی گرم جوشی اور چینی صدر سے بات چیت دکھاتے ہیں کہ ہندوستان مختلف پہلوؤں سے بین الاقوامی دائرے میں رول ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اس بات کو بدیشی لیڈر بھی کھل کر ظاہر کرنے لگے ہیں ۔ روسی صدر پوتن کا برکس کے وجود کی بیانی کے لئے مودی جی کے الفاظ استعمال کرنا اس بات کا بڑا ثبوت ہے۔ ایرانی صدر کا اپنا بیان دینا کہ ہندوستان تناؤ کے دایرے میں اہم رول ادا کر سکتا ہے، بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ہند اور اسرائیل کے تعلقات کسی سے چھپے نہیں۔اس میں دو رائے نہیں کہ دنیا میں ایک دوسرے پر نربھرتا فطریہے، لیکن اس سلسلے کو ترتیب اور توازن دینا عالمی لیڈروں کی پہچان ہے ۔یہ ہند بخوبی ادا کر رہا ہے۔ اس کا اثر ہندوستان کے مفاد میں سامنے آئے گا، جس سے تجارت، بیوپار،صنعت اور سیاحت میں بہتری بڑے انداز سے ظاہر ہوگی ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Oct 23, 11:06 am

چین کے ساتھ تعلقات

چین کے ساتھ تعلقات

سرحد پر چین اور ہندوستان کے درمیان جو بہتری کا اشارہ ملا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ایک کلی کے کھلنے سے بہار کا اعلان نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس کے لئے امید تو ضرور بندھ جاتی ہے ۔اندازاً چار برس سے چین اور ہندوستان کے بیچ جو تناؤ بنا ہوا تھا وہ بہت سے مدعوں پر اثر ڈال رہا تھا۔اس کا نقصان دونوں طرف محسوس کیا جاتا تھا، لیکن ملک کی سلامتی کے آگے ہر نقطہ پیچھے رہ جاتا تھا۔ اب ایک نئی کرن ظاہر ہوئی ہے۔کم از کم اس سے زیادہ خرابی کی طرف تو حالات نہیں بڑھیں گے۔چین کے ساتھ اقتصادی پہلو باریکی سے جڑے ہیں جو اب دونوں کے لئے بہتری کا سلسلہ بن سکیں گے ۔ ان سب باتوں کے ساتھ ایک نقطہ بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ ہند۔ چین اختلاف کو لیکر چند دوسرے ممالک فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ ہندوستان کو اپنی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے مدعوں کو قبول کرنا مناسب تھا ۔اگر اختلاف ختم ہو، یا گھٹنے کی طرف گامزن ہو، تو وہی پہلو ہندوستان کے لئے طاقت کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔اب ایسا ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ علاقائی طور پر ہند۔ چین کے اچھے رشتے کل دائرے کے لئے فائدہ مندہیں۔اس سے بڑے ملکوں کا رسوخ قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ وقت بتائے گا کہ جو قدم لیا گیا ہے وہ کہاں تک بڑھے گا اور مستقبل کو کتنا روشن بنا سکے گا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Oct 22, 10:34 am

ہند کی صلاحیت اورعکس

ہند کی صلاحیت اورعکس

جب سے کینیڈا اور امریکہ نے خالصتان کے مدعے کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا ہے تب سے ہندوستان کی صلاحیت کو لیکر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔کیا ہندوستان اپنے اشاروں سے کینیڈا اور امریکہ میں رہنے والوں کو نشانہ بنا کر سزا دے سکتا ہے ؟ کیا ہندوستان ہزاروں میل کی دوری سے تجویز تیار کر کے بدیشی زمین پر کاروائی کر سکتا ہے ؟کیا ہندوستانی سرکار اتنا رسوخ رکھتی ہے کہ وہ ملک سے باہر تشدد کو عمل دے سکتی ہے ؟ان سوالات کا جواب دینا کسی کے لئے آسان نہیں ۔جو دے سکتے ہیں وہ کبھی دیں گے نہیں ۔جو اندازے لگا رہے ہیں وہ بغیر کسی ثبوت کے باتیں کر رہے ہیں۔اس صورت میں جو امریکہ اور کینیڈا کر رہا ہے، اس سے فائدہ کس کو ہے ؟یہ ممکن ہے کہ امریکہ اور کینیڈا اپنے لوگوں کو دکھانا چاہتے ہیںکہ وہ بدیشی سرگرمیوں کو بھی بخشنے کے لئے تیار نہیں۔یہ عکس کس قدر کھوکھلا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔اول تو یہ کہ ایک لمحے کے لئے بحث کی خاطر مان لیا جائے کہ ہندوستان ان الزامات کے لئے ذمہ دار ہے،تو سب سے پہلے امریکہ اور کینیڈا کو اپنے لوگوں سے جواب طلبی کرنی چاہئے کہ ایسا ہونے کیسے دیا گیا؟وہ جو کل دنیا میں حفاظت کا ڈھول پیٹتے ہیں، خود اپنے گھر کے اندر سے نا واقف ہیں! ان کے ماہرین کیا کر رہے تھے؟ظاہر ہے کہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے زور زور سے ہندوستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسرا یہ کونلوگ ہیں جو امریکی سرکار کے اتنے قریب ہیںکہ کینیڈا کے ساتھ ان کی حفاظت کو لیکر شور مچا ہوا ہے؟کیا یہ وہاں کے لیڈر ہیں؟کیا بڑے صنعت کار ہیں؟کیا حب الوطن ہیں؟کیا پناہ گزیں ہیں؟کیا وہاں کے مفاد کا خاص خیال رکھتے ہیں؟کون ہیں یہ؟اس کا جواب خود ان ملکوں نے ہی دیا ہوا ہے، صرف اب بھول گئے ہیں۔یہ انتہا پسند ہیں ۔یہ انھیں کے شہریوں کے قاتل ہیں۔یہ وہاں پر علیحدگی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔پھر بھی یہ ان سرکاروں کے خاص قریب ہیں ! کیوں؟ اگر کسی کو کوئی شک ہے کہ کینیڈا اور امریکہ کیا تماشہ کرنے کی کوشش میں ہیں تو وہ سمجھنا مشکل نہیں ۔ان میں کچھ عناصر ہندوستان کی ترقی اور رسوخ سے گھبرا رہے ہیں۔ ہندوستان کو عالمی اسٹیج پر ایک نئی طاقت کا مرکز بنتے دیکھ رہے ہیں جس سے یہ چنتا میں آگئے ہیں۔ اس لئے یہ سارا کھیل کھیلا جارہا ہے تاکہ ہندوستان کو قابو میں لیا جائے۔کیا یہ ہونے دیا جاسکتا ہے؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Oct 21, 11:55 am

ہم انسانیت کے محافظ ہیں اس پر زور لازمی !

ہم انسانیت کے محافظ ہیں۔اس پر زور لازمی !

پہلے بھاگوت جی نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو نشانہ بنانے کی بات کہی تھی، اب نایب صدر دھنکر جی نے اسی کو الگ انداز سے کہا ہے ۔اس میں دو رائے نہیں کہ ہندوؤں پر چنتا اہم ہے، لیکن اس سے زیادہ ضروری ہے ہندوتو کے اصل نقطے کو ابھارنے کی۔ہم انسانیت کے محافظ ہیں۔جہاں بھی انسان خطرے میں ہے وہاں اس کی حفاظت کے لئے آواز اٹھانا ضروری ہے ۔ وجہ الگ ہو سکتی ہیں لیکن بنیادی سوچ وہی ہے ۔بار بار بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر خطرے کی بات کر کے ہم اپنا دائرہ بہت تنگ بنا لیتے ہیں۔زور اس بات پر ہونا چاہئے کہ جو بھی انسانیت کے دائرے میں ہے وہ حفاظت کا حقدار ہے ۔اگر کوئی انتہا پسندی کی راہ پر گامزن ہے تو اس کے خلاف کارروائی جائز ہے ۔یہ بحث کا مدعا ہو سکتا ہے کہ کون انتہا پسند ہے اور کون نہیں ۔اس سے ہماری سوچ میں فرق نہیں پڑنا چاہئے ۔ہندوستان کے رہنماؤں کو خیال رکھنا ہوگا کہ وہ کیا ابھار رہے ہیں؟ ہندوستان کل دنیا کو ایک خاندان دیکھتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی زور انسانیت پر فکر ہونا لازمی ہے نہ کی ایک جماعت پر ۔ نوین


Editor Name: نوین Updated: Saturday, Oct 19, 11:01 am

پاکستان سے اشارے

پاکستان سے اشارے


وزیر خارجہ جے شنکر اسلام آباد ایس سی او کی میٹنگ میں شرکت کر کے لوٹ آئے ہیں۔ انہوں نے اپنا دورہ مکمل طور سے اسی میٹنگ تک محدود رکھا اور آپسی رشتے پر کوئی دھیان نہیں آنے دیا ۔یہ وہ جانے سے پہلے صاف ظاہر کر کے گئے تھے،لیکن اس دورے سے پاکستان کی طرف سے ایسے اشارے آنے لگے ہیں جن کو رشتوں میں امید کا رنگ لانے کی کوشش کہا جا سکتا ہے ۔جے شنکر کے ہوتے ہی کرکٹ دائرے کے سربراہ کا بات چیت میں شامل ہونا قابل غور ہے ۔یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے لیکن بین الاقوامی سیاسی اسٹیج پر اتفاق کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے ۔زیادہتر داؤ پیچ سے تیار کیا جاتا ہے ۔بہر حال، ظاہر یہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سرکار ہندوستان کے ساتھ بہتری کی فضا کا اشارہ دے رہی ہے۔یہ کوئینئی بات نہیں لیکن جب بھی ٹھوس عمل کا موقع آتا ہے تو پاکستانی خفیہ ادارے اور فوجی رہنما اس کو رد کروا دیتے ہیں ۔صرف دکھاوے کے لئے تماشہ کیا جاتا تھا۔کیا اب بھی وہی ہو رہا ہے ؟شاید اس دفعہ کچھ الگ ہونے کی امید ہو سکتی ہے ۔وجہ یہ ہے کہ پاکستانی فوجی دائرے کو سرکار کی کامیابی کی ضرورت ہے ۔عمران خان کو رد کرنے کے لیے نہایت لازمی ہےکہ شریف سرکار کامیاب ظاہر ہو ۔اس کے لئے ہندوستان سے بہتر رشتے کے آثار ظاہر ہونے چاہئیں۔بھلے ٹھوس ہو یا نہ ہو،لیکن عالمی دائرے میں ایسا لگنا چاہئے کہ کچھ کیا جارہا ہے۔اس صورت میں جو بات نواز شریف کہہ رہے ہیں وہ کچھ وزن رکھ سکتی ہے ۔ پاکستان کا اندرونی سلسلہ خراب ہے اور لگاتار بگڑ رہا ہے۔اس کو دنیا کے آگے بہتری کی کوشش دکھانی ضروری ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ کتنی دیر شریف سرکار فوج کا سہارا بنے رہے گی اور کہاں تک اس کو حمایت دے سکے گی ؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Oct 18, 11:35 am

ہندوستان۔ چت بھی میری، پٹ بھی میری

ہندوستان۔ چت بھی میری، پٹ بھی میری

اس وقت جو منظر بین الاقوامی اسٹیج پر ہندوستان کے لئے بنا ہوا ہے وہ اس کے لئے ہر پہلوسے بہتری کا اشارہ ہے ۔کہنے کو کینیڈا کے ساتھ تعلقات بگڑے ہوئے ہیں،لیکن یہ وہاں کے پردھان منتری کی ذاتی ناسمجھی کی وجہ سے ہے ۔ دوسری طرف کینیڈا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ وہ پانچ ممالک کے ساتھ مل کر ہندوستان پر الزام کی بنیاد بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے ۔ہو سکتا ہے کہ کینیڈا اس گروپ کا ممبر ہونے کی وجہ سے اپنا اثر ظاہر کر رہا ہو، لیکن اس کا اثر ہندوستان کے رتبے پر کتنا پڑا ہے، یہ بھیبالکل صاف نظر آتا ہے۔امریکہ نے کینیڈا کے الزامات پر غور کرنے کی بات کہی،لیکن وہ خود ہندوستان کو فوجی سامان بیچنے کو تیار ہے اور اس کے لئے دستخط بھی کئے گئے۔32,000 کروڑ روپے کے اس سودے سے امریکہ جدید ہتھیار ہندوستان کو مہیا کروا رہا ہے۔کیا یہی کینیڈا کے الزامات کا اثر ہے ؟اگر کینیڈا کی بات سے ہندوستان کو فائدہ ہونا ہے تو کینیڈا اپنے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے!بغیر کسی ثبوت کے محض بیانات کوئی معنی نہیں رکھتے ۔یہ بات امریکہ بخوبی جانتا ہے ۔ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ ٹروڈو کیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔اپنی لیڈری بچانے کے لئے ملک کی خارجہ پالیسی سے کھلواڑ کر رہا ہے! اس سے فائدہ تو ہند وستانکا ہے۔ دوسری طرف اگر امریکہ زیادہ کینیڈا کو حمایت دے گا تو اس کا اثر ہند۔ چین رشتے پر پڑنا حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہئے۔ چین،ہندوستان سے بہتر رشتہ بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔ یہ کینیڈا اور امریکہ دونوں کے لئے پریشان کن ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہندوستان کے لئے بہتری کا اشارہ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو بھی تکلیف ہونی لازمی ہے ۔چین کے لئے پاکستان کو سنبھالنا آسان ہے تاکہ ہندوستان کے ساتھ موقع ہاتھ سے نہ جائے! اس صورت میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھی اپنے رویے پر دھیان دینا پڑے گا ۔مالدیپ تو راستہ بدل ہی رہا ہے۔ اس لئے ہندوستان کو کسی طرح سے کوئی نرمی اختیار کرنی کی ضرورت نہیں ۔کینیڈا کو جواب دینا ہمارا حق ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Oct 16, 11:59 am

کینیڈا کے ساتھ رشتے؟

کینیڈا کے ساتھ رشتے؟

جو تصویر ابھر کر سامنے آرہی ہے اس میں کینیڈا کے ساتھ ہندوستان کے رشتے اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ بہتری کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہوگی۔شاید کینیڈا میں سرکار کی تبدیلی سے ہی یہ ممکن ہو سکے گا!ٹروڈو سیاسی طور سے کمزور ہو رہے ہیں، یه کسی سے چھپا نہیں تھا۔ وہ ہاتھ پیر مار کر اپنا سر پانی سے اوپر رکھنے کی ہر کوشش کر رہے ہیں،لیکن اس کوشش میں ملک کے خارجہ سلسلے کو اس طرح بھنور میں الجھا دینا کسی طرح سے دانشمندی نہیں کہی جاسکتی۔ یوں تو بدیش پالیسی اندرونی دائرے پر اثر ڈالنے کا ذریعہ ہوتی ہے، لیکن بڑی کامیابیوں کو بھی اندرونی سیاست کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہاں ٹروڈو صاحب کی نہ کوئی کامیابی ہے اور نہ ہی ایسا مدعا جس سے ان کے عوام متاثر ہوں۔ اس لئے وہ ایسا داؤ کھیل رہے ہیں جو اپنے گھر کو ہی تباہ کرنے کا راستہ بن جائے گا ۔خالصتان کا مسئلہ نیا نہیں، لیکن اس کو جو رنگ دیا جارہا ہے، وہ کسی بھی ملک کے لئے فیڈیمانڈ ثابت نہیں ہو سکتا ۔ٹروڈو چناؤ جتنا چاہتے ہیں، یہ سمجھ آتا ہے ، لیکن اس کے لئے ہندوستان جو ایک دوست ملک مانا جاتا تھا، کو دشمن بنایا جا رہا ہے، یہ سمجھ سے باہر کی بات ہے ۔اپنے ہی لوگوں کے مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ چند ووٹوں کے لئے ایسے گروپ کو ہوا دے رہے ہیں جو آگ گھر میں لگائے گا، پھر کہیں اور نقصان پہنچاے گا۔ ہندوستان کو کسی طرح سے نرمی کا اشارہ دینے کی ضرورت نہیں ۔ یہ جان بوجھ کر ہندوستان کے اندر نفاق اور تناؤ پیدا کرنے کی سازش ہے۔ اس مدعے پر ملک کے کل سیاسی عملے کو ایک آواز میں سرکار کو حمایت ظاہر کرنی چاہئے ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Oct 15, 12:04 pm

ٹاٹا کی عظمت

ٹاٹا کی عظمت


شری رتن ٹاٹا کے سورگ باس سے صنعت، پارسی سماج،ملک اور دنیا کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ ایسے لوگ صدیوں میں آتے ہیں اور صدیوں تک اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے جس وراثت کوسنبھالا اور آگے بڑھایا وہ اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے لیکن جن حالات میں ایسا کیا گیا،وہ اس کومیابی کو گئیگنا بڑا بناتا ہے۔ساری دنیا میں تنگ سوچ اور ذاتی اہمیت کو وزن دیا جانے لگا تھا ۔ذات، مذہب، قوم اور علاقے کو معیار بنا کر فیصلے لئے جانے لگے تھے اور اب بھیلئےجاتے ہیں۔ اس تاریک سائے میں رتن ٹاٹا نے صرف قابلیت اور صلاحیت کومقدم رکھتے ہوئے فیصلے لئے۔ اس کا نتیجہ آج کل دنیا کے سامنے ہے ۔شاید ہی کوئی دائرہ ہے جس میں رتن ٹاٹا کو شردھانجلی نہ دی جارہی ہو ۔ملک اور سرحدیں کوئی پابندی نہیں ۔اس صورت حال میں ٹاٹا وراثت کا اصل نچوڑ ہے ان کی سوچ جو ہر شعبے میں لاگو کیگئی۔ آج بڑے بڑے صنعت کار ان کو یاد تو کرتے ہیں، لیکن ان کی سوچ کو عمل میں لانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ وہی سوچ ہے جو دنیا کے ہر مسئلے کا حل بھی بن سکتی ہے۔ہندوستان کو فخر ہونا چاہئے کہ اس کی زمین سے یہ عالمی فضا میں ابھری ہے۔کیا ہند سرکار اس کو زیادہ اہمیت دینے کے لئے قدم اٹھائے گی ؟ وہی شری رتن ٹاٹا کو سچی شردھانجلی ہوگی ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Friday, Oct 11, 10:53 am

کانگریس کو رد کرنا نادانی

کانگریس کو رد کرنا نادانی


ہندوستان میں سیاست کے ماہرین ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کا ایک اہم مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ ایک واقعہ کے بعد وہ پارٹی اور لیڈر کا مستقبل طے کر دیتے ہیں ۔ایسا ہوتا نہیں ۔ ہریانہ کے نتیجے کے بعداکثریت سیاسیتجزیہ کرنے والے کہنے لگے ہیںکہ کانگریس اور راہل گاندھی ختم ہو رہے ہیں۔جموں اور کشمیر کی جیت نیشنل کانفرنس کو دی جا رہی ہے نہکہ کانگریس کو، جو شاید درست بھی ہے ۔اس کے باوجود کانگریس کو رد کرنا نادانی ہوگی ۔ایک بات یاد رکھنا ہوگا کہ پارلیمنٹ میں سب اپوزیشن پارٹیاں اپنا اثر تبھی رکھتی ہیں جب وہ کانگریس کے ساتھ کھڑی ہیں ۔یہ بات کانگریس پر بھی لاگو ہے، لیکن اس کے پاس پھر بھی 99 سیٹیں ہیں جو دوسروں کے پاس نہیں۔ا س کے علاوہ راہل گاندھی کو چھوڑ کر کس کو اپوزیشن لیڈر قبول کیا جائے گا؟یہ بات ہر پارٹی کو خود سوچنی ہوگی۔اس میں دو رائے نہیں کہ ساتھی پارٹیاں کانگریس پر دباؤ ڈالیں گی اور سیٹوںکے بٹوارے کو لیکر کانگریس کی سودے بازی کمزور ہوگی۔کمزور ہونا ایک پہلو ہے، رد ہونا بالکل الگ ۔اس وقت ساتھی پارٹیوں سے زیادہ ضرورت ہے کانگریس کو خود احتسابی کی۔اپنے اندر جھانکنا لازمی ہے ۔یہ ایمانداری سے ہونا چاہئے۔ اس کے بغیر وہ اصلیت میں رد ہونے لگے گی!جو بھیمسئلے ہیں، ایک نقطہ قابل غور ہے اور وہ یہ کہ آج بھی کانگریس کے پاس وفادار ووٹر موجود ہیں ۔اتنے عرصے سے اقتدار سے باہر رہنے کے بعد بھی ایسا ہونا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔کشمیر میں بھی کانگریس کو حمایت حاصل ہوئی، چاہے وہ نہیں جو ایک دور میں تھی۔اس سے پارٹی کی سیاسی اہمیت کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر آج بھی کانگریس اپنے اندر خلوص سے جھانکے تو بہتری کے دروازے کھل سکتے ہیں ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Oct 10, 10:38 am

مودی جی اوّل

مودی جی اوّل


حالیہ صوبوں کے چناؤ سے پہلے بہت سی افواہیں گرم تھیں کہ بھاجپا میں مودی جی کی رہنمائی پر سوالیہ نشان لگنے لگا ہے۔نتائج نے اس افواہ کو جڑ سے اکھاڑ دیا ۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مودی جی کے علاوہ بھی کوئی رہنما پارٹی میں نظر آتا ہے ۔لوگ ہیں اور بہت اچھے ہیں، لیکن ان سب کو راستہ دکھانے کا کام مودی جی ہی کر سکتے ہیں ۔ہریانہ کو لیکر فیصلے کر لئے گئے تھے کہ بھاجپا یہاں ختم ہے اور کانگریس اپنا جھنڈا لہرانے کو تیار ہے۔آخری مہینوں میں بھا جپا نے صوبے میں مکھیہ منتری بدل کر یہ اشارہ دیا کہ وہ تبدیلی کے لئے تیار ہے۔اس کا معنی یہ سمجھا گیا کہ پارٹی کمزور ہے اور کھٹر سے ناخوش بھی ۔وجہ جو بھی ہو بدلاؤ نے جو اثر دکھایا وہ سب کے سامنے ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ مودی جی کا چہرہ آج بھی عوام میں یقین پیدا کرتا ہے ۔اس کو کیسے پیش کرنا ہے،پارٹی کا فرض ہے۔کشمیر میں بھاجپانے نئے کشمیر کو اول رکھ کر چناؤ لڑا ۔اس کا اثر کہاں اور کیسے ہوا یہ سمجھنے والے پر نربھر کرتا ہے۔سب سے بڑی بات ہے کہ عوام نے جمہوریت میں پورا یقین ظاہر کیا ۔اس کے علاوہ علیحدگی کی سوچ کو اپنی اصلیت نظر آگئی۔جو لوگ دعویٰ کر رہے تھے کہ علیحدگی پسند عناصر اسمبلی میں بیٹھ کر ہندوستان مخالف رویہ اختیار کریں گے، خاموش ہو گئے ہیں۔ہندوستان کے لوگوں نے خود ہی اپنا فیصلہ بیان کر دیا ہے۔یہ مودی جی کی پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ اس منظر میں یہ ماننا کہ کانگریس رد ہوگئی نادانی ہوگی ۔کل اس نقطے پر عرض کروں گا ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Oct 9, 10:47 am

