رشتوں کے تیوہار، تیوہار میں رشتے ؟
تیوہار ختم ہو گئے اور زندگی اپنی رفتار سے گامزن ہے۔سیاست بھی اپنی چال بے ڈھنگی سے چلتی جاتی ہے ۔ان سب میں انسان اپنے رشتوں کو لیکر پریشان ہوتا آیا ہے۔جو بھی کہا جائے انسانی زندگی رشتوں پر ہی قائم ہے ۔یہی بنیاد ہیں اور یہی مقصد بھی۔ان کی ترجمانی الگ الگ ہو سکتی ہے،لیکن اصل وجود جوں کا توں رہتا ہے ۔آج انسان تیزی سے آگے بڑھنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن رشتوں کی بنیاد بہت پیچھے رہتی جا رہی ہے ۔اس پر چند الفاظ پیش کر رہا ہوں۔ہو سکتا ہے کہ کہیںآپ کو کوئی جھلک دکھائی دے !
رشتوں سے تیوہار ہوتے ہیں،
تیوہاروں میں رشتے کھو رہے ہیں!
ہر تیوہار ایک رشتے پر قائم ہے
ہر خوشی جذب دل سے دائم ہے
تیوہار کی بنیاد عقیدت پہ ہے
اس میں جشن خدا کی رحمت سے ہے
رشتہ تو انسان کا خالق سے بھی ہے
زندگی میں رونق اسی کے کرم سے ہے
کیوں آج تیوہار میں رشتے غایب ہیں
جذبہ کھو گیا بس دکھاوا صاحب ہے
چمکتے رواجوں نے منظر سجا دیا ہے
ہر موقع کو ایک سودا بنا دیا ہے
تیوہاروں کی تعداد بڑھتی آئی ہے
جذبات کی شرکت سکڑتیگئی ہے
ہر مذہب اپنے تیوہار کا دعویدار ہے
رسمیں پابند ہیں روحانیت یتیم لاچار ہے
رشتوں میں خلوص کا بھاری قحط ہے
تبھی تیوہاروں میں بھی پوشیدہ ہے
تیوہار ابھارتا انسان کا بھگوان سے ناطہ ہے
اسی کو آدمی تجارت میں الجھاتا ہے
رشتہ وہ جو دل سے دل جوڑتا ہے
تیوہار سے وہی مضبوط بنتا ہے
رسموں کی چمک اب تیوہار کا وجود ہے
خلوص دفن اور جذبہ تنگ و محدود ہے
جب تیوہار کا یہ عالم ہو گیا ہے
پھر رشتوں کا تیوہار کیسا
اور تیوہار میں رشتہ کیسا ؟
نوین