مودی جی اوّل

مودی جی اوّل


حالیہ صوبوں کے چناؤ سے پہلے بہت سی افواہیں گرم تھیں کہ بھاجپا میں مودی جی کی رہنمائی پر سوالیہ نشان لگنے لگا ہے۔نتائج نے اس افواہ کو جڑ سے اکھاڑ دیا ۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مودی جی کے علاوہ بھی کوئی رہنما پارٹی میں نظر آتا ہے ۔لوگ ہیں اور بہت اچھے ہیں، لیکن ان سب کو راستہ دکھانے کا کام مودی جی ہی کر سکتے ہیں ۔ہریانہ کو لیکر فیصلے کر لئے گئے تھے کہ بھاجپا یہاں ختم ہے اور کانگریس اپنا جھنڈا لہرانے کو تیار ہے۔آخری مہینوں میں بھا جپا نے صوبے میں مکھیہ منتری بدل کر یہ اشارہ دیا کہ وہ تبدیلی کے لئے تیار ہے۔اس کا معنی یہ سمجھا گیا کہ پارٹی کمزور ہے اور کھٹر سے ناخوش بھی ۔وجہ جو بھی ہو بدلاؤ نے جو اثر دکھایا وہ سب کے سامنے ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ مودی جی کا چہرہ آج بھی عوام میں یقین پیدا کرتا ہے ۔اس کو کیسے پیش کرنا ہے،پارٹی کا فرض ہے۔کشمیر میں بھاجپانے نئے کشمیر کو اول رکھ کر چناؤ لڑا ۔اس کا اثر کہاں اور کیسے ہوا یہ سمجھنے والے پر نربھر کرتا ہے۔سب سے بڑی بات ہے کہ عوام نے جمہوریت میں پورا یقین ظاہر کیا ۔اس کے علاوہ علیحدگی کی سوچ کو اپنی اصلیت نظر آگئی۔جو لوگ دعویٰ کر رہے تھے کہ علیحدگی پسند عناصر اسمبلی میں بیٹھ کر ہندوستان مخالف رویہ اختیار کریں گے، خاموش ہو گئے ہیں۔ہندوستان کے لوگوں نے خود ہی اپنا فیصلہ بیان کر دیا ہے۔یہ مودی جی کی پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ اس منظر میں یہ ماننا کہ کانگریس رد ہوگئی نادانی ہوگی ۔کل اس نقطے پر عرض کروں گا ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Oct 9, 10:47 am

صوبوں میں چناؤ کے نتائج

صوبوں میں چناؤ کے نتائج

ہریانہ اور جموں کشمیر میں ہوئے چناؤوں کے نتائج صرف حیران کن ہی نہیں،بلکہ سیاسی سوجھ بوجھ کی جھلک بھی دیتے ہیں۔عوام کی رائے کو لیکر اب کوئی طے شدہ اندازہ لگانا ناسمجھی ہے ۔لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور کیا عمل دیں گے، صرف وہی فیصلہ کرتے ہیں ۔کہیں کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا ۔یہی جمہوریت کی اصل کامیابی ہے اور عوام کی طاقت کا ثبوت ہے۔ ہریانہ میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کانگریس کامیاب نہیں ہوگی! وہاں سرکار بنانے اور مکھیہ منتری کے عہدے کے لئے تکرار ابھر رہی تھی۔ لیکن نتیجہ تو کچھ اور ہی تصویر پیش کر رہا ہے۔ بھاجپاپھر سے واپس آکر اپنا رسوخ قائم رکھے ہوئے ہے ۔اس کا سیدھا مطلب ہے کہ مودی کاجادو اب بھی چل رہا ہے۔اس کے لئے کانگریس اور آپ کے اختلافکو ذمہ دار کہا جائے یا کانگریس کی ضرورت سے زیادہ یقین ظاہر کرنا، طے کرنا مشکل ہے۔شاید دونوں اثر ڈال رہے تھے۔کشمیر میں بھی نیشنل کانفرنس اور کانگریس گٹھ بندھن اتنا اچھا منظر قائم کرے گی، یہ بھی امید نہیں تھی ۔پھر بھی ابھی تو آخری نتیجے سامنے آتے آتے کچھ اور تبدیلیاں بھی اسکتی ہیں، لیکن ایک بات پکا ہے اور وہ یہ کہہندوستان میں جمہوریت اعلی سطح پر اثردار ہے جو ملک کے مستقبل کے لئے اچھا ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Oct 8, 10:52 am

پاکستان کی فضا ؟

پاکستان کی فضا ؟

جو ماحول پاکستان میں بنا ہوا ہے اس میں بین الاقوامی لیڈروں کا شکھربیٹھک کرنا آسان نہیں نظر آتا۔ عمران خان کی پارٹی اور حمایتیوں نے پورے ملک کو تناؤ میں غرق کر دیا ہے۔ فوج کو بلا کر اسلام آباد کی حفاظت کی ذمہ داری دیگئی ہے، لیکن اس سے انداز لگتا ہے کہ حالت کس قدر خراب ہے ۔یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ فوج کے ہوتے ہوئے اس طرح کی فضا بن سکی!کیا فوج اس کی خاموش اجازت دے رہی ہے یا پھر وہ اپنا قابو کھو رہی ہے ؟جو بھی وجہ ہے، پاکستان کے لئے اچھے اشارے نہیں۔ ایس سی او کی میٹنگ پاکستان کے لئے بہت اہم ہے ۔ اس سے اس کا اقتصادی سلسلہ وابستہ ہے۔ پھر بھی وہاں حالت بگڑ گئی، یہ قابل غور ہے۔ ایسا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ میٹنگ کی تاریخ تک فوج فضا سنبھال لے گی ۔کس قیمت پر یہ ہوگا، اس کا تصور کرنا بھی تکلیف دایک ہے۔ ہندوستان نے تو پہلے ہی وزیر خارجہ کی رہنمائی میں وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے ۔اس پر بہت بحث ہو رہی ہے، لیکن وزیر خارجہ نے صاف کر دیا ہے کہ وہ صرف میٹنگ کے لئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا مدعا زیر غور نہیں ہے۔یعنی آپسی تعلقات جوں کے توں رہیں گے، لیکن ہند وستان کی طرف دیکھنے سے پہلے پاکستان کو اپنا گھر محفوظ کرنا چاہئے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Oct 7, 10:48 am

کیا ایران صرف گرج رہا ہے یا برسے گا بھی ؟

کیا ایران صرف گرج رہا ہے یا برسے گا بھی ؟

ایران کے اول رہنما خمینی نے خود نماز کے وقت تقریر کر کے صاف پیغام دیا ہے کہ ایران نے لبنان کے حالات کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔یہ کوئی راز نہیںکہ حزب اللہکا وجود ایرانی مہربانی سے قائم ہے اور وہی اس کااستعمال بھی پوری طرح کرتا ہے ۔اسرائیل نے بھی ایران کو بغیر ہاتھ لگائے اس کے گھر میں نقصان پہنچایا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایرانی غرور کے لئے بھاری چوٹ ہے۔اسی کا جواب دینے کے لئے خود روحانی پیشوا نے تقریر کرنا مناسب سمجھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف تقریر ہے یا پھر ٹھوس کاروائی کا اشارہ ہے؟جس طرح سے اسرائیل لگاتار زور کی نمائش کر رہا ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ جلد روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔اس صورت میں کیا ایران اسرائیل کے ساتھ سیدھا محاذ بنانے کو تیار ہوگا؟ اس کا انجام ایران کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کو بھی احساس ہے ۔ایران کے اندر حالات بہت اچھے نہیں ۔پہلے بھی سخت مذہبی پابندیوں کو لیکر محالف آوازیں اٹھی ہیں۔ ان کو دبایا گیا،لیکن ان کا اٹھنا ہی بڑی بات ہے۔ اقتصادی حالت بھی بہت خوشگوار نہیں۔ تبھی گزشتہ صدارتی چناؤ میں کٹرپنتھیکو کمزور دیکھا گیا۔اگر اب ایرانی سرکار لبنان کا بدلہ لینے کے لئے اسرائیل کے خلاف محاذ کھڑا کرتی ہے تو یہ اس کی اقتصادی دائرے پر بڑا بوجھ ہوگا ۔اس کا اثر عوام کی روز مرہ زندگی پر پڑنا لازمی ہے۔کیا عوام اس کو آسانی سے قبول کر سکیں گے۔ بندوق اور زور کے آگے سر جھکنا ایک بات ہے لیکن اس کا اثر دوسرے پہلوؤں سے ظاہر ہوتا ہی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے کتنے ممالک ہیں جو ایران کا ساتھ دینے کے لئے کھل کر سامنے آئیںگے؟ مخالفت بھلے نہ کریں پر حمایت بھی نہیں دیں گے! کیا یہ مانناصحیح ہوگا کہخمینی نے صرف روایت پوری کرنے کے لئے یہ تقریر کی ہے؟ ایسا سوچنا بھی نادانی ہوگی ۔ممکن ہے کہ ایران پردے کے پیچھے سے داؤ چلے جو اسرائیل اور مغربی ملکوں کے لئے نقصان دایک ہو۔اس کا عالمی طور سے خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہاس سے صرفمتعلقہ ممالککو ہی نہیں، بلکہوسیع دائرے پر پریشانی ظاہر ہو سکتی ہے۔ نوین


Editor Name: نوین Updated: Saturday, Oct 5, 10:44 am

پاکستان ذاکر نائک کو کیوں اُبھار رہا ہے؟

پاکستان ذاکر نائک کو کیوں اُبھار رہا ہے؟


جس طرح سے ذاکر نائک کو پاکستان کی سرکار ابھار رہی ہے وہ محض روایت نہیں ہو سکتی۔ اس کے پیچھے مقصد ہونا لازمی ہے ۔ایک طرف پاکستان کی اندرونی حالات نازک ہی نہیں،بلکہ بہت زیادہ خراب ہیں۔ اقتصادی بنیاد ہلی ہوئی ہے۔قیمتیں آسمان کو چیر کر بڑھ رہی ہیں۔غریبی اس طرح بڑھ رہی ہے جیسے سوکھی گھاس میں آگ۔عوام کی روز مرہ کی زندگی دشوار ہوتی جارہی ہے۔اقلیتوں کی حفاظت پر پوریدنیا سوالات پوچھ رہی ہے۔اکثریت آبادی کی سلامتی پر سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔ بدیش دائرے میں سب سے قریبی دوست، چین سےبےزاری کے اشارے مل رہے ہیں۔ بلوچستان کے لوگ اپنے وجود کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں ۔فوج کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور ہر چند دنوں میں ایسی واردات ہوتی ہے جو فوج کی اندرونی کمزوری بیان کرتی ہے۔ اس صورت میں پاکستانی سرکار ذاکر نایک کی میزبانی کرتے ہوئے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ امریکہ میں صدارتی چناؤ نے سیاست کو محدود کیا ہوا ہے۔ابھی خارجہ دائرے میں کوئی نیا قدم ظاہر نہیں ہوگا۔سعودی عرب اور ایران اپنے اپنے مسئلوں میں الجھے ہوئے ہیں۔اسرائیل کا ارادہ چنتا کی وجہ بنا ہوا ہے۔پھر یہ ذاکر نایک کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے؟ اول یہ کہ پاکستان اپنے ہند مخالف دوستوں کو پیغام بھیج رہا ہے کہ وہ ہندوستان کے خلاف پالیسی جاری ہی نہیں بلکہ گرم رکھ رہا ہے۔جو ہند میں مجرم ہے وہ پاکستان میں شاہی مہمان ہے! دوسرا پاکستان اپنے ان ساتھیوں کو خاموش اشارہ کر رہا ہے کہ وہ اب بھی انتہا پسندی کا اہم مرکز ہے۔بھلے اس کے عوام برباد ہو رہے ہیں، زندگی بد سے بدتر ہو رہی ہے، لیکن سرکار اپنی تشدد کی دکان پوری طرح سجا کر کھلی ہے۔اس سے وہ عناصر جو تشدد کے سوداگر ہیں یہاں سودا حاصل کر سکتے ہیں۔ تیسرا افغانستان کو سندیش دیا جارہا ہے کہ اگر وہ اس کے مطابق نہیں رہے گا تو پاکستان کے پاس دوسرے پہلو ہیں جو اس کے خلاف سرگرم ہو سکتے ہیں ۔ اس سارے سلسلے میں پاکستانی عوام کے بارے میں کوئی سوچ کا اشارہ بھی نہیں ملتا۔سارا تماشہ وہاں کے لیڈروں اور فوجی رہنماؤں کا ہے،جو لوگ پاکستان کی بنیاد ہیں وہ تو بے حال زندگی کاٹ رہے ہیں اور کاٹتے رہیں گے۔کیا یہی ذاکر نایک کی اہمیت ہے پاکستان میں ؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Oct 4, 10:54 am

اقوام متحدہ غور لازمی

اقوام متحدہ غور لازمی

مشرق وسطیٰ کے حالات اور یوکرین مسئلہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقوام متحدہ پر غور اور ٹھوس تبدیلی لازمی ہے ۔اس کے لئے وقت دینا اور محض بیان بازی کرنا دنیا کے لئے خطرناک ثابت ہو رہا ہے ۔مشرق وسطیٰ کی فضا لگاتار بگڑتی جارہی ہے۔روز بروز نیا منظر سامنے آتا ہے جو گزرے دنوں کو بہتر ثابت کرتا ہے۔ تناؤ ہونا ایک پہلو ہے،لیکن زندگی کو خطرہ ہونا گہری چنتا کا مدعا ہونا چاہئے۔دوسری طرف یوکرین کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور حل کی طرف کوئی امید بھی نہیں کی جاسکتی ۔بے قصور لوگ بلی چڑھ رہے ہیں اور تباہی بے خوف اپنا وجود بڑھا رہی ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ دونوں منظروں میں بڑے ممالک وابستہ ہیں لیکن حل یا امن کا کوئی اشارہ بھی نہیں دکھائی دیتا ۔اس کے لئے اقوام متحدہ کے وجود اور اثر کو زیر غور لانا ضروری ہے۔یہ سچ ہے کہ کسی بھی ملک کو زبردستی کچھ کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا، لیکن اگر باقی نظام قابل اثر ہو تو بہت سے پہلو لاگو کئے جاسکتے ہیں ۔کیونکہ دنیا میں کوئی مرکز ایسا نہیں جو انسانیت کی بہتری کو مقدمرکھ کر نظریہ قائم کرے۔ حالات خراب ہونے فطری ہیں۔ اقوام متحدہ انسانیت کی بہتری کے لئے تیار ہوا تھا، لیکن اب وہ چند طاقتوں کا اکھاڑہ بن گیا ہے۔ اس کو وسیع بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ بیانبازی بہت ہوتی ہے،لیکن ٹھوس کچھ نہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ جو ممالک ٹھوس قدم لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہی تو اپنا غلبہ برقرار رکھنے کا سلسلہ بنائے ہوئے ہیں ۔باقی کسر اقتصادی مدعے پورے کر دیتے ہیں۔کیا عالمی لیڈر اس فضا کا نقصان محسوس کر رہے ہیں ؟یوکرین اور وسط مشرق کیسے نظر انداز کر رہے ہیں ؟ نوین



Editor Name: نوین Updated: Thursday, Oct 3, 10:52 am

مہاتما گاندھی کی اہمیت

مہاتما گاندھی کی اہمیت

آج دنیا مہاتما گاندھی کا جنم دن منا رہی ہے۔ہندوستان میں اس کی خاص اہمیت ہے اور سرکار اس کو پورے قومی درجے کے ساتھ مناتی ہے۔ایک دن منانا اور اس شخص کو یاد کرنا دو الگ الگ پہلو ہیں ۔دن تو سب منا لیتے ہیں، لیکن گاندھی کو یاد کرتے ہوئے زندگی پر نظر ڈالنا بالکلمختلف بات ہے۔آج کے دور میں گاندھی جینتی تو منائیجاتی ہے لیکن گاندھی کو بحث اور سیاست میں الجھا دیا جاتا ہے۔یہاں تک ان کے قاتل کو بھی روحانی درجہ دیا جانے لگا ہے۔ اس کو عام طور سے قبول نہیں کیا جاتا، لیکن ایسا ہونا ہی شرم کی بات ہے۔جمہوریت میں ہر کسی کو اپنے خیالات کی آزادی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ غلط کو صحیح ثابت کیا جائے !گاندھی محض ایک شخص نہیں،بلکہ ایک سوچ ہے جو انسانیت کے وجود پر اثر ڈالتی ہے۔زندگی گزارنے کا انداز ہے جو آدمی کو انسان کا درجہ دیتا ہے۔دنیا میں بھائی چارے کے پیغام کا ٹھوس راستہ ہے جس پر چل کر خود گاندھی نے دکھایا۔عدمتشدد کا وہ سندیش ہے جو دنیا میں امن کی بنیاد کو مضبوطی دیتا ہے، لیکن آج افسوس کی بات ہے کہ گاندھی صرف نعروں اور تقریروں میں محدود کر دیا گیا ہے۔ کہانیاں بہت ہیں، بت ان سے زیادہ ہیں، تصویریں بیشمار ہیں،شردھانجلی دینے میں دور لگی ہے لیکن اصولوں کو عمل کرنے والا شاید ہی کوئی ملتا ہے۔گاندھی جینتی کو عوام کی روز مرہ زندگی میں لانے کی ضرورت ہے ۔اس کو سیاست سے دور کر کے انسانیت کے سبق میں شامل کرنا لازمی ہے۔کیا ایسا ہوگا ؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Oct 1, 10:46 am

چناؤ اور باقی زندگی

چناؤ اور باقی زندگی

جب بھی چناؤ آتے ہیں، چاہے وہ ایک صوبے میں ہوں یا کل ملک میں، عوام باقی زندگی کو ایک طرف کر کے سارا دھیان ان پر مرکوزکر لیتے ہیں۔اس میں حیرانی کی بات نہیں۔یہ جمہوریت کا اثر سمجھا جاسکتا ہے۔تبھی تو عوام سیاست میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ وہ دلیل اور سوجھ بوجھ بھی برطرف کرنے کو تیار ہوتے ہیں، لیکن زندگی تو اپنی رفتار سے گامزن ہے۔ اس کو آپ قبول کریں یا نہ کریں، اس کا زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔مشکلیں قائم رہتی ہیں اور پریشانیاں اپنا شکنجہکستی رہتی ہیں۔روزانہ کی ضرورتیں روکتی نہیں اور پوری کرنے کے طریقے کم ہوتے جاتے ہیں۔آمدنی کم ہی لگتی ہے اور اخراجات ضرورت سے زیادہ ۔ دنیاداری پیچیدہ تھی، ہے اور رہے گی۔فرائض پورے کرتے کرتے پیٹھ دوہری ہو جاتی ہے اور تب بھی کہیں کوئی مدعا چھوٹ ہی جاتا ہے۔چناؤ میں اندازے لگتے ہیں،بحث بڑھتی ہے اور شرطیں بھی لگتی ہیں۔بھلے کوئی سیدھا لیندین ہو،یا نہ ہو، اس پر رائے سرگرمی سے ظاہر کی جاتی ہے اور ایسا پیش کیا جاتا ہے کہ ہم ہی سارے دارومدار کا مرکز ہیں۔سیاست کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جاسکتی، لیکن زندگی کی حقیقت بھی برطرف نہیں ہوتی۔اسی جذباتی اثر کا فائدہ اٹھا کر لیڈر ایسے مدعے ابھارتے ہیں جن کا ٹھوس کچھ ہونے والا نہیں،لیکن شور خوب مچتا ہے۔کیا اس فضا میں تبدیلی آسکتی ہے ؟کب ؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Sep 30, 10:47 am

کشمیر کے یہ چناؤ

کشمیر کے یہ چناؤ

کشمیر میں اسمبلی کے لئے چناؤ ہو رہے ہیں ۔دو دور ختم ہو گئے اور آخری رہ گیا ہے۔ چناؤ پہلے بھی ہوئے،لیکن اس دفعہ ماحول میں کچھ فرق ضرور ہے۔یہ پوری دنیا دیکھ سکتی ہے، تبھی تو بدیشی ملکوں کے سفارتکار وہاں خود اس کے چشم دید گواہ بن رہے ہیں ۔اول نقطہ قابل غور ہے کہ کوئی بائیکاٹکا نعرہ سنائی نہیں دیتا۔کسی پارٹی یا لیڈر نے چناؤ کی مخالفت نہیں کی۔سب اس میں شرکت کے لئے دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔جو چند برس پہلے ہندوستان کے خلاف تقریریں کرتے تھے، وہ بھی اسی کے دستور کے مطابق چناؤ میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوسری بات ہے کہ کہیں سے کوئی زبردستی ووٹ دینے یا روکنے کی کوئی آواز نہیں آئی ۔ہر شہری اپنے حساب سےووٹ کا حق استعمال کر رہا ہے ۔وہ کس کے حق میں ہے یا کس کے خلاف وہوہی جانتا ہے۔تیسری بات ہے عوام کا اندر سے اپنے نمائندے چننے کی خواہش ۔اس کے لئے کوئی دباؤ نہیں، نہ ہی کسی طرح سے روک ہے۔چوتھی بات ہے صرف پرانی پارٹیاں ہی نہیں،بلکہ نئے گروپ اور لوگ بھی اس میدان میں اپنا داؤ آزما رہے ہیں ۔وہ کسی مقبول پارٹی یا خاندان کے ساتھ ہوں یا نہ ہوں، اس کا کوئی اثر محسوس نہیں کیا جاتا۔یہ ٹھوس جمہوریت کی تصویر ہے جو دنیا کی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی۔کون جیتے گا کون ہارے گا، یہ عوام طے کریں گے ۔چناؤ کا جشن ہی اس بات کا ہے کہ عوام حرف آخر ہیں۔کہیں طاقت، لالچ اور مذہب کو سامنے نہیں آنے دیا گیا۔یہی کشمیر کی نئیفضا ہی اور یہی نیا کشمیر ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Sep 28, 10:49 am

روزگار کا مدعا اور چناؤ

روزگار کا مدعا اور چناؤ

روزگار کا مدعا اہم مسئلہ ہے اور اس کو حل ماننا نادانی ہوگی۔ظاہر ہے کہ یہ چناؤ میں بڑھ چڑھ کر استعمال ہوتا ہے ۔ہر پارٹی اس پر دعوے کرتی ہے اور اس کے لئے بڑے پروگرام ظاہر کرتی ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مسئلہ جوں کا توں ہی رہتا ہے ،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے، تو بھی غلط نہیں ہوگا۔ روزگار سے ملک کا مستقبل وابستہ ہے ۔اس کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔سیاسی پارٹیاں وعدے کرتی ہیں کیونکہ وہ سیاست کی ضرورت ہے،لیکن ان کو پورا کیسے کرنا ہے؟ اس پر دھیان نہیں دیا جاتا ۔روزگار کو الگ موضوع ماننا غلط ہوگا۔اس کا حل بہت سے مدعوں سے جڑا ہے اور وہ سب ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں، تب ہی کسی ٹھوس نتیجے کی امید کی جاسکتی ہے۔چاہے کشمیر ہو یا ہریانہ، روزگار کی بات ہر صوبے میں اہمیت رکھتی ہے اور اس سے بہت لوگوں کی زندگیوں کی امیدیں جڑ جاتی ہیں ۔تبھی وہ جذبات کو ابھارتا ہے،لیکن بغیر کسی پروگرام کے روزگار کی باتیں محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں ۔اس پر عوام اور لیڈروں دونوں کو غور کرنا ضروری ہے ۔چناؤ آتے جاتے رہیں گے،لیکن روزگار کو صرف نعروں تک رکھنا صحیحسوچ نہیں ہوگی ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Sep 27, 10:41 am

روزگار کا مدعا اور چناؤ

روزگار کا مدعا اور چناؤ

روزگار کا مدعا اہم مسئلہ ہے اور اس کو حل ماننا نادانی ہوگی۔ظاہر ہے کہ یہ چناؤ میں بڑھ چڑھ کر استعمال ہوتا ہے ۔ہر پارٹی اس پر دعوے کرتی ہے اور اس کے لئے بڑے پروگرام ظاہر کرتی ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مسئلہ جوں کا توں ہی رہتا ہے ،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے، تو بھی غلط نہیں ہوگا۔ روزگار سے ملک کا مستقبل وابستہ ہے ۔اس کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔سیاسی پارٹیاں وعدے کرتی ہیں کیونکہ وہ سیاست کی ضرورت ہے،لیکن ان کو پورا کیسے کرنا ہے؟ اس پر دھیان نہیں دیا جاتا ۔روزگار کو الگ موضوع ماننا غلط ہوگا۔اس کا حل بہت سے مدعوں سے جڑا ہے اور وہ سب ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں، تب ہی کسی ٹھوس نتیجے کی امید کی جاسکتی ہے۔چاہے کشمیر ہو یا ہریانہ، روزگار کی بات ہر صوبے میں اہمیت رکھتی ہے اور اس سے بہت لوگوں کی زندگیوں کی امیدیں جڑ جاتی ہیں ۔تبھی وہ جذبات کو ابھارتا ہے،لیکن بغیر کسی پروگرام کے روزگار کی باتیں محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں ۔اس پر عوام اور لیڈروں دونوں کو غور کرنا ضروری ہے ۔چناؤ آتے جاتے رہیں گے،لیکن روزگار کو صرف نعروں تک رکھنا صحیحسوچ نہیں ہوگی ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Sep 27, 10:41 am

اسرائیلی رویہ سیاست یا مجبوری ؟

اسرائیلی رویہ۔ سیاست یا مجبوری ؟

اسرائیل نے لبنان میں جو رویہ اختیار کیا ہے، اس سے علاقے میں تناؤ اور خطرہ بڑھنا لازمی ہے ۔ پہلے ہی غزہ کو لیکر جو تشدد جاری ہے، اس کو قابو میںلانا مشکل ہو رہا ہے ۔وہاں اسرائیل کا رویہ سمجھ آتا ہے ۔حماس نے جو بربریت ظاہر کی اس کو کسی طرح سے نظر انداز کرنا آسان نہیں ۔فوجی حملہ سمجھا جا سکتا تھا،لیکن معصوم شہریوں کو گھروں میں جا کر یرغمال بنانا حیوانیت کا ثبوت ہے۔بچے بوڑھے عورتیں کسی کو بخشا نہیں گیا ۔ظاہر ہےکہ اس کا بدلہ لینا اسرائیل کے لئے فطری تھا ۔اب منظر لبنان میں نظر آرہا ہے۔وہاں اسرائیل کو یہ ظاہر کرنا پڑے گا کہ جو حماس کر رہا ہے وہ لبنان سے حوصلہ ملنے پر ہوا ۔بغیر اس کے اسرائیل کی جارحیت نظر آئے گی ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل ایران کو پیغام بھیج رہا ہے کہ وہ اس کے داؤ جانتا ہے اور اس کاجواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔وجہ جو بھی ہو،دنیا کے لئے اسرائیل لگاتار تشدد کو بڑھا رہا ہے ۔اس کی وجہ ظاہر کرنی ضروری ہے ۔ ورنہ عالمی اسٹیج پر اسرائیل اپنی حمایت کم ہوتے محسوس کرے گا- اس پہلو پر اسرائیلی سرکار اور اس کے ساتھی ممالک کو غور کرنا چاہئے ! نوین


Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Sep 25, 10:49 am

آلودگی دستک دے رہی ہے

آلودگی دستک دے رہی ہے

جیسے بارش کا موسم ختم ہونے کے اشارے ملنے لگتے ہیں، ویسے ہی سردی کی آہٹ سنائی دینے لگتی ہے،لیکن اس آہٹ کے ساتھ آلودگی کا خوف بھی بڑھنے لگتا ہے ۔پڑوس کے صوبوں میں فصل کاٹنے کے بعد کھیت میں رہ جانے والے سلسلے(پرالی )کو جلانا ضروری مانا جاتا ہے ۔ اس کے بغیرنئی فصل کے لئے زمین تیار نہیں ہوتی،لیکن اسکے جلنے سے جو اثر فضا پر پڑتا ہے اس کا تصور بھی دُکھ دایک ہوتا ہے۔ دہلی پر ایک چادر سی بچھ جاتی ہے اور اس میں عام انسان سانس لینے میں بھی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ بیماریاں اور تکلیفیں لوگوں کی زندگیاں دشوار کر دیتی ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا کوئی حل نہیں ملتا۔ہر سال شور مچتا ہے،لیکن مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے ۔سیاست کے داؤ پیچ بھی پورے استعمال ہوتے ہیں،لیکن صرف باتیں ہوتی ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں!اس دفعہ بھی دہلی کے آنے والے مہینے اس میں الجھے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔پھر بہت بیان دیئے جائیں گے اور پھر ایک دوسرے پر الزامات کا سیلاب آئے گا ۔عوام کو ان سے صرف وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔ اصل مدعا وہیں قائمتھا اور شاید رہے گا بھی ! کیا دہلی والوں کے حالات کبھی بدلیں گے یا پھر اسی طرح وہ آلودگی میں جھلستے رہیں گے ؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Sep 24, 10:44 am

سری لنکا میں تبدیلی

سری لنکا میں تبدیلی

سری لنکا کے لوگوں نے اپنے سیاسی منظر میں بڑی تبدیلی کی ہے ۔ایک کمیونسٹ لیڈر ملک کے صدر چنے گئے ہیں۔ دسانائیکے اپنے سخت خیالات کے لئے جانے جاتے ہیں ۔ان کا اس عہدے پر آنا کچھ حیرانی ضرور پیدا کر رہا ہے۔ سری لنکا کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں، یہ ظاہر ہوتا تھا،لیکن وہ اس قدر رخ بدلیں گے، یہ اندازہ نہیں لگایا جاتا تھا ۔شاید اس کے لئے جو حالات گزشتہ برسوں میں سامنےآے، وہ ذمہ دار مانے جا سکتے ہیں ۔یہ بھی کوئی چھپی بات نہیں کہ چین نے اپنا پورا زور لگایا ہے تاکہ ہندوستان کو گھیرا جا سکے،لیکن یہ سوچنا نادانی ہوگی کہ بغیر ملک کے عوام کی چاہت کے ایسا ممکن تھا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں علاقے کا کیا منظر ابھرے گا؟ ہندوستان کو بہت ہوشیار رہنا لازمی ہے ۔صرف سرحد پر ہی نہیں،بلکہملک کے جنوبی صوبوں میں بھی۔سری لنکا کا اثر مختلف طریقوں سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔مغربی ملکوں کو اپنی پالیسی اور سوچ پر از سر نوغور کرنا ہوگا۔ تائیوان کے لئے مشکلات بڑھنے کے اشارے ہیں ۔عالمی تجارت اور بیوپار کے لئے بھی پریشانیاں ابھر سکتی ہیں ۔اس سارے سلسلے میں ہندوستان کو چوکس ہی نہیں تیار بھی رہنا ہوگا۔ سفارتی کوشش جاری رکھتے ہوئے سلامتی میں کوئی کمی نہیں آنے دی جاسکتی ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Sep 23, 10:52 am

سیاست سے الگ بھی دنیا ہے

سیاست سے الگ بھیدنیا ہے

آج کی زندگی میں سیاست کی اہمیت اس قدر بڑھگئی ہے کہ باقی پہلوؤں کو نظر انداز کیا جانے لگا ہے ۔اس میں دو رائے نہیںکہ سیاست اہم ہے اور اس سے بہت سی باتیں وابستہ ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی دنیا موجود ہے جس پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اکثر ہم ان مدعوں کو برطرف رکھتے چلے جاتے ہیں اور ہر بات کو سیاست میں الجھا لیتے ہیں ۔اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو رہا ہے۔ زندگی سے خلوص اور وفاداری کم ہوتی جا رہی ہے ۔ہر پہلو کو داؤ پیچ کے دائرے میں رکھ کر تولا جانے لگا ہے ۔ظاہر ہے کہ انسانیت خود کو اکیلا محسوس کرتی ہے ۔وہ بھی سیاسی کسوٹی پر پرکھی جانے لگی اور زیادہتر وہ کھری نہیں نظر آتی۔ یقین اور اپناپن کہیں پوشیدہ ہو گئے ہیں۔ان کو ڈھونڈنے کے لئے اب سیاست کا سہارا لینا پڑتا ہے جو کہ اصل اشیا ءکی شناخت میں مشکلیں پیدا کرتا ہے۔خاندان کی ایکتا دکھاوے کی ہو گئیاور غیروں سے نزدیکی پردہ بن گئی ہے ۔رشتوں کا معنی نہیں رہا اور نبھانے کی روایت غائب ہے ۔ہر چیز میں سودہ ہے۔ بیوپار سے منظر تیار ہوتے ہیں ۔پھر بھی ہم خود کو ترقی یافتہ کہتے ہیں۔دھرم کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔سیاست سے ہٹ کر زندگی کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا آج کوئی ایسا کرنے کی ہمت کر سکتا ہے؟ نوین


Editor Name: نوین Updated: Saturday, Sep 21, 10:45 am

مشرق وسطیٰ میں بڑھتا خطرہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتا خطرہ

اسرائیل حماس جنگ اس قدر الجھ جائے گی، یہ اندازہ لگانا مشکل تھا ۔اب جو منظر ابھر رہا ہے اس میں وسطِ مشرق خطروںکے بادلوں سے گھرتا چلا جا رہا ہے ۔حال میں جو لبنان میں حملے ہوئے، ان کو لیکر نئے محاذ کھل رہے ہیں ۔یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا اسرائیل ان کے لئے سیدھا ذمہ دار ہے یا پھر ان کو حوصلہ دینے والا ہے؟جو بھی اصلیت ہے، نتیجہ بہت تناؤ بھرا ہو رہا ہے۔ بنیادی مدعا یہ ہےکہ اگر اس طرح کی تکنیکی جنگ اثردار ہے تو پھر اس کوروکنا ممکن ہی نہیں رہے گا۔روز مرہ کی چیزوں کو استعمال کرنے پر کیسے نگرانی رکھی جاسکتی ہے ؟اس کی کیا حد ہوگی اور کہاں تک پھیلاؤ کیا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ اس قسم کے سلسلے کے لئے برسوں اور مہینوں کی تیاری لازمی ہے۔اس کو ایک رات میں تو حاصل نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس قدر اثردار بنانا بھی کوئی معمولی کھیل نہیں۔یہ ماننا پڑے گا کہ ایسے حملے دشمن کی جڑوں کو ہلا دیتے ہیں ۔لوگ ہر چیز پر شک کی نگاہ رکھنے لگیں گے۔زندگی میں یقین اور حفاظت کہانی کی طرح بن سکتے ہیں۔ زندگی دشوار ہو گی اور اس کو قابو کرنا آسان نہیں ہو سکتا۔یہ وقت بتائے گا کہ اسرائیل کا کیا رول تھا؟ اس کا اثر بہت تتکلیف دایک ہوگا ہی اور
پوری دنیا اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Sep 20, 10:56 am

دہلی کی نئی مکھیہ منتری

دہلی کی نئی مکھیہ منتری


آتشی جی دہلی کی نئی مکھیہ منتری بن رہی ہیں۔ کیجریوال جی کے استعفیٰ کے بعد آتشی جی کا عہدے پر آنا سیاسی داؤ کی اعلی مثال مانی جائے گی ۔ یہ ماننا پڑے گا کہ کیجریوال جی کی سیاسی مہارت قائم ہی نہیں، بلکہ تیز ہوتی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے خود ہٹ کر ایک عورت کو عہدہ دے کر مخالفوں کو کمزور بنا دیا ہے۔بھاجپا کوشش کرے گی کہ وہ اس قدم کو محض دکھاوا کہے، لیکن جو سامنے ظاہر ہے اس کو کیسے رد کیا جائے ؟اب دیکھنا یہ ہے کہکیجریوال جی کیا رول ادا کرتے ہیں؟ کیا وہ پارٹی کو دہلی میں طاقتور بنانے پر زور دیں گے یا پھر وہ اپنا رسوخ پھیلانے کی کوشش کریں گے ؟
اس کے علاوہ، دوسرے بھا جپا مخالف لیڈر کیا رویہ احتیار کرتے ہیں ؟ اس سے بھی بہت کچھ ابھر کر ظاہر ہوگا۔یہ بھی تو ممکن ہےکہ قانون کیجریوال جی پر زیادہ سختی کرے، کیونکہ اب وہ مکھیہ منتری نہیں ہیں۔اس صورت میں کیا باقی آپ پارٹی آتشی جی کو وفاداری دے گی یا نئے دباؤ پیدا ہونے لگیں گے؟ بھلے جو بھی منظر سامنےآے، ایک بات کی امید کرنی نادانی ہوگی اور وہ یہ کہ دہلی کی فضا کچھ بہتر ہوگی؟وہاں سیاست اس قدر بھاری ہے کہ باقی سب پہلو کمزور بنا دیئےجاتے ہیں۔ اب تو دہلی والوں کو بغیر سرکار کے زندگی کی عادت سی پڑتی جارہی ہے!پھر بھینئیمکھیہ منتری کے آنے سے کچھ تو نیا ہونے کی امید بننی فطریہے ۔ ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Sep 18, 7:35 am

ٹرمپ پر حملہ

ٹرمپ پر حملہ
دو ماہ کےاندر امریکہ کے صدارتی چناؤ میں امیدوارڈونالڈ ٹرمپ پر دوسری دفعہ قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔وجہ اور انداز تو بعد کی بات ہے، اول نقطہ ہے امریکہ میں حفاظتی سلسلے کا وجود ۔جو ملک اپنے حفاظت کے دائرے کو مکمل مانتا تھا اور دوسرے ملکوں کے حفاظتی نظام کو کمتر دیکھتا تھا، آج ہونے والے صدارتی امیدوار کی حفاظت کو لیکر بےبس نظر آتا ہے۔وہ امیدوار جوخود سابق صدر رہ چکا ہے!کیا وجہ ہے کہ اس طرح کی لاپرواہی اور کمتری قبول کی جارہی ہے؟ ٹرمپ کی مقبولیت یا عوام میں اس سے بیزاریالگ مدعا ہے، جو حفاظت کے اصول ہیں ان کو تو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بھی افواہ ہے کہ سارا ڈرامہ کیا جارہا ہے تاکہ سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔یہ تو وقت بتائے گا کہ اصلیت کیا ہے،لیکن امریکہ کےعکس کے لئےنقصان دایک ضررو ہے۔ٹرمپ اس حملے سے کتنی ہمدردی حاصل کر سکیں گے،کہنا مشکل ہے۔ پہلے سے وہ فائدہ نہیں ہوا جس کی امید کی جاتی تھی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ امریکہ میں بھی اب تشدد ہی اختلاف دور کرنے کا آسان راستہ مانا جانے لگا ہے۔جہاں جمہوریت اتنی طاقتور ہو وہاں تشدد کو سیاسی دائرے میں اتنی اہمیت ملنے لگے تو یہ اچھا اشارہ نہیں کہا جاسکتا ۔وقت بتائے گا کہ امریکی سیاسی ہوا کیا رخ لے رہی ہے؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Sep 17, 10:41 am

کیجریوال جی جیل سے باہر

کیجریوال جی جیل سے باہر

شری اروند کیجریوال جی کو بیل مل گئی اور وہ جیل سے باہر آگئے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس کو لیکر آپ والے کامیابی کا جشن منارہے ہیں، لیکن سیاسی طور سے سب جائز ہے، ورنہ حقیقت تو اپنی جگہ قائم ہے۔کیجریوال جی بیل پر ہیں نہ کہ رہا ہوئے ۔ ان پر پابندیاں قائم ہیں اور وہ سرکاری کام میں کوئی شرکت نہیں کر سکیں گے۔پھر بھی ان کا جیل سے باہر ہونا سیاسی اسٹیج پر فرق ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اول تو یہ ہے کہ آپ کے ممبران میں جوش پیدا ہوگا ۔دوسرا ہریانہ کے چناؤ میں آپ نئیدلچسپی کے ساتھ میدان میں نظر آئے گی۔تیسرا چناؤ پروپیگنڈہکے لئے آپ کو اس کا سب سے اہم شخص حاصل ہوگیا،لیکن کیا یہ سب آپ کے حق میں جائے گا ؟ یہ سوال بھی قابل غور ہے ۔ ہریانہ میں آپ اور کانگریس کے درمیان تال میل نہیں ہوا۔دونوں میدان میں اپنا اپنا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ کیجریوال جی کی موجودگی سے آپ کو حوصلہ ملے گا۔ شاید بہتر ووٹ بھی ملیں۔نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہریانہ کے بھا جپا مخالف ووٹ کانگریس اور آپ کے بیچ بٹ جائیں گے، جس کا سیدھا فائدہ بھاجپا کو جائے گا ۔یہ آپ کے حق کی بات نہیں۔کیا آپ اس منظر کا احساس کر رہی ہے؟ جہاں تک دہلی کا سوال ہے وہ تو اب بھی خدا کے حوالے ہی ہے۔کیجریوال جی سرگرم نہیں ہو سکتے اور ان کی تجویزوں کو عمل ہونے دیا نہیں جائے گا۔یعنی دہلی والوں کے لئے کیجریوال جی جیل میں ہوں یا باہر، بہت فرق نہیں پڑنے والا۔ اس صورت میں چناؤ کے نتائج کے بعد کوئی نیاراستہ کھلنے کی امید کی جاسکتی ہے۔فوری طور پر صرف بیان بازی اور الزامات کی جنگ جاری رہے گی ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Saturday, Sep 14, 10:36 am

باغی امیدواروں کا اثر

باغی امیدواروں کا اثر

کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ دونوں بھاجپااور کانگریس چناؤ میں باغی امیدواروں سے پریشان ہیں۔صوبہ الگ ہو سکتا ہے ،لیکن مسئلہپرانا ہے۔جیسے جیسے پارٹی بڑی اور مقبول ہوتی چلی جاتی ہے ویسے ویسے اس میںنئے چہرے شریک ہونے لگتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ وہ جب آتے ہیں تو کچھ ٹھوس ساتھ لانے کی امید بھی دیتے ہیں۔پارٹی کو جیت ہی واحد مدعا ہوتا ہے۔ وہ جیسے بھی حاصل ہو، اس کو اہمیت دینا فطری ہے،لیکن اس تصویر میں پرانے ممبر اور پارٹی کے بنیادی حمایتی پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔ ان کو نظر انداز کر کے پارٹی نئے لوگوں کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ وہاں کامیابی کی بہتر امید ظاہر ہونے لگتی ہے۔ظاہر ہے کہ بغاوت کے لئے دروازہ کھلنے لگتا ہے۔ ہریانہ میں ہو رہا ہے اور کشمیر میں بھی نظر آرہا ہے۔ ہر لیڈر خود کو لازمی مانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہی پارٹی کی مقبولیت کی بنیاد ہے۔ کسوٹی تب آتی ہے جب چناؤ ہوتے ہیں اور ان کے بغیر بھی پارٹی آگے کی طرف بڑھنے کا دعویٰ کرتی ہے۔بغاوت کا ڈھول پیٹا جاتا ہے اور خود کی اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے ۔یہ تو نتائج ہی ثابت کریں گے کہ کون کتنے پانی میں ہے ؟لیکن اس منظر سے پارٹی کو نقصان ہوتا ہے اور دوسری پارٹی کو فائدہ ۔ہریانہ اور کشمیر ظاہر کریں گے کہ باغی امیدواروں کا کتنا وزن ہو سکتا ہے ؟عوام کے ووٹ اہم رول ادا کر سکتے ہیں ! نوین



Editor Name: نوین Updated: Friday, Sep 13, 10:47 am

بزرگوں کا خیال

بزرگوں کا خیال


پردھان منتری مودی نے 70 برس سے اوپر والوں کے لئے صحت کے لئے بیمہ کی تجویز کا اعلان کر کے ایک نئیامید کا دروازہ کھولا ہے۔ ایک عرصے سے ہم دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ہندوستانتیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ہر دائرے میں مقام قائم کئے جاتے ہیں جو نئے موقعوں کی تصویر بناتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس سے عوام میں بھی دلچسپی بڑھ رہی ہے کہ وہ بہتر مستقبل رقم کرنے کو تیار ہیں،لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگی ماضی کو بہتر بنانے میں غرق کی تھی، وہ اب سماج کے کونے میں دیکھتے ہیں،لیکن ان کا تجربہ اور دانشمندی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔اس کا بھرپور فائدہ اٹھا کرآنے والے کل کو سجایا جاسکتا ہے ۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب وہ بزرگ لوگ خود کو سماج کا اہم حصہ محسوس کریں نہ کہ اس پر بوجھ۔سرکار نے صحت کے لئے بیمہ جاری کرکے ہندوستان کے بزرگوں کو ٹھوس سندیش دیا ہے کہ ان کی ضرورت ہے اور وہ آج بھی اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔وہ اپنی صحت کو صحیح رکھتے ہوئے اپنے یوگدان سے ملک کو آگے لیکر جانے میں یوگدان دیتے آئے ہیں اور دیتے رہیں گے ۔ایک ترقی یافتہ ملک کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ اپنی ترقی کے ذریعے اپنے عوام کو بہتر زندگی دے۔ہندوستان اس سیڑھی پر اوپر چڑھ رہا ہے۔یہ تجویز کسی سیاسی پہلو سے نہ دیکھ کر ملک کی ترقی کا نشان مانا جانا چاہئے ۔یہ سب کیلئے ہے بغیر ذات، مذہب ، علاقہ ، زبان اور آمدنی کے نقطوں کا دھیان دیئے!اس سے ہندوستان بین الاقوامی اسٹیج پر بھی زیادہ وزن سے دیکھا جائے گا ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Sep 12, 11:04 am

دہلی میں سرکار اور عوام

دہلی میں سرکار اور عوام

دہلی ملک کی راجدھانی ہے اور اس پر ہم بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔اصلیت دردناک منظر پیش کر رہی ہے۔ عوام کو سمجھ نہیں آتا کہ یہاں سرکار ہے یا نہیں؟کبھی کبھی ایسا لگتا ہی کہخدا کی مہربانی سے ہی سلسلہ قائم ہے۔ ورنہ سیاست سے تو بہت امید کرنی نادانی لگتی ہے۔ بارشوں کا موسم ہے اور ہر بوچھار کے بعد کوئی نہ کوئی حصہ غرق ہو جاتا ہے۔گندگی بڑھ رہی ہے اور صفائیکا کوئیولی وارث نہیں۔بیانات بھرپور ہیں،لیکن ٹھوس کام خواب میں بھی نہیں نظر آرہا ۔ مرکز بھی یہاں ہے اور صوبہ بھی، پھر بھی حالت بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ بہت سے علاقوں کو اس قدر چمکا کر رکھا جاتا ہےکہ کوئی کہہ نہیں سکتا کہ یہ دہلی کا حصہ ہے۔ دوسری طرف وہ علاقے بھی ہیں جو انسانی زندگی کے لائق بھی نہیں مانے جاتے،پھر بھی بھیڑ سے اتنے بھرے ہیں کہ جگہ نظر نہیں آتی۔کب سیاست یہ احساس کرے گی کہ عوام کے اس کا فرض ہے۔اس سے کوئی انکار نہیں کرتا کہہر پارٹی اور لیڈر کا اپنا طریقہ عمل ہوتا ہے ۔وہ سب قبول،لیکن عمل تو ہونا ضروری ہے۔صرف اختلاف اور الزامات کی جنگ چلے گی تو کیسے جائز مانا جائے؟دہلی میں موسم نےاپنا قہر ڈھایا ہے، لیکن انسان نے اس سے زیادہ قہر لاپرواہی کا ڈھایا۔دہلی کے حکمرانوں کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے ۔اس طرح کا رویہ شہر، عوام اور ملک کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Sep 10, 10:27 am

متحدہ عرب امارات کے ساتھ رشتہ

متحدہ عرب امارات کے ساتھ رشتہ


ابوظہبی کے ولی عہد ہندوستان کے دورے پر آئے ہیں۔ہندوستان اور امارات کے بیچ تعلقات بہت اچھے رہے ہیں،لیکن گزشتہ برسوں میں یہ ایک بلند دوستی کی شکل اختیار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔تاریخ نے بھی دونوں ملکوں کی نزدیکی کو بڑھتے دیکھا ہے ،جس سے دونوں کو بھرپور فائدہ ہوا۔عوام کے درمیان جو اپنا پن بنا وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ہندوستانی متحدہ عرب امارت میں اہم رول ادا کرتے آئے ہیں ۔ہر عزت کے ساتھ وہاں زندگی بسر کرتے ہیں۔یہ بھی کوئی راز نہیں کہ متحدہ عرب امارت نے بین الاقوامی اسٹیج پر جو اقتصادی اہمیت حاصل کی وہ بہت سے دوسرے ملکوں کے لئے مثال بنا۔تجارت ہو یا ایجادات، دونوں میں متحدہ عرب امارات نے وہ سہولیات مہیا کر کے دکھائی کہ دنیا کے اعلی ترقی یافتہ ممالک بھی حیران ہیں۔آج عالمی دائرے میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہے جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی رشتہ نہ بنانا چاہتا ہو۔جو سہولیات وہاں موجود ہیں وہ کسی بھی جدید مرکز کا مقابلہ کرتی ہیں اور بہتر ثابت ہوتی ہیں۔ہندوستان اور متحدہ عرب امارت کی دوستی صرف اقتصادی مفاد تک محدود نہیں،بلکہانسانی اور عالمی امن کو مضبوطی دینے میں رول ادا کر رہی ہے۔حالیہ دورے سے دونوں ملکوں کو فائدہ تو ہوگا ہی، اس کے ساتھ علاقے میں استحکام لانے کا سلسلہ ٹھوس شکل اختیار کرے گا۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Sep 9, 10:52 am

یوکرین جنگ ختم کرنے میں ہند کا رول

یوکرین جنگ ختم کرنے میں ہند کا رول

دونوں یوکرین اور روس نے ظاہر کیا ہے کی وہ ہندوستان کو امن کی کوشش کرنے کے لئے رضامند ہیں۔یہ اچھی بات ہے ،لیکن اس کایہ معنی نہیں مانا جانا چاہئے کہ ہندوستان کوئی معجزہ حاصل کر سکتا ہے ۔یوں بھی جنگ ختم کرنے کا مطلب ہے دونوں نظریات میں تبدیلی لانا ۔اس وقت اس کے اشارے نظر آتے ہیں، لیکن اس کو عملی رنگ دینا آسان نہیں ہوگا۔یہ سچ ہے کہ ہندوستان دونوں ملکوں کے ساتھ ایک یقین کا رشتہ رکھتا ہے۔اس یقین کو قائم رکھنے کے لئے بہت سوجھ بوجھ سے قدم اٹھانےہوں گے ۔ اس کے علاوہ ایک نقطہ قابل غور ہے اور وہ یہ کہ بغیر امریکہ کے اشارے کے یہ جنگ بند نہیں ہو سکتی ۔ امریکہ بار بار کہہ رہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لئے کوشاں ہے۔ ہوگا بھی ضرور،لیکن وہ کس نظریئے سے کر رہا ہے، یہ بحث کا مدعا ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہندوستان کو کوئی بھی تجویز پیش کرنے سے پہلے امریکہ کو ساتھ لینا ہوگا۔یہ موجودہ فضا میں مشکل ہے۔ وہاں صدارتی چناؤ کوئی بھی ٹھوس مدعے کو عمل میں آنے کے لئے خلل پیدا کر سکتے ہیں۔چناؤ ختم ہونے کے بعد کسی پہلو کی کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے۔ صرف امریکہ ہی نہیں،بلکہ ناٹو کے باقی ممالک بھی اپنی رائے ظاہر کرنے سے پرہیز نہیں کریں گے ۔ ان سب کو ایک صفحے پر لانا اور امن کا خاکہ تیار کرنا اپنے آپ میں جوئے شیر لانا ہے!پھر بھی ہندوستان کو اپنی کوشش کرنی چاہئے۔وہی اسکی صلاحیت رکھتا ہے اور عالمی برادری کے لئے اس کا فرض بنتا ہے ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Saturday, Sep 7, 10:43 am

بارش کا غصہ قائم

بارش کا غصہ قائم

ایک زراعتی ملک میں بارش خدا کی طرف سے نعمت مانی جاتی ہے۔کم از کم ہندوستان میں مانی جاتی تھی ۔شاید آج بھی بہت سے علاقوں میں وہ اسی نظریئے سے دیکھی جاتی ہے، لیکن جہاں جدیدیت نے اپنا رنگ چڑھایا ہے وہاں بارش ناراض اور غصے میں ظاہر ہوتی ہے۔خاص کر شہروں میں اور ان دیہاتوں میں جہاں شہری سلسلہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔اس کو اچھا کہا جائے یا خراب، یہ تو جو اس سے متاثر ہے، اس پر نربھر کرتا ہے ۔اس سے ایک بات صاف نظر ؔآتی ہے اور وہ یہ کہ جہاں انسان اپنی تکنیک کو ابھار کر قدرت کو قابو کرنے کی کوشش میں ہے، وہاں اس کو جو کامیابی ظاہر ہوتی ہے وہ اصلیت میں ناکامی کی تصویر ہے۔بارش نے ملک کے اکثریت شہروں میں تباہی مچا رکھی ہے۔ بیوپار اور روز مرہ کی زندگی اس قدر پریشان ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر اس کا کیا حل ہے؟ اس صورت میں کیا یہ قبول کیا جائے کہجدیدیت صحیح راستہ نہیں ؟ایسا سوچنا بھی نادانی ہوگی ۔ضرورت ہے جدیدیت اور قدرت کو دوست مان کر زندگی میں ڈھالنے کی۔ہم اکثر قدرت کو صرف خوبصورتی کے پہلو تک رکھ کر جدیدیت کو زندگی جینے کا طریقہ ماننے لگتے ہیں۔اگر اس سے قدرت ناراض ہو یا غصہ ظاہر کرے تو کس کا قصورہے؟جب تک قدرت کی برتری قبول کرتے ہوئے اس کو ترقی کے سفر میں بڑا ساجھیدار نہیں بنایا جائے گا تب تک بارش سے انسان پریشان زیادہ اور خوش کم نظر آے گا۔بارش تو ہر سال آنی ہے ۔اب یہ ہم کو طے کرنا ہے کہ ہم کب تک پریشان رہنا چاہتے ہیں؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Sep 6, 10:40 am

قوانین کے ٹھیکیدار

قوانین کے ٹھیکیدار

گائےکےتحفظکےنام پرجوایک معصوم کا قتل ہوا، وہ پہلا ایسا دردناک واقعہ نہیں ہوگا، پہلے بھی دھرم کے نام پر انسانوں کے خون بہائے گئے ہیں ۔یہاں دُکھ کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی درندگی کو سرکاری اجازت حاصل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نہایت المناک منظر ہے جس کے لئے کس کو قصوروار قرار دیا جائے؟ مذہبی مدعوں کو سرگرمی سے عمل دینا بہت سے لوگوں کا مقصدہوتا ہے۔یہ ان کا حق مانا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لئے وہ قوانین کے ٹھیکیدار نہیں بن سکتے۔ اگر کوئی ایسا کرنے کی اجازت دے رہا ہے تو وہ بھی اس قتل کا برابر کا گنہگار ہوگا۔سرکار ہر کام اکیلے نہیں کر سکتی ۔یہ ماننا پڑے گا، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری ٹھیکےپر دے دے۔قوانین گائے کی حفاظت کا نقطہ بیان کرتے ہیں،لیکن اس کے لئے ایک سلسلہ ہے جو دستور کے مطابق لاگو کیا جانا لازمی ہے ۔اس کو تماشہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔اس وقت ایسا ماحول ہے کہ سیاسی لیڈری کے لئے دھرم کے خاص محافظ ہونے کے دعویدار بہت ہیں ۔اس کو ثابت کرنے کے لئے کسی بھی انتہا تک جانا جائز مانا جانے لگا ہے ۔دُکھ کی بات ہے کہ سیاست کی وجہ سے ہی سرکار اور انتظامیہاپنی آنکھ بند کر کے وقت گزرنے دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ معصوم زندگیاں بلی چڑھ کر ظاہر کر رہی ہیں۔ کچھ ٹھیکیداروں سے تو غلطی ہو گئی، لیکن ایک خاندان کی ساری اُمیدیں خاک میں مل گئیں! اس کا جواب دہ کون ہے؟سرکار کو فوراً خود مقرر قوانین کے ٹھیکیداروں کو سختی سے ختم کرنا چاہئے۔ اس کے لئے جو بھی قدم لینے ہوں وہ جائز ہوں گے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Sep 5, 10:55 am

پارٹی اور سرکار

پارٹی اور سرکار
چند ماہ سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ سپریم کورٹ ہر سرکاری معاملے میں اپنی رائے دینے پر مجبور ہو رہی ہے۔اگر وہ کسی مدعے سے الگ رہتی ہے تو اس پر سختی سے کہتی ہے۔یوں تو سپریم کورٹ سرکار اور دستور کے درمیان پل ہے۔ وہ دونوں پہلوؤں کا خیال رکھتے ہوئے عوام کی بہتری کی حفاظت کرتا ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کو ہر ایک یا اکثریت معاملوں پر رائے دینی ضروری ہو رہی ہے تو پھر سرکار اپنا فرض پوری طرح نہیں نبھا رہی ہے! یہ کسی پارٹی کے لئے نہیں ،بلکہ سرکار کے اعمال کے انداز پر غور ہے۔سرکار پارٹی سے بنتی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں۔ پارٹی اپنی سوچ اور نظریہ لیکر عوام سے ووٹ حاصل کرتی ہے اور پھر اقتدار میں آتی ہے۔ظاہر ہے کہ وہ سوچ اور نظریہ عمل میں لانا لازمی ہے۔ اسی کے لئے تو عوام نے ووٹ دیا ہے،لیکن یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ پارٹی سوچ کو حقیقت بناتے ہوئے دستور کو ہر پہلو سے قائم رکھا جائے۔ وہاں کسی طرح کی خامی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ شاید پارٹی اپنے جوش میں یہ توازن نظر انداز کر دیتی ہے ۔تبھی سپریم کورٹ کا دخل اہمیت اختیار کرتا ہے۔کیا پارٹی کے اعلی لیڈر یہ سلسلہ بنا سکتے ہیں کہ سرکار کی کارروائی دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے پارٹی کی سوچ کو حوصلہ دے ؟یہ ضروری ہے۔اس نقطے پرسبھی پارٹی کے لیڈروں کو غور کرنا چاہئے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Sep 3, 10:53 am

بیزاری کا عالم ؟

بیزاری کا عالم ؟


ایسا کسی کو بھی محسوس ہونا فطریہے کہ عوام بے زاری کے عالم میں وقت بسر کر رہے ہیں۔ پریشانیاں پہلے بھی تھیں اور اب بھی ہیں لیکن جس انداز سے ان پر رویہ ظاہر کیا جانے لگا ہے، وہ سماج کی حالت کا عکسنظر آتا ہے۔یہ بہت اچھا نہیں۔اس کے لئے سیاسی پارٹیوں کو قصوروار کہنا آسان ہوتا ہے اور انہیں کے داؤ پیچ کا نتیجہ کہا جاتا ہے، لیکن کیا یہ سب صرف سیاست کا تماشہ ہے؟اس سوال کا جواب ہم کو خود اپنے اندر سے ایمانداری سے دینا ہے۔ کیا ایسا کرتے ہیں ہم ؟شاید نہیں! کسی بھی مدعے پر رد عمل تشدد اور غصے سے ہونا اثردار مانا جاتا ہے۔ اس میں بہت حقیقت بھی نظر آتی ہے۔ جب تک سڑکوں پر ہنگامہ نہ ہو، شور نہ مچے اور احتجاج نہ ہو تب تک کوئی بھی مسئلہ قابل توجہ مانا نہیں جاتا۔کولکاتہ کانڈ کو لیکر اتنا شور مچا ہے اور اب صدر صاحبہ نے اپنا دکھ ظاہر کیا ۔اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ اتنی دیر کیوں لگاتی ہیں،بلکہ قابل غور یہ ہے کہ ان تک مسئلےکیاہمیت کا احساس دلانے والے اتنی دیر انتظار کیوں کرتے ہیں؟ ایسا نہیں کہ صدر کے بیان سے مسئلہحل ہو جائے گا،یا پھر آئندہ ہوگا نہیں،لیکن جو دھیان اس طرف دینا چاہئے تھا وہ صدر کے بیان کے بعد کچھ بڑھنےکی امید کی جاتی ہے۔کیا اس کو جلدی کرنے ضروری نہیں؟عوام کو یوں بھی لگتا ہے کہ بغیر شور کے سب کان بند رہتے ہیں ۔اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ورنہ جو بے زاری بڑی پریشانیوں کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہیں وہ چھوٹی باتوں سے بھی ہونے لگیں گی ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Sep 2, 10:34 am

پنجاب میں سکھ سیاست کے موڑ

پنجاب میں سکھ سیاست کے موڑ

پنجاب میں اکال تخت صاحب نے اکالی دل کے صدر سکھ بیر بادل کو پنتھ کے خلاف کام کرنے کے جرم میں تنخیا قرار دیا ہے۔ ان کی حکومت کے دوران پنتھ کو نقصان پہنچانے والے فیصلے لینے کے لئے یہ سزا دیگئی ہے۔ ظاہری طور پر لگتا ہےکہ پنتھ کے محافظ بہت سخت کارروائی کر رہے ہیں،لیکن کیا یہ محض اکالی دل میں آئےبادل صاحب کے خلاف طوفان کو قابو کرنے کے لئے دکھاوا کیا جا رہا ہے ؟اول تو یہ کہ اتنے برسوں کے بعد کیوں یہ محسوس کیا گیا کہ سکھ بیر بادل کی حکومت پنتھ کے خلاف تھی؟ دوسرا اب یہ سزا سنا کر بادل صاحب کو پھر سے سرگرم ہونے کا موقع دیا جارہا ہے۔کیوں؟ پنجاب میں آپ سرکار اپنی جگہ بناے ہوئے ہے۔ مقبولیت کم ہونے کے باوجود اکالی دل کو کوئی فائدہ ہوتانہیں نظر آتا ۔اس کے علاوہ کچھ دوسری آوازیں سکھ پنتھ کی حفاظت کا دعویٰ کرنے کے لئے اٹھنے لگی ہیں ۔مان اور امرت پال کو نظر انداز کرنا مشکل ہے ۔ اکالی دل کے لئے یہ لوگ فائدے مند ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے ان کابادل خاندان کی بڑھت قبول کرنا لازمی ہے ۔وہ تبھی ہوگا جب سکھ بیر بادل سکھ پنتھ کے واحد ترجمان نظر آئیں گے!اس کو حقیقت بنانے کے لئے یہ قدم ضروری ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے بھا جپاکو بھی سہولت ہونے کی امید ہے۔آپ کو بھاجپا برطرف نہیں کر پائی، لیکن اکالی دل کے ساتھ مل کر آپ کو کمزور کرنا ممکن ہو سکتا ہے ۔اس لئے جو منظر اس وقت پنجاب میں بن رہا ہے وہ آپ اور کانگریس کے لئے پریشانی کی وجہ ہوگا، لیکن اکالی دل اور بھا جپا کے لئے بہتری کا اشارہ مانا جا سکتا ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Aug 31, 10:48 am

صوبوں پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت

صوبوں پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت

میڈیا کو ملک کے صوبوں کے منظر پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔مرکزی اطلاعاتی سلسلہ زیادہ تر مرکزی تصویر کو پیش کرنے میں مصروف رہتا ہے ۔یہ ضروری ہے لیکن ہندوستان کا بنیادی چہرہ صوبوں میں بستا ہے۔ اس کو نظر انداز کرنا یا محض ذکر میں لانا ملک کی اصل تصویر سے نا انصافی ہوگی۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ سب صوبوں میں روزانہ خبر کے لائق مدعے اٹھتے تو ہیں ہی، لیکن ان سب کا مرکزی پہلوؤں سے تعلق ہو یہ ضروری نہیں۔پھر بھی بہت ایسے مدعے ہیں جو صوبوں کے بارے میں معلوم ہوں تو مرکز سے ان پر اثر ہونا فطری ہے ۔ یہ صرف سرکاری نظریئے سے نہیںبلکہ ذاتی دائرے کے لئے زیادہ اہم ہے۔ہریانہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ ایسے ہی کچھ صوبے ہیں جن میں جدیدیت کے ساتھ ترقی ہو رہی ہے۔ اس منظر سے مرکز میں بیٹھے لوگوں کے لئے نئے مواقع ظاہر ہوتے ہیں جو صوبوں اور پورے ملک کے لئے فائدے مند ثابت ہوں گے۔ اس پر غور اور جانکاری کی ضرورت ہے۔صوبوں کا اطلاعاتی سلسلہ ان کے دائرے تک محدود رہ جاتا ہے ۔اس سے مواقع ہاتھسے نکل سکتے ہیں۔ ہندوستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔یہ صرف مرکز سے ہی نہیں،بلکہصوبوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ہندوستان وسیع ملک ہے اور اس میں مختلف پہلو اپنے اپنے رنگ پھیلاتے ہیں۔ انہیں سے ملک کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Aug 30, 10:43 am

بنگلہ دیش میں سیاست کا اشارہ

بنگلہ دیش میں سیاست کا اشارہ

بنگلہ دیش کی موجودہ سرکار نے جماعت اسلامی پر لگی پابندی ہٹا دی ہے۔جب ملک قائم ہوا تھا تب شیخ مجیب نے مذہب پر بنی پارٹیوں کا سیاست میں حصہ لینا رد کر دیا تھا ۔اسی بنیاد پر جماعت اسلامی پابندی کے دائرے میں آئی۔ شیخ مجیب کے قتل کے بعد خالدہ ضیاء نے جماعت کے ساتھ مل کر سرکار چلائی اور جماعت کو سیاسی اہمیت حاصل ہوئی ۔شیخ حسینہ نے پھر پابندی ایڈ کی، یہ وجہ دیکر کی جماعت کا طلبا ءگروپ انتہا پسندی کو حوصلہ دیتا ہے۔اس سے جو رول جماعت اور اس کے نوجوان ممبران نے شیخ حسینہ کے خلاف ادا کیا وہ آج کے حالات کے لئے کافی حد تک ذمہ دار ہے۔اس لئے کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ پابندی ہٹا دی گئی۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس سے ملک کی سیاست کا کیا اشارہ سمجھا جائے ؟اول تو یہ کہ جب بھی اگلے چناؤ ہوں گے۔ ان میں جماعت خاص سرگرم ہو گی اور فیصلہ کن رول نبھائے گی۔کوئی بڑی بات نہیں ہونی چاہئے اگر جماعت اور چند سیاسی چہرے بنگلہ دیش کی حکومت کی عنانسنبھالیں ۔یہ مدعا کسی بدیشی کے لئے اعتراض کا موضوع نہیں بن سکتا۔ہر ملک کو اپنے اندر کا سلسلہ بنانے کا حق ہے،لیکن اگر اس سلسلے سے کل علاقے کے امن اور سکون میں خلل پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو بدیشی آواز جائز ہے، خاص کر پڑوس کی! یہ کوئی راز نہیں کہ بنگلہ دیش میں جو ہوا وہ بدیشی اشاروں اور حوصلے سے ہوا ۔وہ حوصلہ چین اور پاکستان سے آتا ہے ۔ان کے ساتھ کوئی تیسری طاقت شامل ہے تو یہ ان کا معاملہ ہے۔چین نے اسلام کو استعمال کرتے ہوئے اپنے گھر میں اسے دبا کر رکھا ہے۔پاکستان میں بھی وہی منظر ظاہر ہے۔ ایسا ہونا ممکن ہے کہ مستقبل میں بنگلہ دیش انتہا پسندی کا وہ مرکز بنے جو پاکستان نے مغرب میں بنایا ہوا ہے ۔نشانہ ہندوستان ہے، یہ کوئی بچہ بھی جانتا ہے ۔موجودہ سرکار خود کو انصاف کا فرشتہ ثابت کرنے کے لئے سب کو ابھار رہی ہے۔ سرکار کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ وہ بنگلہ دیش اور اس کے عوام کی بہتری کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ذاتی شہرت اول نہیں!کیا بنگلہ دیش کے عوام اصل تصویر پہچان سکیں گے ؟موجودہ فضا میں ایسا امید کرنا نادانی کا ثبوت ہوگا ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Aug 29, 11:00 am

کشمیر میں سیاست کی تصویر ؟

کشمیر میں سیاست کی تصویر ؟

جب سے کشمیر اسمبلی کے لئے چناؤ کا اعلان ہوا ہے تب سے ہی وہاں کی سیاسی تصویر روزانہ رنگ بدل رہی ہے۔ایسا ہونا حیرانی کی بات نہیں، لیکن ان بدلتے رنگوں سے کیا تصویر ابھرے گی، اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہو رہا ہے۔یوں بھی اتنے برسوں کے بعد چناؤ ہو رہے ہیں، تو ان میں جوڑ توڑ کے لئے بہت سے نئےپہلو سامنے آنے فطری ہیں۔یوں تو جمہوریت میں ایسا دلچسپی کا مدعا ہونا چاہئے، لیکن کشمیر کی نازکتا اور تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف سوالات ابھر رہے ہیں۔کیا نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا گٹھ بندھن اکثریت حاصل کر کے سرکار بنا سکے گا؟کیا کانگریس مرکزی نظریے کو ترک کر کے صوبے کی سوچ اختیار کرے گی؟کیا اس سوچ کا اثر مرکزی سیاست پر پڑے گا؟اگر یہ دونوں پارٹیاں کامیاب نہیں ہوتیں تو پھر کون سامنے آسکتا ہے؟کیا محبوبہ مفتی کی پارٹی اپنے ساتھ اتنے ساتھی جوڑ سکیں گی کہ وہ حکومت کر سکے؟کیا رشید اور جماعت کے امیدوار ٹھوس فرق ڈالیں گے ؟اگر کسی وجہ سے رشید اور جماعت ہاتھ ملا لیتے ہیں تو اس کا صوبے کی سیاست پر کیا رنگ چڑھے گا ؟ اگر بھا جپاکامیابی حاصل کرتے ہوئے سرکار بنانے کا اشارہ دے،تو کون ان کے ساتھ ملنے کو راضی ہوگا؟سوالات کبھی نہ ختم ہونے والے ہیں اور جواب کسی کا نظر نہیں آتا۔اس صورت میں انتہا پسندی اپنی سازشیں ضرور چلنے کی کوشش کرے گی۔حفاظتی دائرے میں بہت چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ان سب مدعوں کو زیر غور لاتے ہوئے کشمیر کا سیاسی منظر پیچیدہ اور مشکل لگ رہا ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Aug 28, 10:58 am

کیا ہم حب الوطن ہیں یا خود غرض؟

کیا ہم حب الوطن ہیں یا خود غرض؟

یوں تو ہم پوریدنیا کو اپنا پریوار قرار دیتے ہیں،لیکن پھر حب الوطنی کا دعویٰکیسے جائز بن سکتا ہے؟کیا ہم دونوں ہونے کا جذبہ رکھ سکتے ہیں؟بنیادی طور پرسوچنے کی ضرورت ہے ! حب الوطن کا معنی کیا ہے؟کس قدم کو وطن کے لئے کہا جائے اور کس کو نہیں ؟اس کا خاکہ بنانا بہت مشکل ہے۔اول نقطہ تو یہ ہے کہ اگر اپنا وجود نہیں ہوگا تو ملک سے تعلق کیا رہے گا؟ لیکن اگر وہ عظیم شہید اپنے وجود کے بارے میں سوچتے جنہوں نے جنگ آزادی میں قربانیاں دیں، تو ہم آج یہاں یہ موضوع زیر غور نہ لاتے۔ وجود ملک کے لئے ہے اور اسی سے ہے۔پھر بھی ہر کوئی زندگی کی بازی تو نہیں لگاتا۔شاید اہم یہ ہے کہکسی بھی کرم سے پہلے اس کو کرنے کی نیت بہت ضروری ہے۔اگر اس میں خامی ہے یا ارادے نیک نہیں تو پھر جان کی بازی بھی بے معنی ہو سکتی ہے۔ آج کے دور میں کرم کیا جانا چاہئے، لیکن اس کے پیچھے نیت وطن کے مفاد کی ہونی چاہئے۔ اس سے اپنا فائدہ ہو تو بہت اچھا۔ سونے پر سہاگا ہوگا! موجودہ دور کے اندر تصویر جو رنگ ظاہر کرتی ہے وہ اصل میں بھی ہوں، یہ لازمی نہیں۔اس لئے جب ملک کے فائدے کی بات چلے تو یہ بھی قابل غور ہے کہ وہ پہلو خود بخود دنیا کی بہتری کے لئے بھی ہو گا۔اگر فوری طور سے نہیں،تو وقت کے ساتھ ظاہر ہوگا! کیا آج انسان ایسی سوچ قائمکر سکے گا ؟ دوسروں کے بارے میں سوال پوچھنے سے پہلے خود سے جواب مانگنا ضروری ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Aug 27, 10:47 am

کملا ہیرس امریکہ اور ہندوستان

کملا ہیرس امریکہ اور ہندوستان

کملا ہیرس امریکہ میں تاریخ رقم کر رہی ہیں۔وہ پہلی عورتہیںجو کسی اہم پارٹی کی امیدوار بن کر ملک کے صدر کے عہدے کے لئے چناؤ لڑیں گی۔اب تک یہ عام مانا جاتا تھا کہ امریکہ میں عورت کو اول عہدہ دینے میں وہاں کے عوام ہچکچاتے ہیں۔یہ مدعا بحث کا بھی رہا اور ظاہر بھی ہوا،لیکن اب کملا ہیرس نے وہ حد توڑ دی ہے ۔ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ امریکی صدر کے لئے چناؤ لڑیں گی۔ ڈونالڈ ٹرمپ ان کے مقابلے میں ریپبلکن پارٹی سے ہیں ۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ دونوں طرف سے ہند نسل کے لوگوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔کملا ہیرس خود ہند نسل کی ہیں اور دوسری طرف نائب صدر کے عہدے کے لئے چناؤ میں وانس کی بیوی ہند نسل کی ہیں۔سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا، سوال یہ ہے کہ امریکی عوام نے ہندوستانسے وابستہ لوگوں کو اپنے مستقبل کو چلانے کا حق دیا ۔جو سماج اپنی عورتوں کو اول عہدے کے لئے حقدار نہیں مانتا تھا، وہ آج ہندوستان سے وابستہ عورتوں کو اس کے قابل قبول کر رہا ہے۔کیا یہ ہندوستانی تہذیب کی مہارت کا ثبوت نہیں؟ امریکہ کی جمہوریت میں ہندوستانی نسل کے شہریوں کا اثر ظاہر ہے،لیکن اس کا اس طرح ابھر کر فیصلہ کن نظر آنا، چند برس پہلے تک تصور کے باہر تھا۔جس عورت کو ہند عقیدہ دیوی اور شکتی کا روپ مانتی ہے، وہی آج سات سمندر پار اثر قائم کر رہا ہے۔ ہمارے یہاں اپنے سماج، تہذیب، تاریخ اور روایتوں کی قدر نہیں کی جاتی۔ شاید تبھی بدیش ان کو زیادہ اہمیت دے کر زندگی میں لاگو کر رہا ہے۔یہاں عورتوں کو آج بھی استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہوہ ہی کل ڈھانچے کی بنیاد ہیں۔کیا کملا ہیرسکی مثال ہم کو سبق نہیں دے سکتی؟یہ ہندوستانیت کی کامیابی اور طاقت کی جھلک ہے ۔اس کےلئے ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہئے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Aug 24, 10:38 am

کشمیر میں سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری

کشمیر میں سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری

کشمیر میں اسمبلی چناؤ کو لیکر سب سیاسی پارٹیاں اپنیکمر کس رہی ہیں۔کانگریس نے تو نیشنل کانفرنس کے ساتھ گٹھ بندھن بھی کرنے کا اعلان کیا ہے۔دوسری پارٹیاں اپنے داؤ چلنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔بھا جپا نے رام مادھو جی کو صوبے کے چناؤ کی ذمہ داری دے کر ظاہر کیا ہے کہ وہ کوئی پہلو ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتی۔ ہر پارٹی کا حق ہے کہ وہ اپنا نظریہ عوام کے سامنے رکھے اور اثر پیدا کرنے کی کوشش کرے،لیکن یہاں نہایت ضروری ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں خیال رکھیں کہ چناؤ میں ایسے مدعے نہ لائے جائیںجو صوبے اور اس کے لوگوں کے لئے نقصان دایکہوں ۔چناوی مدعے روزمرہ کیزندگی کی مشکلوں کو حل کرنے اور زندگی کو بہتر بنانے پر زور دینے والے ہونے چاہئیں۔جذبات کو بھڑکانا آسان ہوتا ہے، لیکن اس سے حاصل کچھ نہیں ہوگا۔ 370کو لیکر مختلف نظریات پیش کئے جا رہے ہیں۔ تقریروں میں اس سے جوش پیدا کیا جانا فطری ہے۔اس کا فائدہ کیا ہوگا؟سپریم کورٹ بھی اس مدعے پر رائے دے کر بحث ختم کر چکا ہے۔اب اس پر بیانات بے معنی ہیں،لیکن سیاسی پارٹیاں کوشش کریں گی کہ اس کو لیکر ماحول بنایا جائے۔اس تماشے میں اصل مدعے نظر انداز ہو جائیںگے۔ روزگار، نئیصنعت،نئےمواقع بیوپار بڑھانے کے، کشمیری فن کو ابھارنے کے راستے اور کشمیر کے لوگوں کو عالمی اسٹیج پر اپنا ہنر ظاہر کرنے کے پلیٹ فارم۔یہ سب چناؤ کی بحث میں ہونے لازمی ہیں۔ان سے کشمیر اور لوگوں کا مستقبل روشن ہوگا۔کیا سیاست اسذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے چناؤ میں بحث کا سلسلہ تیار کر سکے گی؟ نوین


Editor Name: نوین Updated: Friday, Aug 23, 10:11 am

پردھان منتری مودی پولینڈ اور یوکرین میں

پردھان منتری مودی پولینڈ اور یوکرین میں

پردھان منتری نریندر مودی جی پولینڈ اور یوکرینکے دورے پر گئے۔یہ اپنے آپ میں خارجہ دائرے کے اسٹیج پر اہمیت رکھتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کو ہندوستان کا دوسرے ملکوں سے توازن رکھنے کی کوشش کہتے ہیں۔یہ سوچ ہند وستان پر لاگو نہیں۔اول تو یہ ہے کہ ہندوستان کو کبھی بھی اپنی سوچ کے لئے کسی دوسرے ملک کو وجہ نہیں دینی پڑی ۔یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کو مکمل آزادی ہے قدم لینے کی۔پھر بھی بین الاقوامی دائرے میں توازن کا خیال رکھنا فطریہے۔ اگر ہندوستان امریکہ کے ساتھ خاص تعلق رکھتا ہے تو اس کے لئے اس نے روس کو برطرف نہیں کیا۔ جب امریکہ روس کے خلاف طرح طرح کی پابندیاں لگا رہا تھا تب بھی ہندوستان نے آزاد سوچ کے ساتھ رشتہ رکھا۔وہ ہندوستان کے مفاد میں تھا اور ہے ۔پھر آج جب مودی جی پولینڈ گئے اور یوکرین گئے تو یہ کیوں سوچا جاتا ہے کہ یہ امریکہ اور مغربی ملکوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے ؟ پولینڈ کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی تعلقات رہے ہیں۔وہاں پر ہند نسل کے شاہی خاندان نے ہٹلر کے خلاف سرگرم یوگدان دیا تھا۔تبھی آج اتنے برس کے بعد بھی وہاں کے لوگ اس کو یاد رکھے ہوئے ہیں اور ایک یادگار قائم ہے۔اسی پر مودی جی نے اپنی شردھانجلی دی۔ جہاں تک یوکرینکا سوال ہے وہ عالمی اسٹیج پر ایک مشکل اور تکلیف کا منظر بنا ہوا ہے۔ ضروری ہے کہ وہاں امن کے لئے ٹھوس قدم اٹھائےجائیں۔ہند ایک ایسا ملک ہے جو دونوں طرف سے وزن رکھتے ہوئے تجویز کی طرف سوچ سکتا ہے۔ کسی معجزے کی امید کرنا نادانی ہوگی لیکن عالمی برادری کا ذمہ دار حصہ ہونے کے ناطے ہند اپنا یوگدان دے رہا ہے۔مودی جی کا یہ دورہ ہندوستان کی عالمی اہمیت کا ثبوت ہے اور بڑھتے رتبے کی تصویر ۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Aug 22, 10:45 am

کیا عورتوں کی حفاظت چناؤ کا مدعا بن سکتا ہے ؟

کیا عورتوں کی حفاظت
چناؤ کا مدعا بن سکتا ہے ؟

جس طرح سے عورتوں کی حفاظت کو لیکر پورے ملک میں شور مچا ہوا ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ماننا فطریہوگا کہ یہ مدعا چناؤ میں اہم مدعابن سکتا ہے،لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ پہلے بھی المناک واقعات سامنے آئے تھے جن سے پورے سماج کا سر شرم سے جھک گیا۔جب چناؤ کا موقع آیا تو ان کے بارے میں کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔شاید ذکر بھی نہیں ہوا۔ کیوں؟ اس میں کس کی غلطی ہے؟اگر موضوع کو ہی اہمیت نہیں دی جائے گی تو اس پر قابو پانے کا قدم کیسے لیا جائے گا؟سیاسی پارٹیاں شور مچاتی ہیں۔نعرے لگتے ہیں۔بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ تشدد بھڑکتی ہے،لیکن جب اصل کاروائی کرنے کا موقع آتا ہے تو کوئی دھیان نہیں دیتا۔اس سے یہ اندازہ لگانا فطریہے کہسارے معاملے میں کہیں نہ کہیں سیاست کی شرکت ہوتی ہے۔ کس درجے پر تو کہنا مشکل ہے، لیکن یہ صرف جرم نہ رہ کر سازش بن جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ سازش کے پیچھے بہت سے مدعے پوشیدہ ہوتے ہیں اور ان سب پر غور کرنا لازمی ہے۔تبھی معاملے کی جڑ تک جایا جاسکتا ہے۔ملک میں روزانہ عورتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔عمر کا تو کوئی لحاظ ہی نہیں رہا۔ معصوم بچیوں سے لیکر بزرگوں تک کو خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس ماحول کو دور کرنا ضروری ہے۔اس مدعے کو چناؤ سے جوڑنا ہوگا تاکہ پارٹی اور امیدوار جواب دہ ہوں ۔عوام کو غور کرنا چاہئے! نوین
Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Aug 21, 9:20 am

چین کی کوشش ناکام رہے گی!

چین کی کوشش ناکام رہے گی!


چین کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ وہ ہندوستان کو اس کےپڑوس سے بالکل الگ تھلگ کر دے۔پاکستان میں تو اسے محنت کرنی نہیںپڑی اور وہاں سے اسے باقی ملکوں کے لئے پلان بنانے کی تجویز شروع کی۔اس سوچ کے ساتھ چین سری لنکا، مالدیپ اور بنگلہ دیش میں اپنی سازشیں کرتا آیا ہے۔نیپال کو بھی بار بار نشانہ بنایا، لیکن اس کو وہ کامیابی نہیں ملی جس کی اسے امید رہی ہے۔جہاں تک سری لنکا اور مالدیپ کے سوال ہے،ان میں بھی ابتدائی وقت میں ایسا لگتا تھا کہ ہندوستان کو بھاری نقصان ہوگا۔وقت کے ساتھ یہ منظر بدل گیا اور ان ملکوں نے احساس کیا کہ جو یقین ہندوستان پر کیا جاسکتا ہے وہ چین پر نہیں ہوتا۔وعدے بہت ہوتے ہیں لیکن ان کو پورا کرنے کے لئے جو ادائیگی کرنی پڑتی ہے وہ سودا مہنگا بنا دیتی ہے۔ بنگلہ دیش حالیہ سازش کا شکار لگتا ہے۔ ابھی بھی وہاں کی نئی سرکار کو یہ احساس ہے کہ ہندوستان مخالف رویہ کسی بھی صورت میں فائدے مند ثابت نہیں ہوسکتا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ چین ہند وستانکو گھیرنے کے لئے اتنی تجویزیں عمل دیتا ہے لیکن اپنے لوگوں کے حالات کو بہتر کرنے کی طرف اشارہ بھی نہیں کرتا۔ وہاں کے مسلمان جس طرح سے زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ اپنے آپ میں دردناک بیانی ہے۔عالمی برادری کو یہ پہلو سمجھ کر چین سے تعلقات بنانے چاہئیں۔چین اپنی ترقی اپنے لوگوں کے بہتری کے بجائے مخالف ملکوں کو کمزور بنانے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔یہ بین الاقوامی اصولوں کے برعکس ہے اور انسانیت کے لئے جرم ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Aug 20, 10:40 am

چناؤ اور کشمیر

چناؤ اور کشمیر


چناؤ کمیشن نے کشمیر اور ہریانہ میں چناؤ کا اعلان کر دیا ہے۔یوں بھی کشمیر میں صوبائی اسمبلی کے چناؤ کاانتظار ہورہا تھا۔سپریم کورٹ نے پہلے ہدایت دی تھی کہوہاں چناؤ ستمبر تک ہونے چاہئیں۔سرکار لگاتار اس بات پر زور دیتی آئی ہے کہ صوبے کو اپنے نمائندے چننے کا حق ہے۔ چند مہینے پہلے پارلیمنٹ کے لئے جو چناؤ وہاں ہوئے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہحالات بدل رہے ہیں اور کشمیر نئے مستقبل کی تحریر رقم کر رہا ہے۔سبھی سیاسی پارٹیاں اس اعلان سے خوش ہیں جو اپنے آپ میں دکھاتا ہے کہ لوگ جمہوریت سے اپنی رائے ظاہر کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔بے بنیاد پروپیگنڈہ بار بار رد ہوتا آیا ہے اور کشمیر کے لوگوں نے خود اسے بے معنی ثابت کیا ہے۔چناؤ ہونے بہت اچھی بات ہے،لیکن علاقے کی سلامتی اور حفاظت کے ساتھ کوئی سودا نہیں کیا جانا چاہئے۔یہ چھپا نہیں کہ پڑوس سے اب بھی سازشیں کرنے کی پوری کوشش ہو رہی ہے ۔اس کے لئے ہر طرح کے داؤ پیچ چلے جا رہے ہیں۔وہاں کی سوچ ہی یہ ہے کہ اپنی بربادی بھلے ہو، دوسرے کو برباد کرنے کی کوشش نہیں چھوڑیں گے! اس لئے سرکار اور سیاسی عملے کو بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ قدم لینےہوں گے۔حفاظت کو سخت رکھتے ہوئے عوام کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا موقع دینا ہوگا۔یہاں سیاسی لیڈروںکا بھی بڑا فرض بنتا ہے۔ ان کو بے وجہ کے جذبات کو بھڑکانے سے پرہیز کرنا ہوگا۔ورنہ ان کافائدہ انتہا پسند عناصر اٹھانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ جمہوریت کو لاگو کرنا لازمی ہے لیکن اول ہے لوگوں اور علاقے کی حفاظت۔وہ ہو گی تو جمہوریت بھی اثردار نظر آئے گی۔ کشمیر نئے دور کا خاکہتیار کر رہا ہے ۔اس کے لوگ مستقبل میں وہ سب احساس کریں گے جو ان کی صلاحیت کو مکمل انداز سے پیش کرے گا۔ابھی آغاز ہو رہا ہے،آگے امید نئے مقام سجا کر منتظر ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Aug 17, 10:45 am

بنگال کی آگ کی تپش

بنگال کی آگ کی تپش

ملک کا بڑا حصہ بنگال میں لگی آگ کی تپش سے جھلس رہا ہے۔ایک واقعہ اس قدر جذبات کو بھڑکا دے گا، شاید یہ نظم و نسق کے محافظوں نے اندازہ نہیں لگایا تھا۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس تپش کے پیچھے سیاسی ہوا بھی ضرور ہوگی۔وہ تو ہر مدعے کو استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہی ہے۔دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سا موضوع عوام کے دلوں کو جھنجوڑ سکتا ہے اور ان کو گھر سے باہرآنے کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔ عورتوں کی حفاظت اور حقوق اہم مدعا ہے۔ایک عورت واحد شخصیت ہونے کے ساتھ کل خاندان کی وقار اور رتبے سے جڑی ہوتی ہے۔درجہ کوئی بھی ہو، اقتصادی دائرہ کوئی بھی ہو۔ گھر کے اندر کے حالات جیسے بھی ہوں، لیکن ایک لڑکی کا نام بہت جذباتی پہلو ہے۔جب اس پر شعلے گرتے ہیں تو آگ بھڑکتی ہے۔ یہاں حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ایسی درندگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ اپنے گھروں میں عورتوں کو خاص حفاظت سے رکھتے ہیں۔یہ دوہرا رویہ دُکھدایک بات ہے۔اس کوبدلنے کے لئے کوئی قانون یا فرمان کافی نہیں ہوگا۔یہ اندر سے بدلنے کی ضرورت ہے۔اس میں مذہب اور سماج کا رول اہم ہو سکتا ہے، اگر ایمانداری سے نبھایا جائے !بنگال میں لگی آگ کو شانت کرنا ضروری ہے۔اس کے لئے جو بھی کاروائیلازمی ہے وہ فوراً ہونی چاہئے۔کیا مرکز اور صوبہ مل کر ٹھوس قدم لے سکتے ہیں؟کیا جرم کو سیاست سے الگ رکھ کر سوچ عمل میں لائی جائے گی۔؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Aug 16, 10:46 am

آزادی کی ذمہ داری کا فرض

آزادی کی ذمہ داری کا فرض

آج ہندوستان آزادی کا جشن مانا رہا ہے۔1947 میں جو امیدیں اٹھی تھیں ان سے بہت آگے ملک بڑھ رہا ہے، لیکن اس سفر میں بہت مایوسیاں بھی ہیں اور غلطیوں کا احساس بھی۔ یہی انسانی زندگی کا نچوڑ ہے۔اکثر ہم جشن سے وابستہ ذمہ داری کو نظر نداز کر دیتے ہیں اور صرف حق پر توجہ رکھتے ہیں۔اس صورت میں فرض کا دائرہ کھوکھلا ہوتا چلا جاتا ہے۔آج جب ملک آزادی کے رنگوں میں سج رہا ہے تو لازمی ہے کہ ان میں ذمہ داری کا رنگ ابھارا جائے اور اس کو خلوص کے ساتھ ادا کیا جائے۔اس کے بغیر جشن مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ غریبی ہے۔اس کےلئے کسی ایک سیاسی پارٹی کو ذمہ دارقرار دینا ناسمجھی ہوگی۔ یه کل سیاسی اور انتظامیہعملے کی خامی ہے۔ اگر اقتدار والی پارٹی پر انگلی اٹھتی ہے تو اپوزیشن بھی اتنی ہی شامل ہے۔تعلیم میں بہت گنجائش نظر آتی ہے۔مذہب کا شور ہے، لیکن روحانیت کمزور ہوتی آئی ہے۔بیوپار بڑھا ہے لیکن اس کا سماج کے وسیع دائرے پر اثر اس طرح نہیں ہوا،جس کی امید کی جاتی تھی۔ ملک نے پیداوار اور خود مختاری میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ پھر بھی درآمد پر بہت کچھ نربھر ہے۔ ملک پر فخر کی رسمیں بہت نظر آتی ہیں، لیکن جذبہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت نکتے ہیں، جن پر غور لازمی ہے،لیکن سب کی فہرست ممکن نہیں۔ایسا نہیں کہ یہ مسئلےصرف ہندوستان کے ہیں۔پوریدنیا کے ممالک انھیں میں الجھے ہوئے ہیں۔جو بہت ترقی یافتہ اور جدیدیت کی مثال ہونے کا دعویٰکرتے ہیں وہ بھی انھیں مشکلوں میں دھنسے ہوئےہیں۔آج کا سب سے بڑا مسئلہہے انسان امید آسمان تک لےجاتا ہے، لیکن فرض کے لئے قدم اٹھانا بھی احسان مانتا ہے۔ہم کو جلد از جلد سب کچھ چاہئے تاکہ ہم دوسرے سے زیادہ کامیاب ہونے کا دعویٰ کر سکیں، لیکن اس کے لئے جو محنت کی ضرورت ہے وہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔اس کے لئے کسی دوسرے کو ذمہ دار مانتے ہیں۔یہ آزادی سے کھلواڑ ہوگا نہ کہاس کا جشن ! ہندوستان کے پاس صلاحیت ہے۔ہند طاقت رکھتا ہے۔ہند ہنر رکھتا ہے۔ہند قابلیت رکھتا ہے ۔اب ان سب کو صحیحسلسلے میں ملا کر لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔یہی آزادی کا فرض ہے اور یہی اس کا ٹھوس جشن ہوگا۔آپ سب کو یوم آزادی مبارک ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Aug 14, 12:22 pm

ہندوستان کو نشانہ بنایا جارہا ہے ؟

ہندوستان کو نشانہ بنایا جارہا ہے ؟

بدیشی دائرے سے ملک کے اندر اقتصادی کاروائیپر نکتہ چینی کوئی حیرانی کی بات نہیں ۔ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا۔قابل غور یہ ہے کہ کیا یہ مذمت حقیقت پر تیار کی گئییا پھر حقیقت کو بدلنے کے لئے تیار کی جارہی ہے؟ یہ کسی سے چھپا نہیں کہ ہند وستانترقی کر رہا ہے۔اس سے چند ذاتی ادارے وابستہ ہیں۔یہ سب ملکوں میں ہوتا ہے۔بدیشوں میں ہو تو اس کو صنعتی آزادی کہتے ہیں اور اگر ہندوستان میں ہو تو اس کو اقتصادی داؤ پیچ کہا جاتا ہے۔اپنے گھر میں ہم جو بھی رویہ اختیار کریں،لیکن کسی بدیشی کو اس کی مخالفت کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔جو بھی ہو رہا ہے وہ ہندوستان اور اس کےعوام سے جڑا ہے۔ شاید یہی بات کچھ بدیشی طاقتوں کو منظور نہیں۔ انہوں نے کبھیتصور نہیں کیا تھا کہ ہندوستان اس قدر بین الاقوامی اسٹیج پر اپنی جگہ بنا لے گا اس کو روکنا اور اسے تباہ کرنا ان طاقتوں کا مقصد بن گیا ہے۔یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ چناؤ کے نزدیک ہی اس طرح کے راز فاش ہوتے ہیں؟ پہلے بھی اڈانی صنعتی گروپ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد میں اس سے جو منظر پیدا ہوا وہ نکتہچینی کرنے والوں کے لئے شرمندگی سے کم نہیں تھا۔اب پھر صوبوں کے چناؤ آرہے ہیں۔پھر وہی راگ شروع کیا گیا۔قانونی طور سے ہر جانچ لازمی ہے اور کی جانی چاہئے،لیکن اگر پھر کچھ ٹھوس نہ ظاہر ہو تو مستقبل کے لئے ایسے بدیشی اداروں کو اپنی حد میں رہنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔ورنہ ہندوستان کے لوگ وہ حد باندھ دیں گے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Aug 12, 11:04 am

بنگلہ دیش کی نئی سرکار پر بڑی ذمہ داری

بنگلہ دیش کی نئی سرکار پر بڑی ذمہ داری

بنگلہ دیش کونئی سرکار ملگئی ہے۔محمّد یونس اس کےسربراہ ہیں اور انہیں کی سوچ کو پیش کرنے کا سلسلہ بنایا جارہا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ یونس صاحب ایک صاف اور پاک عکسوالے شخص ہیں جس کی ملک میں بہت سخت ضرورت ہے۔ عوام کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ جو لیڈر ان کے مستقبل کے فیصلے لے رہا ہے وہ اعلی قابلیت اور بے داغ نیت کا ہے ۔یونس کی زندگی ایسی تصویر ظاہر کرتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا یونس صاحباپنی سوچ کو لاگو کرنے میں کامیاب ہوں گے ؟جب تبدیلی آتی ہے تو بہت کچھ بدلتا ہے۔کیا یہ بدلاؤ یونس صاحبکو عمل کی آزادی دے گا ؟طلباء بھی عہدوں پر لائے گئے۔ فوج کی طاقت تو لازمی ہے کیونکہ اس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ان سب کے بیچ ملک کی اندرونی سیاست بھی سرگرم رہے گی۔اس میں توازن رکھتے ہوئے عوام کی امیدوں کو پورا کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اس کے ساتھ نئی سرکار کو ہندوستان کے ساتھ کھلی سوچ اختیار کرنی چاہئے۔ کیونکہ ہندوستان شیخحسینہ کو حمایت دیتا تھا اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ نئیسرکار اسے دشمن مانے! ہندوستان کے لئے بھی ضروری ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے۔ جو بھی اچھے پڑوسی ہونے کے ناطے کرنا ضروری ہے، وہ کیا جانا چاہئے۔بین الاقوامی اسٹیج کی ضرورتیں اپنی ہیں جو پوری کرنی لازمی ہوتی ہیں ۔ان سب کے ساتھ بنگلہ دیش کے اندرونی حالات ہندوستان پر اثر ڈالتے ہیں۔ شمال مشرق صوبوں کو سیدھا اثر دیکھنا پڑتا ہے۔اس کا تعلق صرف اقتصادی بوجھ تک نہیں بلکہسلامتی اور حفاظتی سلسلے سے بھی ہے۔بہتر ہوگا کہ دونوں ممالک جلد از جلد رابطہ ابھاریں اور بہتری کی طرف قدم بڑھائیں۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Aug 10, 10:57 am

شمال مشرق علاقے پر خاص توجہ لازمی

شمال مشرق علاقے پر خاص توجہ لازمی

بنگلہ دیش میں تبدیلی کے بعد ہندوستان کو شمال مشرق کے علاقے پر خاص توجہ دینی لازمی ہے ۔صرف یہ دعویٰکرنا کہ ہم سلامتی کی صلاحیت رکھتے ہیں، کافی نہیں۔یہ کسی سے چھپا نہیں کہ بنگلہ دیش میں ہوئی تشدد کے پیچھے بدیشی حوصلہ ہے ۔وہ کس مقصد سے عمل کر رہا تھا، یہ وقت بتائے گا،لیکن جو بھی عناصر بنگلہ دیش میں یہ زلزلہ لانے کا سلسلہ بنا سکتے ہیں، وہ ہندوستان کے شمال مشرق کےعلاقے میں بھی تناؤ پیدا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے ۔وہ سارا علاقہ ان کی سازشوں کو عمل دینے میں رول ادا کر سکتا ہے۔ہندوستان نے گزشتہ برسوں میں بہت محنت سے اس علاقے کی ترقی اور تعمیر میں سرمایہ لگایا۔ اس کا اثر بھی ظاہر ہونے لگا ہے، لیکن اب اس کو سنبھالنے کی سخت ضرورت ہے۔چھوٹے اختلافات کو لیکر نفاق پیدا کرنے کی کوشش ہوگی۔پہلے ہی قبائلی مدعوں سے علیحدگی ہوتی رہی ہے۔اب ان مدعوں کو بہانہ بنا کر انگارے بھڑکانے کی ہر کوشش ہو گی ۔ہند سرکار کے لئے فضا کو خوشگوار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ میانمار سے بھی گڑبڑی پھیلانے کی کوشش ہونی حیرانی کی بات نہیں۔یہ سب جانتے ہیں کہ شمال مشرق ہندوستان کی جدیدیت کے سفر میں بڑا یوگدان دے سکتا ہے اور دے رہا ہے ۔اس کو نشانہ بنانے کی سازش پورے ملک کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے ہے۔وہاں کے صوبوں کی سرکاروں کو بہت سوجھ بوجھ سے قدم لینا ہوگا ۔ پارٹی اور علاقائی جذبات کو بر طرف کرتے ہوئے پورےملک کو نصب العین بنا کر سوچ اختیار کرنی ہوگی۔اس میں کسی طرح کی کمزوری بہت مہنگی پر سکتی ہے ۔ نوین


Editor Name: نوین Updated: Friday, Aug 9, 10:55 am

دَہکتا برطانیہ

دَہکتا برطانیہ


اتنے دن گزر گئے ہیں اور برطانیہ میں تشدد پر قابو کی جھلک نہیں نظر آتی۔کسی بھی مغربی ملک کے لئے یہ تکلیف کی بات ہے ۔وہاں نظم و نسق کو خاص اہمیت دیئے جانے کا دعویٰہوتا ہے اور یہی وہاں کی زندگی کا سب سے اہم نقطہ مانا جاتا ہے ۔ اگر وہ غائب ہونے لگے گا تو بدیش کی چمک بھی ماند پڑنے لگے گی۔برطانیہ نے ہمیشہ آزاد قوانین اور کھلی سوچ کے ہونے کا ڈنکا بجایا ہے۔ اس کے ذریعے بے شمار لوگوں کو بہتر زندگی کا موقع ملا ہے۔کیا وہی سلسلہ اب ملک کے لئے بوجھ بننے لگا ہے؟ جدید تکنیک کے دور میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ پیش کرنا آسان ہوتا آیا ہے ۔غلط جانکاری نے جو تشدد کو حوصلہ دیا ہے اس کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا گیا ہے۔ یوں بھی لوگ ایک گمنام اور لاوارث شخص کی بات کو زیادہ وزن دیتے ہیں بجائے سرکاری بیان کے!اس کافائدہ اٹھانا آسان ہی رہا ہے۔برطانیہ کے کچھ علاقوں میں جو تشدد کا ماحول بنا ہوا ہے وہ دردناک ہے اور المناک بھی۔سیاست اس کے لئے کہاں تک ذمہ دار ہے ؟ یہ اندرونی لیڈر جانتے ہوں گے ۔اس کا جو اثر پڑ رہا ہے وہ برطانیہ کے لئے اچھا نہیں مانا جاسکتا۔اس کا عکسکمزور ظاہر ہونے لگا ہے۔اس کے علاوہ ایک مذہب کے لوگ حالات کو غصہ ظاہر کرنے کا بہانہ بنا رہے ہیں۔اصلیت ہے اقتصادی ناکامی جو عالمی فضا کی وجہ سے بڑھتی آئی ہے۔ مدعوں کو ابھار کر اپنی ناکامی کو دوسرے کی ذمہ داری پیش کیا جاتا ہے۔یہ بہت خطرناک ماحول ہے ۔اس کو قابو میں لانا لازمی ہے ورنہ یہ کل فضا کو برباد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ برطانیہ کی سرکار کو سختی سے کاروائی کرکے امن قائم کرنا ہوگا۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Aug 8, 10:52 am

کشتی میں مہارت

کشتی میں مہارت

ونیش فوگاٹ نے پیرس میں جو کمال دکھایا وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔پورےہندوستان کے لئے یہ بہت بڑی بات ہے اور اس سے پورے ملک کا وقار اونچا ہوا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے کے لئے کماری ونیش فوگاٹ احتجاج میں الجھی رہی تھیں۔کشتی انتظامیہ کے عہدیداروں کو لیکر جو منظر سامنے آیا، اس کو نظر انداز کرنا نادانی ہوگی۔تب بھی پورےملک نے ان کھلاڑیوں کی حمایت کی تھی، لیکن جو کاروائی سرکار کی طرف سے امید کی جاتی تھی،وہ نہیں ہوئی۔ بہر حال،آج عالمی کھیلوں میں ہندوستان کے نمائندوں نے ثابت کر دیا کہ مشکل دور کے باوجود وہ اپنی قابلیت سے ملک کا پرچم لہرا سکتے ہیں۔ اگر ونیش فوگاٹ کو احتجاج میں وقت نہ ضائع کر کے اپنی ٹریننگ پر دھیان دینے کا موقع ملتا تو سوچئے کہ آج وہ کس مقام پر نظر آتیں ۔ ہندوستان میں قابلیت اور ہنر کی کوئی قلت نہیں، صرف سہولیات کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کھلاڑیوں کو اپنی قابلیت کو بڑھانے کا ہر ممکن موقع حاصل ہونا ضروری ہے۔اگر ایسا ہو تو ہندوستان ہر کھیل میں بلندی پر نظر آئے گا۔ ونیش فوگاٹ کو مبارک اور مستقبل میں نئے معیار قائم کرنے کی دعائیں ! نوین


Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Aug 7, 10:57 am

بنگلہ دیش میں سیاسی زلزلہ

بنگلہ دیش میں سیاسی زلزلہ

بنگلہ دیش میں حالات بگڑ رہے تھے، یہ صاف ظاہر تھا لیکن وہ اس قدر بے قابو ہو جائیں گے ۔ شاید اس کی امید کسی کو نہیں تھی ۔اس میں دو رائے نہیںکہ بنگلہ دیش میں سیاسی زلزلہ آیا ہے اور اس کا اثر ہندوستان میں بھی محسوس کیا جائے گا۔ اول تو یہ ہے کہحالیہ واقعات کو محض اندرونی بے زاری ماننا نادانی ہوگی ۔چنگاری کے لئے اس کا استعمال کیا گیا،لیکن اصل ہوا تو غیر ملکی ذرائع سے دی گئی۔ روزگار اور نوکریوں کو لیکر ایک تجویز سے عوام اتنا بھڑک سکتے ہیں،یہ خود بھڑکنے والوں نے بھی تصور نہیں کیا ہوگا۔اب مستقبل میں تصویر کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس پر بہت کچھ نربھر کرے گا۔بنگلہ دیش کی اندرونی خفیہ جانکاری کے سلسلے کے لئے یہ بہت بڑی ناکامی ہے ۔وہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ کیسے مدعے کو جان بوجھ کر ابھارا جا رہا ہے۔چین کا سرگرم رول کے بارے میں سوچنا بہت مہارت ثابت نہیں کرتا ۔چین کے لئے بنگلہ دیش کا اتنے عرصے کے لئے ہندوستان سے نزدیکی قائم رکھنا تکلیف دایک تھا۔ اس لئے ہر ممکن کوشش کرکے بنگلہ دیش میں اتھل پتھل لازمی تھی اور وہی کیا گیا ۔اسلامی کٹر سوچ کو اُکسانا ایک داؤ تھا جو فائدے مند ثابت ہوا۔ظاہر ہے کہ پاکستان کو بھی اس میں بہت خوشی حاصل ہوئی ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو جتنا اطمینان چین اور پاکستان کو بنگلہ دیش کے حالات سے ہوا ہوگا، خود بنگلہ دیش کے اندر حسینہ مخالفوں کو نہیں ہو سکتا ۔ ہندوستان کے لئے سفارتی امتحان کا وقت ہے۔اس کوبہت سوجھ بوجھ سے قدم لینا ہوگا اور عالمی فضا کو بھی زیر غور رکھنا ہوگا۔فوری طور سے تجارت،بیوپار اور دوسرے پہلوؤں میں کام رُکے گا ہی ۔اس کا ملک کی سلامتی پالیسی پر بھی اثر ہوسکتا ہے۔ہندوستان کے شمال مشرق کے علاقے میں سخت نگرانی اور حفاظتی بندوبست رکھنا فطریہے۔آسٹریلیا، امریکہ اورجاپان کو بھی اپنے دائروں میں چوکس رہنا ہوگا۔جانکاری میں ساجھیداری فضا کو سنبھالنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔بنگلہ دیش کے لوگوں کو خود بھی احساس کرنا ہوگا کہ وہ کہیں کٹھ پتلی تو نہیں بنائے جارہے ؟ نوین
Editor Name: نوین Updated: Tuesday, Aug 6, 10:51 am

بلوچ پاکستانی ظلم کے نشانے پر

بلوچ پاکستانی ظلم کے نشانے پر

ایک عرصے سے پاکستانی حکومت بلوچ آبادی کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتی آئی ہے ۔وقت کے ساتھ سختی اور دباؤ بڑھتا آیا ہے ،لیکن بلوچ بہادری کی مثال اپنے آپ میں لا مثال ہے۔ اب تو وہاں کی عورتوں نے بھی دنیا کو دکھا دیا کہ وہ سر پر پلو رکھ کر بھی بڑے سے بڑے ظلم کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہیں ۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف پاکستانی حکمران کشمیر پر سختی کے جھوٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے گھر میں بلوچ آبادی کو دبانے میں کوئیکسرنہیں چھوڑتے۔یہ اسلام کی حفاظت کے نام پر خود غرضی کی بے شرمی ظاہر ہو رہی ہے۔ کشمیر میں مسلمانوں کے لئے پاکستان ڈھول پیتا ہے۔تو بلوچ کو کس بہانے سے دبایا جاتا ہے؟ وہاں بھی تو مسلمان ہی رہتے ہیں! اصلیت یہ ہے کہ سارا تماشہ چین کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ کشمیر کا راگ تو پاکستان کے وجود کی بنیاد ہے۔ وہاں کے ٹھیکیداروں کو اپنا قومی ترانہ اتنا حفظ نہیں ہوگا جتنا کشمیر پر ہندوستان کی مخالفت! لیکن جو اصلیت ہے وہ تو بدل نہیں سکتی۔بلوچ لوگوں تو تہذیب کے ساتھ چین کو فروخت کر دیا گیا تاکہ اس سے فائدے کے ذریعے فوجی اور سیاسی لیڈروں کی تجوریاں بھرتی رہیں۔جو بھی ترقی کا ڈرامہ کیا جاتا ہے وہ صرف چین کے مفاد کو مد نظر رکھتے کیا جاتا ہے ۔ہندوستان تو بہت عرصے سے یہ سازشیں بیان کرتا آیا ہے، اب دنیا کو بھی احساس ہونے لگا ہے ۔پاکستان کو عالمی اسٹیج پر ہونے ارادے بے نقاب کرنے کے لئے مجبور کرنا لازمی ہے۔ چین اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہا ہے ۔اقتصادی طور سے دونوں ملکوں کو تنہا کرنا ضروری ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Aug 5, 7:37 am

بلوچ پاکستانی ظلم کے نشانے پر

بلوچ پاکستانی ظلم کے نشانے پر

ایک عرصے سے پاکستانی حکومت بلوچ آبادی کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتی آئی ہے ۔وقت کے ساتھ سختی اور دباؤ بڑھتا آیا ہے ،لیکن بلوچ بہادری کی مثال اپنے آپ میں لا مثال ہے۔ اب تو وہاں کی عورتوں نے بھی دنیا کو دکھا دیا کہ وہ سر پر پلو رکھ کر بھی بڑے سے بڑے ظلم کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہیں ۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف پاکستانی حکمران کشمیر پر سختی کے جھوٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے گھر میں بلوچ آبادی کو دبانے میں کوئیکسرنہیں چھوڑتے۔یہ اسلام کی حفاظت کے نام پر خود غرضی کی بے شرمی ظاہر ہو رہی ہے۔ کشمیر میں مسلمانوں کے لئے پاکستان ڈھول پیتا ہے۔تو بلوچ کو کس بہانے سے دبایا جاتا ہے؟ وہاں بھی تو مسلمان ہی رہتے ہیں! اصلیت یہ ہے کہ سارا تماشہ چین کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ کشمیر کا راگ تو پاکستان کے وجود کی بنیاد ہے۔ وہاں کے ٹھیکیداروں کو اپنا قومی ترانہ اتنا حفظ نہیں ہوگا جتنا کشمیر پر ہندوستان کی مخالفت! لیکن جو اصلیت ہے وہ تو بدل نہیں سکتی۔بلوچ لوگوں تو تہذیب کے ساتھ چین کو فروخت کر دیا گیا تاکہ اس سے فائدے کے ذریعے فوجی اور سیاسی لیڈروں کی تجوریاں بھرتی رہیں۔جو بھی ترقی کا ڈرامہ کیا جاتا ہے وہ صرف چین کے مفاد کو مد نظر رکھتے کیا جاتا ہے ۔ہندوستان تو بہت عرصے سے یہ سازشیں بیان کرتا آیا ہے، اب دنیا کو بھی احساس ہونے لگا ہے ۔پاکستان کو عالمی اسٹیج پر ہونے ارادے بے نقاب کرنے کے لئے مجبور کرنا لازمی ہے۔ چین اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہا ہے ۔اقتصادی طور سے دونوں ملکوں کو تنہا کرنا ضروری ہے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Aug 5, 7:37 am

سالانہ گورنر میٹنگ

سالانہ گورنر میٹنگ


ہر سال مرکزی سرکار صوبوں کے گورنر صاحبان کی میٹنگ بلاتی ہے ۔مقصد تو دستور پر عمل اور سیاسی حالات کو اہمیت دینا ہوگا، لیکن جو منظر صوبوں میں ابھر رہا ہے، وہ بہت پر امید نہیں لگتا۔گورنر کا عہدہ ہمارے ملک کے رہنماؤں نے بہت ہی سوجھ بوجھ کے ساتھ قائم کیا تھا، تاکہ ملک کے وجود کو کمتر کرنے والے کسی بھی قدم کو روکا جاسکے۔انہوں نے تب تصور کیا ہوگا کہ جمہوریت میں الگ الگ سوچ کی سرکاریں ابھرنی فطری ہیں۔سوچ اور نظریہ بھلے کچھ بھی ہوں، حب الوطنی اور ملک کے وقار سے کوئی سودا نہیں کیا جاسکتا۔اسی بات کا خیال رکھنے کے لئے گورنر کا عہدہ اہم رول ادا کرتا ہے،لیکن اس میں بھی تبدیلی آنے لگی۔جو سرکار مرکز میں اقتدار میں ہو، وہ حب الوطنی اور ملک کے وقار کی ترجمان ہونے کا دعویٰ کرنے لگی۔نتیجہ یہ ہوا کہ گورنر اسی سرکار کے نظریئے کے مطابق اپنا عمل کرنے لگے۔یہ اکثر جمہوری اصولوں کے برعکس ثابت ہوسکتا ہے اور پارٹی سیاست کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔اس قصور سے سبھی پارٹیاں قصوروار ہیں اور کوئی بھی پاک دامن ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ اس ماحول سے گورنر کا رتبہ اور عہدہ بحث کے دائرے میں الجھتا آیا ہے،لیکن بہتری کے لئے کبھی دیر نہیں مانی جاسکتی۔اب بھی اگر مرکزی سرکار چاہے تو فضا بہتر ہو سکتی ہے۔اس کےلئے خود کو مضبوط اور اصول پابند بنانا ہوگا۔ایسا نہ ہو کہ ایک اور سال گزر جائے اور یہ میٹنگ روایت پوری کرکے تاریخ کے پنوں میں درج ہوکر وجود کھو دے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Aug 3, 10:59 am

کوٹہ، قانون اور سیاست

کوٹہ، قانون اور سیاست


سپریم کورٹ نے اپنے نئے فیصلے میں جو ذات کے پہلو سے کوٹہ کی تجویز پیش کی ہے وہ سیاست میں ایک نیا اسٹیج قائمکرتے ہوئے بہت رنگ اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں ذات کی سیاست ایک عرصے سے گرم رہی ہے۔ آزادی کے وقت سے ہی اس پر بات چیت کے دروازے کھلے تھے۔وقت کے ساتھ سیاست نے اس مدعے کو وزن دیا اور یہ ووٹ کےلئے ٹھوس ذخیرہ مانا گیا۔منڈل رپورٹ کے بعد تو ایک سیلاب آگیا جس کو قابو کرنا آسان نہیں تھا۔پھر ہر صوبے میں کوئی نہ کوئی سیاستداں ذات کے کوٹے کو لیکر اپنی لیڈری ابھارنے لگا۔بہت کامیاب ہوئے اور کچھ کامیابی دیکھ کر ناکام ہو گئے۔ مسئلہ جوں کا توں رہا۔پھر قانون نے پیچیدگیوں کو زیر غور کیا۔ ان کو محدود کرنے کی کوشش کیگئی ۔اب ایک دفعہ پھر نئے مواقع آسکیں گے۔سوال یہ نہیں کہ تجویزوں سے کتنے لوگوں کو فائدہ ہوگا،کتنوں کو نقصان ؟سوال یہ ہے کہ اس سے ملک کے مستقبل پر کتنا تعمیری اثر پڑ سکتا ہے ؟اگر ایسا ہوگا تو تجویزیں جائز ہیں اور لازمی بھی ۔یہ بھی غور کیا جاناچاہئ ے کہ فیصلے کو صرف سیاسی نظریئے سے لاگو کیا جارہا ہے یا ملک کی بہتری بھی مدعا ہے؟ہر پارٹی دعویٰتو ملک کی بہتری کا کرتی ہے،لیکن اس کا مقصد ذاتی اور پارٹی کی بہتری ہی ہوتا ہے۔ بحث کے لئے حمایت اور مخالفت۔ دونوں طرف کی آوازیں ہوں گی ۔سرکار اور عمل کرنے کی ذمہ داری رکھنے والوں کو ملک اور عوام کو اول رکھتے ہوئے پالیسی تیار کرنی چاہئے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Aug 2, 7:21 am

کوٹہ، قانون اور سیاست

کوٹہ، قانون اور سیاست


سپریم کورٹ نے اپنے نئے فیصلے میں جو ذات کے پہلو سے کوٹہ کی تجویز پیش کی ہے وہ سیاست میں ایک نیا اسٹیج قائمکرتے ہوئے بہت رنگ اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں ذات کی سیاست ایک عرصے سے گرم رہی ہے۔ آزادی کے وقت سے ہی اس پر بات چیت کے دروازے کھلے تھے۔وقت کے ساتھ سیاست نے اس مدعے کو وزن دیا اور یہ ووٹ کےلئے ٹھوس ذخیرہ مانا گیا۔منڈل رپورٹ کے بعد تو ایک سیلاب آگیا جس کو قابو کرنا آسان نہیں تھا۔پھر ہر صوبے میں کوئی نہ کوئی سیاستداں ذات کے کوٹے کو لیکر اپنی لیڈری ابھارنے لگا۔بہت کامیاب ہوئے اور کچھ کامیابی دیکھ کر ناکام ہو گئے۔ مسئلہ جوں کا توں رہا۔پھر قانون نے پیچیدگیوں کو زیر غور کیا۔ ان کو محدود کرنے کی کوشش کیگئی ۔اب ایک دفعہ پھر نئے مواقع آسکیں گے۔سوال یہ نہیں کہ تجویزوں سے کتنے لوگوں کو فائدہ ہوگا،کتنوں کو نقصان ؟سوال یہ ہے کہ اس سے ملک کے مستقبل پر کتنا تعمیری اثر پڑ سکتا ہے ؟اگر ایسا ہوگا تو تجویزیں جائز ہیں اور لازمی بھی ۔یہ بھی غور کیا جاناچاہئ ے کہ فیصلے کو صرف سیاسی نظریئے سے لاگو کیا جارہا ہے یا ملک کی بہتری بھی مدعا ہے؟ہر پارٹی دعویٰتو ملک کی بہتری کا کرتی ہے،لیکن اس کا مقصد ذاتی اور پارٹی کی بہتری ہی ہوتا ہے۔ بحث کے لئے حمایت اور مخالفت۔ دونوں طرف کی آوازیں ہوں گی ۔سرکار اور عمل کرنے کی ذمہ داری رکھنے والوں کو ملک اور عوام کو اول رکھتے ہوئے پالیسی تیار کرنی چاہئے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Aug 2, 7:21 am

قوانین پر عمل مسئلہ ہے نہ کی قوانین !

قوانین پر عمل مسئلہ ہے نہ کی قوانین !

بارش کی وجہ سے جو تباہی ہو رہی ہے اس کو لیکر سرکار اور سیاست کی طرف سے جو رد عمل ہے وہ کچھ حیران کن ظاہر ہو رہا ہے ۔ایک شور مچا دیا گیا ہے کہ نئے اور سخت قوانین کو لانے کی طرف قدم اٹھائے جائیں گے۔اس میں کوئی شک نہیںکہ اگر قوانین کو لانے سے بہتری ہو سکتی ہے تو وہ ضرور لائے جانے چاہئیں،لیکن نئے قانون کو تیار کرنے سے پہلے ایک نظر پرانے قوانین پر بھی ڈالنی ضروری ہے۔کیا وہ معاملے کو پوری طرح سمیٹ نہیں سکتے؟کیا وہ اپنے دائرے میں کمزور ہیں ؟اگر ایسا نہیں تو پھر ان کا عمل نہیں ہوا اورمسئلہ ابھر آیا۔ہندوستان میں قوانین کی کوئی کمی نہیں ۔اعلی قوانین موجود ہیں اور ہر پریشانی کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مشکل تب آتی ہے جب ان پرعمل نہیں ہوتا۔اگر یہ کہا جائے کہ عمل نہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تو بھی غلط نہیں ہوگا۔چاہے دہلی کے طلباء کی المناک موتیں ہوں یا کیرل میں ایک پورے گاؤں کا غرق ہونا۔ان سب کو صحیحقوانین کے تحت رکھا جاتا تو مسئلہ ایسا سنگین پہلو اختیار نہیں کرتا۔ قوانین کو نظر انداز کرنے میں سیاست اور سرکار دونوں کی رضا مندی ہوتی ہے۔ایک دوسرے کو الزام بھلے دیئے جائیں، لیکن پردے کے پیچھے یکساں سوچ رہتی ہے اور اس کے لئے دولت بنیاد ہے۔جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکالا جاتا تب تک کوئی قانون تباہی نہیں روک سکے گا۔ قدرت اپنا جلال ظاہر کرتی رہے گی ۔اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ بنیادی قوانین پرشروع سے عمل کرنے پر زور دیا جائے۔ کیا ایسا ماحول بنے گا ؟ نوین


Editor Name: نوین Updated: Thursday, Aug 1, 10:52 am

مشرق وسطی کا منظر

مشرق وسطی کا منظر
یہ تو ظاہر ہو رہا ہے کہ اسرائیل حماس جنگ جلد ختم نہیں ہو رہی۔کوششیں ہو رہی ہیں لیکن ان کوکتنی کامیابی ملنے کی امید ہے، یہ اپنے آپ میں بڑا سوال ہے۔اس کا جواب کسی کو معلوم بھی نہیں اور شاید ہی کوئی دینے کی کوشش بھی کرنا چاہتا ہے۔ روزانہ نئے محاذ کا خطرہ ابھر کر آتا ہے ۔حال ہی میں لبنان سے جو تناؤ پیدا ہوا، اس کا بڑھنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی ۔لیکن اس کے لئے صرف اسرائیل کو ذمہ دار قرار دینا نادانی ہوگی۔ایک نظر ایران کے اندر بھی ڈالنی ضروری ہے ۔حال میں ایران کو نئے صدر ملے ہیں۔یہ بھی کسی سے چھپا نہیں کہ نئے صدر صاحب بنیادی طور سے کھلے نظریئے کے ہیں اور وہ کٹرپنتھیسوچ کو رد کرتے ہیں،لیکن یہ ملک کے مذہبی رہنماؤں کے لئے صحیح سوچ نہیں۔اس سے ان کاقابو کمزور ہوتا ہے۔اگر اسرائیل لبنان کے خلاف محاذ کھولتا ہے تو ایران اس میں مخالف رول ادا کرے گا۔ سب جانتے ہیں کہ ایران ہی لبنان کی حزب اللہ کو قائم رکھے ہوئے ہے۔اس صورت میں ایرانی صدر کو اپنا نظریہ سخت کرنا پڑے گا۔کیا یہ ممکن ہے کہ لبنان کا محاذ محض ایران کے اندر کی سیاست کی وجہ سے کھل رہا ہو؟نتیجہ مشرق وسطیکے لئے تکلیف دایک ہوگا۔ اسرائیل کی اپنی مشکلیں ہیں، متحدہ عرب امارت کو پریشانی ہو گی، سعودی عرب کے لئے مشکل ہو سکتی ہے، مصر کو بھی سوچنا ہوگا۔ ترکی اپنا داؤ بھی چلے گا۔ ان سب کی وجہ سے تجارت اور اقتصادی کارروائیکو نقصان ہونا لازمی ہے ۔کیا دنیا ایسی فضا برداشت کر سکے گی ؟اس کا جواب لیڈر دیں گے، لیکن بوجھ تو عام آدمی کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ نوین
Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Jul 31, 7:50 am

کشمیر میں سیاحوں کی بھیڑ

کشمیر میں سیاحوں کی بھیڑ


یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کشمیر میں سیاحوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے اور ساری دنیا سے لوگ وہاں کی خوبصورتی کا نظارہ دیکھنے پہنچ رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس کے لئے بنیادی ماحول بہت حد تک ذمہ دار ہے،لیکن صرف سرکار کی پالیسی کو اس کی وجہ قرار دینا جائز نہیں ہوگا۔ سب سے اہم ہے کشمیر کے لوگوں کا برتاؤ اور نظریہ ۔اس سے ہر کوئی واقف ہے کہ کشمیر کے لوگ اعلیٰ میزبان ہیں اور وہ مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں رہنے دیتے ۔یہ چند برسوں سے نہیں ہوا،بلکہکشمیری فطرت کا بنیادی حصہ ہے۔ پہاڑوں پر رہنے والے ہر کسی کو بلندی کا احساس دلاتے ہیں ۔چاہے وہ روز مرہ کی زندگی کی ضروریات ہوں یا کسی خاص پہلو پر غور! ہر مدعے کو باریکی سے لیا جاتا ہے تاکہ باہر سے آنے والا اس کا زیادہ سے زیادہ لطف اٹھا سکے۔گزرے ہوئے وقت میں تشدد اور انتہا پسندی نے کشمیر کے لوگوں کو مجبور کیا ہوا تھا۔اپنی جان کی حفاظت اور سلامتی کا ڈر روزانہ کے برتاؤ کو تناؤ سے بھر دیا، لیکن وہ وقت اب نکل گیا۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔وہی لوگ آج کھلی باہوں اور دلوں سے مہمان کا خیر مقدم کرتے ہیں تاکہ وہ یہاں کی حسین وادیوں میں سکون محسوس کرے ۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں بھیڑ ہو رہی ہے اور لوگوں کی دلچسپی بڑھتی نظر آتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس سے بیوپار، تجارت اور اقتصادی دائرہ تیزی سے ترقی کی سیڑھی چڑھ رہا ہے۔کیا پڑوس کے کشمیری اس فضا کو پوری طرح احساس کر سکتے ہیں؟ وہاں بنیادی سہولیات کے لئے جدوجہد ضروری ہے اور یہاں آرام کا ہر پہلو اعلی سے اعلی درجے کا حاصل ہے ! یہ ہے عوام کی اپنی محنت جو سرکار کی پالیسی سے سارے ماحول کو معطر کرر ہیہے ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Monday, Jul 29, 7:37 am

کانوڑ یاترا اور تپسیا

کانوڑ یاترا اور تپسیا


ہر سال ساون کے مہینے میںکانوڑ یاترا کا عظیممیلہ آتا ہے۔لاکھوں لوگ شردھا کے ساتھ پوتر جل لیکر بھگوان شو کو چڑھاتے ہیں۔اس میں تپسیا ہے، بھکتی ہے، شردھا ہے، وشواس ہے، زندگی میں نیم لانے کی کوشش ہے۔ جسم کو مشکل میں ڈال کر بھگوان کی بھکتی کا انداز ہے اور ایک مہان روایت کا جاری رہنا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جو کانوڑ یاترا کا منظر ابھر کر ظاہر ہو رہا ہے اس میں ان جذبات کی بھاری قلت نظر آتی ہے۔کانوڑلیکر جانا خود کو بھگوان کی راہ میں ارپن کرنا ہے۔آجکانوڑ لیکر جانے والے اس کو اپنی من مرضی کرنے کا پرمٹ ماننے لگے ہیں۔ووٹ سیاست نے ہر پہلو کو ووٹ سے وابستہ کر دیا اور ہر مدعے کو اسی نظریئے سے پیش کرنے کا سلسلہ بن گیا ہے ۔کانوڑکا معنی ہو گیا ہے ہندو دھرم کو حوصلہ۔کانوڑیاترا ہندو سوچ کا حصہ ہے،لیکن اس سے سپردگی اور خود کو جھکانے کا پیغام ہے نہ کہکسی حق یا سہولت کا۔کہیں سڑکیں بند کی جارہی ہیں، کہیں ٹریفکروکا جاتا ہے، بیوپار کے لئے خاص پہلو قائم کئے جارہے ہیں اور ککانوڑلیکر جانے والے کل عوام کے داماد کیطرح دیکھے جاتے ہیں۔ یہ نظریہ ہی غلط اور بے معنی ہے۔اس منظر نے جو بھکتی اور شردھا کے جذبے تھے وہ تو غائب کر دیئے ہیں۔آج کانوڑ یاترا آتی ہے تو وابستہ علاقوں کو نظم و نسق کی چنتا ہونے لگتی ہے ۔ حفاظت اور قانون مسئلہنظر آنے لگتے ہیں۔ معصوم شہری پریشانی کی فضا محسوس کرتے ہیں۔ یہ کیسی بھکتی ہے؟یہ کیسی تپسیا ہے ؟اس ماحول کے پیچھے سیاست اور ووٹ کی گنتی ہے۔اس کو قابو میں لانا لازمی ہے ورنہ وہ وقت آئے گا جب کانوڑ یاترا شردھا نہیں سزا کا منظر کے طور پر دیکھی جانے لگے گی ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Jul 27, 11:02 am

عالمی کھیلوں سے جوش

عالمی کھیلوں سے جوش


فرانس کی راجدھانی پیرس میں عالمی کھیل شروع ہو گئے ہیں ۔یہایک ایسا موقع ہے جب ملکوں میں اپنی صلاحیت کو ابھارنے کا موقع دکھائی دیتا ہے اور اس کے ذریعے جوش پیدا ہونا فطری ہے۔ہندوستان کو چند برسوں سے عالمی کھیلوں میں نیا درجہ ملنے لگا ہےجس سے نیا جوش پیدا ہو رہا ہے۔کھیل یوں بھی ایسا دائرہ ہے جو ملک کو ایک کرنے میں بڑا رول ادا کرتا ہے۔ یہاں صوبہ، زبان یا علاقہ کوئی وزن نہیں رکھتا ۔ صرف ہندوستانی پرچم کا لہرانا اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستانی کھلاڑیوں میں صلاحیت ہمیشہ تھی، صرف پوری ٹریننگ کا سہارا نہیں تھا۔وقت اور ذرائع کم ہوتے تھے۔ظاہر ہے کہ نتیجہ بھی امید سے کم ہی آتا تھا۔ لیکن کچھ برسوں سے اس کا رخ بدلہ ہے۔ہندوستانی امیدواروں نے جو کمال دکھائے وہ اپنے آپ میں معیار قائم کرتے ہیں۔ پیرس کے کھیلوں سے بھی امیدیں ہیں،لیکن اس سے زیادہ اہم ہے ہندوستانی شرکت اور اس کی اہمیت۔عالمی اسٹیج پر یہ قبول کیا جانے لگا ہے کہ اہل ہند اس دائرے میں بھی دنیا کو ٹھوس یوگدان دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔سرکار کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ایک موقع مستقبل طے نہیں کرتا۔اس کے لئے مسلسل محنت کی ضرورت ہے جس کے لئے سرکار کو سہولیات مہیا کروانی ضروری ہیں۔ہندوستان اپنی تہذیب سے مثال دیتا ہے،لیکن انتظامیہکو اس میں وزن شامل کرنے کے لئے پوری مدد دینی ہوگی ۔کل ملک اپنے کھلاڑیوں کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہے اور نئے مقام حاصل کرنے کی امید بھی ! نوین
Editor Name: نوین Updated: Friday, Jul 26, 10:52 am

سیاست اور اقتصادیات

سیاست اور اقتصادیات
ہر برس جب بجٹ پیش ہوتا ہے تو سیاست پر اقتصادیاتکی اہمیت کا شور سنائیدیتا ہے ۔یہ جائز ہے کیونکہبجٹ کا بنیادی وجود ہی اقتصادی ہے اور وہ وجود میں آتا ہی تب ہے جب سیاسی اقتدار حاصل ہو۔پارٹی یا لیڈر اپنی جگہ ہیں۔ سبھی ان دونوں پہلوؤں سے تو جڑے ہی ہیں۔ اس لئے اب یہ بحث کرنا کہ بجٹ سیاست کو اقتصادیات کے رنگ میں ڈھال رہا ہے، کوئی معنیٰ نہیں رکھتی ۔بحث بھی تو تبھی ممکن ہے جب سیاست کا دائرہ ہو۔اس صورت میں سرکار کو سیاست کا اقتصادیات میں استعمال کرنے کا الزام دینا تو حقیقت کی بیانی پر حیرانی ظاہر کرنا ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ کس صوبے کو کیا دیا گیا،سوال یہ ہونا چاہئے کہ کیا اس سے ملک کو فائدہ ہوگا؟اگر ہوگا تو تجویز درست ہے اور عمل میں لائی جانی ضروری ہے۔ اپوزیشن کو زور دینا چاہئے کہ سرکار نے جو تجویزیں دیں وہ صحیح ہیں،لیکن ان کے علاوہ بھی ضروریات پر دھیان دینا لازمی ہے ۔اس کو نظر انداز کیوں کیا گیان؟تب جواب سے سیاست کے پہلو کو ذکر میں لیا جاسکتا ہے۔یک بجٹ میں پورے ملک کےمسئلےتو حل ہو نہیں سکتے۔قابل غور یہ ہونا چاہئےکہ کیا حل کی طرف ارادہ بھی ہے یا صرف سیاست ہی کھیلی جارہی ہے؟ یہاں مودی سرکار پاک ارادے سے ابھرتی ہے ۔کوشش ہے اور نیت بھی!وقت اور ذرائع کو توازن میں رکھنے کا کھیل ہے۔ نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Jul 25, 7:51 am

عمل پر زور لازمی

عمل پر زور لازمی


مرکزی سرکار نے سال کا بجٹ پیش کر دیا۔ اس کو لیکر مختلف رائے بھی ظاہر ہو رہی ہیں۔ حمایت اور مخالفت سیاسی نظریئے کے مطابق ہے۔ بازار اور ماہرین اقتصادی مدعوں کو اس کا حق ہے کہ وہ تجویزوں کو نتائج اور اثر کے دائرے میں رکھ کر اپنا جائزہ دیں ۔یہ سب چلتا رہے گا لیکن سرکار کو دھیان دینا ہے کہ اس نے جو بھی تجویزیں رکھی ہیں ان کو عملی جامہ مضبوطی سے پہنایا جائے۔جب تک یہ نہیں ہوگا تب تک بجٹ کے اثر کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں۔یہ ممکن ہے کہ چند پہلوؤں کو لیکر عمل ویسے نہ ہو جیسے امید کی جارہی تھی۔ یہی تجویز اور حقیقت میں فرق ہوتا ہے۔ لیکن اس کامتبادل اور دوسرا راستہ نکالنا ضروری ہوگا۔ یہی سرکار کے صلاحکار اور ماہرین کا فرض ہے۔ہندوستان ترقی کر رہا ہے،لیکن ترقی یافتہ ہونے کا دعویٰکرنے میں ابھی وقت ہے۔ مایوسی کی بات نہیں، لیکن ضرورت سے زیادہ جشن کا ماحول بھی غلط ہے ۔امیدیں بڑھنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ۔ان کا پورا ہونا معجزہ ہی ہوتا ہے۔ حالیہ بجٹ سے کسی معجزے کا اندازہ لگانا صحیحنہیں ہوگا،لیکن ا س کے ذریعے بہتری کا کارواں رفتار ضرور اختیار کرے گا ۔اس کے لئے عمل پر غور بہت ہی اہم ہے۔مودی سرکار کو اس پہلو کو وزن دیتے ہوئے قدم اٹھانے ہوں گے ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Wednesday, Jul 24, 11:03 am

امریکہ میں ہند نسل کی چمک

امریکہ میں ہند نسل کی چمک


امریکہ کی سیاسی فضا میں جو خوشبو اس وقت ہندوستانی نسل پیدا کر رہی ہے وہ شاید پہلے کبھی نہیں ہوئی ۔دونوں اعلی عہدوں کے لئے ہند نسل کے لوگ وابستہ ہیں اور ان کا اثر گہرا نظر آتا ہے۔ صدر بائیڈن کا صدارتی دوڑ میں سے باہر ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں،لیکن اتنی دیر لگانا چنتا کی بات ضرور تھی ۔اس کے ساتھ ان کی پارٹی کو یہ معلوم تھا کہ ان کی جگہ نائب صدر کملا ہیرس ہی لیں گی ۔اس سے پارٹی کا اپنے نمائندے میں یقین ظاہر ہوتا ہے ۔اس میں دو رائے نہیں کہ دوڑ کے اس مقام پر تبدیلی آسان نہیں، پھر بھی کملا ہیرس کی شخصیت کا وزن نظر آتا ہے ۔دوسری طرف ٹرمپ دائرے کو بھی معلوم ہوگا کہ اگر بائیڈن رخصت ہوتے ہیں تو ہیرسکا ابھرنا فطریہے۔اس لئے ہند نسل کے ووٹ پر رسوخ رکھنے کے لئے ٹرمپ نے اپنے نائب صدر کی امیدواری ایسے شخص کو دی جس کا ہندوستان سے گہرا تعلق ظاہر ہے۔ اس فضا سے یہ تو ہر کوئی مانے گا کہ ہندوستانی نسل کے لوگ بدیشوں میں جاکر جو کامیابی اور رسوخ حاصل کر رہے ہیں وہ ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہندوستان کو کوئی خاص فائدہ ہونے کی امید ہے!سیاست اپنی جگہ ہے اور زندگی کی جڑیں اپنی جگہ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندوستانیوں میں قابلیت ہے کہ وہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی رہنمائی کر سکیں! ظاہر ہے کہ طاقت ہے، ہنر ہے، قابلیت ہے، صلاحیت ہے اور توازن ہے جو کہ اہل ہند کی اصل پہچان بننی چاہئے اور بن رہی ہے۔پھر اپنے ملک میں کہاں کوتاہی رہ جاتی ہے؟قابل غور ہے! نوین

Editor Name: نوین Updated: Monday, Jul 22, 10:52 am

کمپیوٹر کی دنیا میں تہلکہ

کمپیوٹر کی دنیا میں تہلکہ

جیسے جیسے انسان ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا ہے ویسے ویسے وہ کامیابی کے نشے میں غرق ہوتا چلا جاتا ہے ۔اس کو لگنے لگتا ہے کہ اس کی ترقی کسی بھی ناکامی کو شکست دے سکتی ہے ۔پھر ایک ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس سے سارے ہوائی محل ٹوٹ کر ڈھیر ہو جاتے ہیں ۔چند روز پہلے کمپیوٹر کی دنیا میں جو ہوا، وہ ایسا ہی ایک موقع دیکھا جانا چاہئے ۔ایک خاص پروگرام میں کچھ تبدیلی کرتے ہوئے ایسا منظر بنا کہ ساری دنیا میں تہلکہ مچ گیا ۔بے شمار دائروں میں گڑ بڑی ہوئی اور لاکھوں لوگوں کی روز مرہ کیزندگی پر اثر ہوا ۔سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیسے ہوا ؟وہ تو ماہرین جانچ کے ذریعے معلوم کریں گے ۔سوال یہ ہے کہ اگر ایسا تہلکہ کسی تکنیکی خرابی سے پیدا ہو سکتا ہے تو ایسی ہی حالت جان بوجھ کر بھی تو پیدا کی جاسکتی ہے۔یعنی کوئی دنیا میں تہس نحس کرنا چاہے تو کہیں ایک کمرے میں بیٹھ کر چند بٹن کے دبانے سے ممکن ہے۔کیا اسی کو ہم اپنی کامیابیمان رہے ہیں؟ایسا نہیں کی تکنیک غلط ہے۔وہ انسانی دماغ کی بڑی ایجادہے جو کامیابی کہی جاسکتی ہے،لیکن اس کو ہی مکمل بنیاد بنا کر زندگی بسر کرنا بہت دانشمندی نہیں کہلائے گی ۔نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔جو انسان نے ایجاد کیا وہ دوسرا انسان بگاڑ بھی سکتا ہے!یہ کیسے نظر انداز کیا جاتا ہے ؟اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئےآگے کی راہ پر قدم اٹھانا ہوگا۔کیا عالمی ماہرین اس پر غور کر رہے ہیں؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Saturday, Jul 20, 7:22 am

کشمیر میں تشدد

کشمیر میں تشدد


کچھ دنوں سے ظاہر ہورہا ہےکہ کشمیر میں تشدد بڑھ رہا ہے ۔جہاں پہلے امن کی ہوا بہنے لگی تھی، وہاں بھی اب اس کی چنگاریاں نظر آتی ہیں۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ جب سے پردھان منتری مودی کشمیر کا دورہ کر کے لوٹے ہیں ۔ تشدد کو بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔وہاں مودی جی نے یوگ دوس کی رہنمائی کر کے پوری دنیا کو پیغام دیا تھا کہ کشمیر سنہرے مستقبل کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے ۔شاید یہ بات پڑوس کے سازش کاروں کو تکلیف دے رہی ہے۔وہ اندازہ لگا رہے تھےکہ کشمیر کو تباہ کر دیں گے۔ سماجک طور سے اختلافات اور نفاق کی دیواریں بلند کر دیں گے،لیکن ایسا ہوا نہیں ۔وہاں کے لوگوں نے اپنے خلاف اس سازش کو پہچانا اور اس کو اپنی بہادری سے شکست دی ۔بات یہاں تک رہتی تو سرحد پار اپنی ہار قبول کرنے پر مجبور ہو رہے تھے۔ پھر مودی جی نے یوگ کا پرچم پھیلا دیا ۔یہ تو اسلام کے نام پر بیوپار چلانے والوں کے لئے چہرے پر کالک تھی۔اس لئے تشدد کو بڑھاوا دینے کی سازشیں تیار ہوئیں ۔صرف کشمیر میں ہی نہیں،بلکہ جموں علاقے میں بھی بربادی کی تجویزیں عمل دینے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ خود اپنے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور عوام تباہی کی چوکھٹ پر کھڑے ہیں، لیکن اسلام کی دہائی دینے والے اپنے مسلمانوں کو تباہ کرنے پر ایک لمحے کے لئے سوچتے نہیں، جب کہ کشمیر اور جموں میں تشدد کو حوصلہ دینے کے لئے ذرائع خرچ کرنے میں گہرے پلان تیار کرتے ہیں!یہ کیسے اسلام کے محافظ ہیں؟کیا دنیا کے مسلمان ملک یہ سوال اٹھا رہے ہیں ؟اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟ نوین

Editor Name: نوین Updated: Friday, Jul 19, 10:40 am

امبانی شادی میں دلچسپی اور مخالفت

امبانی شادی میں دلچسپی اور مخالفت


حیرانی کی بات ہے کہحال میں ہوئی امبانی خاندان میں شادی کو لیکر ضرورت سے زیادہ دلچسپی ابھر کر آئی۔یہ بھی کوئی ڈھکی چھپیبات نہیں کہ اکثریت لوگ جو دلچسپی ظاہر کر رہے تھے، وہ جشن کی نکتہ چینی کرتے تھے یا صاف مخالفت ۔یہ بھی کوئی راز نہیں کہ ان لوگوں میں سے شاید سبھی نہ امبانی خاندان کو جانتے ہیں اور نہ ہی امبانی خاندان کو ان کا ہونے کا علم ہے۔پھر بھی دنیا بھر کی رائے اور صلاح دی جارہی تھی۔کوئی اپنے گھر اپنی خوشی منا رہا ہے تو کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔وہ اپنے ذرائع سے اپنے لوگوں کے ساتھ سلسلہ بناتا ہے۔اس سے کسی کو فرق پڑنا ہی نہیں چاہئے۔شاید یہ سماج کے ٹھیکیدار اس سے ناراض ہوں گے کہ ان کو کسی نے کوئی اہمیت نہیں دی ! یہ سچ ہے کہ شادی پر بے پناہ دولت خرچ ہوئی۔جس درجے پر وہ خاندان ہے، اس میں یہ کوئی بڑی بات نہیں۔جو بھلا کیا گیا وہ نظر انداز کیا گیا۔کیوں؟ہزاروں لوگوں کو کھانا پروسا جاتا رہا۔بہت سے غریب لوگوں کی شادیاں کروائی گئیں۔ نہ جانے کتنے لوگوں کو خیرات تقسیم کیگئی۔ان سب کے علاوہ وہ حساب لگانا آسان نہیں کہ اس شادی سے کتنا بیوپار ابھرا۔ کتنے لوگوں کو روزگار ملا، کتنے بیوپار کھڑے ہوئے اور کتنی آمدنی بے شمار لوگوں کے گھروں میں بہتری کی امید لائی !یہ سب مخالفت کرتے کسی نے سوچا نہیں۔جو لوگ بدیشوں سے آئے وہ ہندوستان کی طاقت اور تہذیب کا جو منظر یادوں میں لیکر گئے، وہ برسوں تک قائم رہے گا۔اس سے اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے، وہ اپنی جگہ ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو امبانی شادی صنعتی دائرے سے سماجی بہتری کی ذمہ داری کو نبھا رہی تھی، جس کو سی ایس آر کہا جاتا ہے۔سرکار اور عوام کو امبانی خاندان کا شکریہ اداکرنا چاہئے کہ انہوں نے ہندوستان کا وقار بلند کرنے میں یوگدان دیا ہے۔ہزاروں وہ پہلو پوشیدہ رہ جاتے ہیں جو خاندان کی حلیمی اور زمین سے جڑے ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔میں بھی امبانی خاندان کو جانتا نہیں اور نہ ہی وہ مجھے جانتے ہیں ۔ان کو علم بھی نہیں ہوگا کہ یہ الفاظ لکھے گئے،لیکن جو تعمیری پہلو ہے، اسکا ابھرنا لازمی ہے۔ایک طرفہ نظریہ جائز نہیں اور عوام کے ساتھ وفاداری نہیں ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Jul 18, 7:21 am

امبانی شادی میں دلچسپی اور مخالفت

امبانی شادی میں دلچسپی اور مخالفت


حیرانی کی بات ہے کہحال میں ہوئی امبانی خاندان میں شادی کو لیکر ضرورت سے زیادہ دلچسپی ابھر کر آئی۔یہ بھی کوئی ڈھکی چھپیبات نہیں کہ اکثریت لوگ جو دلچسپی ظاہر کر رہے تھے، وہ جشن کی نکتہ چینی کرتے تھے یا صاف مخالفت ۔یہ بھی کوئی راز نہیں کہ ان لوگوں میں سے شاید سبھی نہ امبانی خاندان کو جانتے ہیں اور نہ ہی امبانی خاندان کو ان کا ہونے کا علم ہے۔پھر بھی دنیا بھر کی رائے اور صلاح دی جارہی تھی۔کوئی اپنے گھر اپنی خوشی منا رہا ہے تو کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔وہ اپنے ذرائع سے اپنے لوگوں کے ساتھ سلسلہ بناتا ہے۔اس سے کسی کو فرق پڑنا ہی نہیں چاہئے۔شاید یہ سماج کے ٹھیکیدار اس سے ناراض ہوں گے کہ ان کو کسی نے کوئی اہمیت نہیں دی ! یہ سچ ہے کہ شادی پر بے پناہ دولت خرچ ہوئی۔جس درجے پر وہ خاندان ہے، اس میں یہ کوئی بڑی بات نہیں۔جو بھلا کیا گیا وہ نظر انداز کیا گیا۔کیوں؟ہزاروں لوگوں کو کھانا پروسا جاتا رہا۔بہت سے غریب لوگوں کی شادیاں کروائی گئیں۔ نہ جانے کتنے لوگوں کو خیرات تقسیم کیگئی۔ان سب کے علاوہ وہ حساب لگانا آسان نہیں کہ اس شادی سے کتنا بیوپار ابھرا۔ کتنے لوگوں کو روزگار ملا، کتنے بیوپار کھڑے ہوئے اور کتنی آمدنی بے شمار لوگوں کے گھروں میں بہتری کی امید لائی !یہ سب مخالفت کرتے کسی نے سوچا نہیں۔جو لوگ بدیشوں سے آئے وہ ہندوستان کی طاقت اور تہذیب کا جو منظر یادوں میں لیکر گئے، وہ برسوں تک قائم رہے گا۔اس سے اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے، وہ اپنی جگہ ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو امبانی شادی صنعتی دائرے سے سماجی بہتری کی ذمہ داری کو نبھا رہی تھی، جس کو سی ایس آر کہا جاتا ہے۔سرکار اور عوام کو امبانی خاندان کا شکریہ اداکرنا چاہئے کہ انہوں نے ہندوستان کا وقار بلند کرنے میں یوگدان دیا ہے۔ہزاروں وہ پہلو پوشیدہ رہ جاتے ہیں جو خاندان کی حلیمی اور زمین سے جڑے ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔میں بھی امبانی خاندان کو جانتا نہیں اور نہ ہی وہ مجھے جانتے ہیں ۔ان کو علم بھی نہیں ہوگا کہ یہ الفاظ لکھے گئے،لیکن جو تعمیری پہلو ہے، اسکا ابھرنا لازمی ہے۔ایک طرفہ نظریہ جائز نہیں اور عوام کے ساتھ وفاداری نہیں ! نوین

Editor Name: نوین Updated: Thursday, Jul 18, 7:21 am

ناسا بلی کی ویڈیوز: مستقبل بلیوں کا ہے۔

اگر اور جب انسان خلائی مسافر بننے، دوسرے سیاروں اور ستاروں کے نظاموں کو آباد کرنے کے دیرینہ خواب کو پورا کرتے ہیں، تو انہیں خوراک، پانی اور آکسیجن کے علاوہ بلیوں کی ویڈیوز کی روزانہ تجویز کردہ خوراک کی ضرورت ہوگی۔ کیا یہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ناسا نے اپنے ڈیپ اسپیس آپٹیکل کمیونیکیشن کے تجربے کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے بلی کی ویڈیو کا انتخاب کیا؟ یہ پروجیکٹ زمین کے مدار سے باہر مواصلات کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے اور Taters کی ہائی ڈیفینیشن ویڈیو، اورنج ٹیبی، جو 18.6 ملین میل دور سے چلائی گئی ہے، اسے اپنے مقصد کے ایک قدم قریب لے جاتی ہے۔ مستقبل میں زیادہ دور نہیں، کوئی تصور کرتا ہے، زمین کے لوگ مریخ کی مٹی میں آلو لگانے سے وقفہ لیتے ہوئے یا HAL 9000 سے فرار کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے بلیوں کی ویڈیوز دیکھ سکیں گے۔

روحانی طور پر مائل افراد یہ تجویز کر سکتے ہیں کہ بلیوں اور مواصلاتی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے درمیان ایک کرمی تعلق ہے۔ ٹیلی ویژن کی اصل کہانی پر غور کریں: 1928 میں جب ابتدائی آلات کا تجربہ کیا جا رہا تھا، نئی نشریاتی ٹیکنالوجی کا پہلا موضوع خاموش فلم کے ایک مشہور کارٹون کردار فیلکس دی کیٹ کا مجسمہ تھا۔ اس سے پہلے The Boxing Cats، ایک ویڈیو تھی جس میں "کیٹ سرکس" کے دو مکاروں کو دکھایا گیا تھا، جو 1894 میں کینیٹوگراف کو جانچنے کے لیے بنایا گیا تھا، یہ ایک ابتدائی مووی کیمرہ تھا جسے تھامس ایڈیسن نے ایجاد کیا تھا۔

عصری دور کے قریب، یہ دلیل دی گئی ہے کہ 2015 میں فلیش سے HTML5 کے قریب عالمگیر سوئچ، جس نے ملٹی میڈیا کے آن لائن تجربے کو نمایاں طور پر بہتر کیا، جزوی طور پر بلیوں کی ویڈیوز کی بڑی اور بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے حوصلہ افزائی کی گئی۔ اور، 2012 میں یہ انکشاف ہوا کہ مصنوعی ذہانت کی ابتدائی پیش رفت میں، گوگل کی خفیہ X لیبارٹری کے کمپیوٹرز نے 10 ملین ڈیجیٹل تصاویر کو چھان لیا اور خود کو بلیوں کو پہچاننے کا طریقہ سکھایا۔ سبق، آخر میں، یہ ہے: انسانیت کا مستقبل جو بھی رخ اختیار کرے، راستہ دکھانے والی نشانی بلی کی ویڈیو ہوگی۔
Editor Name: Updated: Friday, Dec 22, 6:22 am

Express View: Framework for spectrum

On Wednesday, the Lok Sabha passed the Telecommunication Bill, 2023. Once passed by the Upper House, it will replace the Indian Telegraph Act 1885, The Wireless Telegraphy Act 1933, and the Telegraph Wires (Unlawful Possession) Act 1950, some of which date to the colonial era. The new Bill proposes significant and far-reaching changes in the regulatory architecture governing the telecom sector in India. It allows for the administrative allocation of spectrum for satellite broadband services. It has also sought to simplify the licencing regime, and streamline the processes. It has kept communication and OTT services outside the ambit of telecom regulations. The Bill also allows the Central government to take over control and management of telecommunication services in the interest of national security or in the event of a war, and for governments, both central and state, to take temporary possession of telecom services or networks in case of a public emergency.
Spectrum assignment is a contentious issue that has generated much debate in the past. Since the Supreme Court’s ruling in 2012, spectrum has been auctioned. In the case of spectrum for satellite broadband, the Bill paves the way for administrative allocation on the grounds that it would create the space for more players, particularly the start-up ecosystem in the space sector, and have a moderating influence on prices. The Bill has also brought clarity on the issue by clearly listing the areas where spectrum will be assigned by auction and where it will be allocated on an administrative basis; any addition to the list beyond the 19 areas specified in the Bill’s schedule where spectrum can be administratively allocated needs to be approved by both Houses of Parliament. The Bill has also sought to provide clarity on the telecom services. While the 2022 draft had included services like WhatsApp and Telegram as telecommunication services, this Bill has stepped back. It also seeks to do away with the ambiguity regarding the regulation of OTT services — content OTTs are under I&B Ministry and apps like Whatsapp and Telegram with the MeitY. The distinction between the network layer and the application layer (in which OTTs lie) has been maintained. The Bill has also sought to merge many of the licences, registrations and permissions into a single authorisation process. This will ease the regulatory burden.
Another area of departure from the earlier draft is on the issue of the regulator’s powers. There were concerns that the draft bill was whittling down the TRAI’s powers in areas such as tariffs and dispute resolution, and that amending Section 11 of the Trai Act, would be to the detriment of the sector. However, the Bill has kept the powers of Trai unchanged. It has also done away with certain tricky provisions related to the insolvency of telcos, and has also brought in a tiered structure for settling disputes. By doing so, the bill has provided clarity on several vexed issues and has brought in some much-needed changes in the regulatory framework.

Editor Name: Updated: Friday, Dec 22, 6:14 am

Apple pulls online sales of Apple Watches as US ban nears

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Aliquam non velit suscipit enim ullamcorper eleifend. Quisque ut nisi sit amet lacus porttitor sagittis. Pellentesque habitant morbi tristique senectus et netus et malesuada fames ac turpis egestas. Integer quis augue vehicula, placerat lacus et, rhoncus diam. Ut fermentum finibus metus, sed viverra neque suscipit id. Ut quis feugiat lorem. In hac habitasse platea dictumst. Ut congue varius odio, ac sollicitudin lectus imperdiet a. Vestibulum et eleifend neque, nec porttitor tellus. Quisque in felis purus. Etiam ultrices rutrum mi, sed aliquam eros pretium ut. Maecenas ut ornare nulla.
Nulla bibendum vulputate volutpat. Donec vitae enim elit. Suspendisse aliquam arcu ac nisi tincidunt, sit amet semper metus ultrices. Curabitur eget enim at nunc suscipit iaculis. Praesent egestas nisl ac gravida imperdiet. Sed id mollis libero. Nulla varius odio at est tempus, quis ornare quam venenatis. Nunc ac ligula ac urna varius pellentesque. In eu rutrum massa, id porttitor metus. Donec auctor erat id urna bibendum, at varius lorem faucibus. Aenean imperdiet elit tellus, non egestas tortor interdum a. Praesent lacinia mattis mauris, tristique finibus ex condimentum quis.
Donec ultricies maximus nulla, vel volutpat nisl porttitor non. Praesent faucibus malesuada condimentum. Aliquam posuere pharetra magna id dictum. Praesent non viverra augue, quis vehicula ante. Maecenas viverra neque id orci ornare, nec cursus augue fermentum. Aliquam eros sapien, vulputate eu mi in, posuere malesuada augue. Mauris malesuada mi id odio tempor semper. Etiam cursus nisl vitae sapien tempor rutrum sit amet sed quam. Pellentesque placerat sem ac risus dignissim, vel blandit dolor feugiat. Vivamus feugiat rhoncus convallis. Donec venenatis eros quis porta pretium. Aenean blandit vehicula tempus. Aliquam non viverra lorem.
Aliquam id lacus condimentum enim molestie pulvinar. Fusce rutrum eros vitae arcu bibendum, ut scelerisque mauris egestas. Morbi pretium dolor eget ligula tempor facilisis. Nulla tincidunt nunc quis vulputate commodo. In dapibus rutrum lacus, eget laoreet tortor. Pellentesque sit amet faucibus mi. In vestibulum quam felis, eu aliquet nunc fringilla quis. Suspendisse pellentesque quam mi, at cursus justo tincidunt sit amet. Integer vestibulum tortor vel ullamcorper dignissim. Nam ut suscipit , a lobortis sem. Duis in maximus felis, sit amet ullamcorper augue.
Editor Name: Updated: Thursday, Dec 28, 8:34 am

new

Wednesday, the Lok Sabha passed the Telecommunication Bill, 2023. Once passed by the Upper House, it will replace the Indian Telegraph Act 1885, The Wireless Telegraphy Act 1933, and the Telegraph Wires (Unlawful Possession) Act 1950, some of which date to the colonial era. The new Bill proposes significant and far-reaching changes in the regulatory architecture governing the telecom sector in India. It allows for the administrative allocation of spectrum for satellite broadband services. It has also sought to simplify the licencing regime, and streamline the processes. It has kept communication and OTT services outside the ambit of telecom regulations. The Bill also allows the Central government to take over control and management of telecommunication services in the interest of national security or in the event of a war, and for governments, both central and state, to take temporary possession of telecom services or networks in case of a public emergency.

Spectrum assignment is a contentious issue that has generated much debate in the past. Since the Supreme Court’s ruling in 2012, spectrum has been auctioned. In the case of spectrum for satellite broadband, the Bill paves the way for administrative allocation on the grounds that it would create the space for more players, particularly the start-up ecosystem in the space sector, and have a moderating influence on prices. The Bill has also brought clarity on the issue by clearly listing the areas where spectrum will be assigned by auction and where it will be allocated on an administrative basis; any addition to the list beyond the 19 areas specified in the Bill’s schedule where spectrum can be administratively allocated needs to be approved by both Houses of Parliament. The Bill has also sought to provide clarity on the telecom services. While the 2022 draft had included services like WhatsApp and Telegram as telecommunication services, this Bill has stepped back. It also seeks to do away with the ambiguity regarding the regulation of OTT services — content OTTs are under I&B Ministry and apps like Whatsapp and Telegram with the MeitY. The distinction between the network layer and the application layer (in which OTTs lie) has been maintained. The Bill has also sought to merge many of the licences, registrations and permissions into a single authorisation process. This will ease the regulatory burden.

Another area of departure from the earlier draft is on the issue of the regulator’s powers. There were concerns that the draft bill was whittling down the TRAI’s powers in areas such as tariffs and dispute resolution, and that amending Section 11 of the Trai Act, would be to the detriment of the sector. However, the Bill has kept the powers of Trai unchanged. It has also done away with certain tricky provisions related to the insolvency of telcos, and has also brought in a tiered structure for settling
Editor Name: Updated: Friday, Dec 22, 5:37 am

Bharatiya Janata Party (BJP)

Member of the Legislative Assembly Bhajan Lal Sharma as the Chief Minister of Rajasthan, the Bharatiya Janata Party (BJP) has sought to reassure the Brahmin community, its strongest support base across regions. Having cut his teeth in the Rashtriya Swayamsevak Sangh, at the grassroots, Mr. Sharma has risen overnight to the top seat, which is also a signal to the cadre of the party that anything is achievable in the BJP. The new power structure also means the sidelining of the old guard, including Vasundhara Raje, the first woman Chief Minister of the State who held the post for two terms. What is in store for her remains unclear. Mr. Sharma is the second Brahmin Chief Minister of the BJP in Rajasthan; the party has also appointed Deputy Chief Ministers from the community in Madhya Pradesh and Chhattisgarh. The BJP considered it wise to comfort its core upper caste base to balance its continuing pivot to Other Backward Classes (OBC) under Prime Minister Narendra Modi. Diya Kumari, a Rajput and Prem Chand Bairwa, who hails from a Dalit community, are the Deputy Chief Ministers, consolidating its rainbow caste coalition in Rajasthan. There are 29 berths in the Council of Ministers to be filled. Gujjars and Jats among the OBC community and tribals of Rajasthan would expect representation. Mr. Sharma has to keep the party flock together; that he was handpicked by Mr. Modi gives him the strength to do so. The BJP campaign was centred around what was labelled ‘Modi’s Guarantees’.The BJP has promised a lot to voters and Mr. Sharma now has the responsibility to fulfil them. A special investigation team to probe paper leaks during the previous Congress regime, establishment of women police stations, appointment of 2.5 lakh government employees, and a subsidy of ₹450 per LPG cylinder for Ujjwala scheme beneficiaries were among the campaign promises of the BJP. The party has also promised a ₹2 lakh savings bond for each girl child. Mr. Sharma has to deal with a complicated fiscal environment, avoid a conflict with the party old guard, and balance the social equations in the State. The new Chief Minster has inspired enthusiasm among party workers and people alike, and the BJP central leadership will likely expect him to be in control well ahead of the Lok Sabha election in April-May. He will also have to safeguard the trust endowed in him by the central leadership. Mr. Sharma, who has no previous experience in government, may have to rely on an efficient set of political and bureaucratic advisers as he grapples with political and governance challenges.
Editor Name: Updated: Thursday, Dec 21, 3:39 pm

Assembly Bhajan Lal Sharma as the Chief Minister of Rajasthan

By elevating debutant Member of the Legislative Assembly Bhajan Lal Sharma as the Chief Minister of Rajasthan, the Bharatiya Janata Party (BJP) has sought to reassure the Brahmin community, its strongest support base across regions. Having cut his teeth in the Rashtriya Swayamsevak Sangh, at the grassroots, Mr. Sharma has risen overnight to the top seat, which is also a signal to the cadre of the party that anything is achievable in the BJP. The new power structure also means the sidelining of the old guard, including Vasundhara Raje, the first woman Chief Minister of the State who held the post for two terms. What is in store for her remains unclear. Mr. Sharma is the second Brahmin Chief Minister of the BJP in Rajasthan; the party has also appointed Deputy Chief Ministers from the community in Madhya Pradesh and Chhattisgarh. The BJP considered it wise to comfort its core upper caste base to balance its continuing pivot to Other Backward Classes (OBC) under Prime Minister Narendra Modi. Diya Kumari, a Rajput and Prem Chand Bairwa, who hails from a Dalit community, are the Deputy Chief Ministers, consolidating its rainbow caste coalition in Rajasthan. There are 29 berths in the Council of Ministers to be filled. Gujjars and Jats among the OBC community and tribals of Rajasthan would expect representation. Mr. Sharma has to keep the party flock together; that he was handpicked by Mr. Modi gives him the strength to do so. The BJP campaign was centred around what was labelled ‘Modi’s Guarantees’.The BJP has promised a lot to voters and Mr. Sharma now has the responsibility to fulfil them. A special investigation team to probe paper leaks during the previous Congress regime, establishment of women police stations, appointment of 2.5 lakh government employees, and a subsidy of ₹450 per LPG cylinder for Ujjwala scheme beneficiaries were among the campaign promises of the BJP. The party has also promised a ₹2 lakh savings bond for each girl child. Mr. Sharma has to deal with a complicated fiscal environment, avoid a conflict with the party old guard, and balance the social equations in the State. The new Chief Minster has inspired enthusiasm among party workers and people alike, and the BJP central leadership will likely expect him to be in control well ahead of the Lok Sabha election in April-May. He will also have to safeguard the trust endowed in him by the central leadership. Mr. Sharma, who has no previous experience in government, may have to rely on an efficient set of political and bureaucratic advisers as he grapples with political and governance challenges.
Editor Name: Updated: Thursday, Dec 21, 3:38 pm

Why my child wants to be a dolphin caretaker

Within the realm of her imagination, she confidently explained that dolphins are the smartest sea creatures, how she wants to be friends with them and most importantly that her goal was to ‘save the species’.'As a father, I try not to pass on my fears to my daughter and teach her about the world in the same way my father taught me about his.
Editor Name: Updated: Wednesday, Dec 20, 2:35 pm

We have added new features to Dream Palace – Unique features of our programs

orem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged. It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged. It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged. It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged. It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop
Editor Name: Updated: Thursday, Dec 28, 8:38 am

تازہ ترین خبر